وَ قَالَ الَّذِی اشْتَرٰىهُ مِنْ مِّصْرَ لِامْرَاَتِهٖۤ اَكْرِمِیْ مَثْوٰىهُ عَسٰۤى اَنْ یَّنْفَعَنَاۤ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًاؕ-وَ كَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ٘-وَ لِنُعَلِّمَهٗ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِؕ-وَ اللّٰهُ غَالِبٌ عَلٰۤى اَمْرِهٖ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ(۲۱)

اور مصر کے جس شخص نے اسے خریدا وہ اپنی عورت سے بولا (ف۴۹) انہیں عزت سے رکھ(ف۵۰) شاید ان سے ہمیں نفع پہنچے(ف۵۱)یا ان کو ہم بیٹا بنالیں(ف۵۲)اور اسی طرح ہم نے یوسف کو اس زمین میں جماؤ (رہنے کو ٹھکانا)دیا اور اس لیے کہ اسے باتوں کا انجام سکھائیں(ف۵۳)اور اللہ اپنے کام پر غالب ہے مگر اکثر آدمی نہیں جانتے

(ف49)

جس کا نام زلیخا تھا ۔

(ف50)

قیام گاہ نفیس ہو لباس و خوراک اعلی قسم کی ہو ۔

(ف51)

اور ہمارے کاموں میں اپنے تدبُّر و دانائی سے ہمارے لئے نافع اور بہتر مددگار ہوں اور امورِ سلطنت و مُلک داری کے سر انجام میں ہمارے کام آئیں کیونکہ رُشد کے آثار ان کے چہرے نمودار ہیں ۔

(ف52)

یہ قطفیر نے اس لئے کہا کہ اس کے کوئی اولاد نہ تھی ۔

(ف53)

یعنی خوابوں کی تعبیر ۔

وَ لَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗۤ اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًاؕ-وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ(۲۲)

اور جب اپنی پوری قوت کو پہنچا (ف۵۴) ہم نے اسے حکم اور علم عطا فرمایا (ف۵۵) اور ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں نیکوں کو

(ف54)

شباب اپنی نہایت پر آیا اور عمرشریف بقول ضحاک بیس سال کی اور بقول سدی تیس کی اور بقول کلبی اٹھارہ اور تیس کے درمیان ہوئی ۔

(ف55)

یعنی علم باعمل اور فقاہت فی الدین عنایت کی ۔ بعض عُلَماء نے کہا کہ حکم سے قولِ صواب اور علم سے تعبیرِ خواب مراد ہے ۔ بعض نے فرمایا علم حقائقِ اشیاء کا جاننا اور حکمت علم کے مطابق عمل کرنا ہے ۔

وَ رَاوَدَتْهُ الَّتِیْ هُوَ فِیْ بَیْتِهَا عَنْ نَّفْسِهٖ وَ غَلَّقَتِ الْاَبْوَابَ وَ قَالَتْ هَیْتَ لَكَؕ-قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اِنَّهٗ رَبِّیْۤ اَحْسَنَ مَثْوَایَؕ-اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ(۲۳)

اور وہ جس عورت (ف۵۶) کے گھر میں تھا اس نے اسے لبھایا کہ اپنا آ پا نہ روکے (ف۵۷) اور دروازے سب بند کردئیے (ف۵۸)اور بولی آؤ تمہیں سے کہتی ہوں (ف۵۹)کہا اللہ کی پناہ (ف۶۰)وہ عزیز تو میرا رب یعنی پرورش کرنے والا ہے اس نے مجھے اچھی طرح رکھا (ف۶۱) بےشک ظالموں کا بھلا نہیں ہوتا

(ف56)

یعنی زلیخا ۔

(ف57)

اور اس کے ساتھ مشغول ہو کر اس کی ناجائز خواہش کو پورا کریں ۔ زلیخا کے مکان میں یکے بعد دیگرے سات دروازے تھے اس نے حضرت یوسف علیہ السلام پر تو یہ خواہیش پیش کی ۔

(ف58)

مقفل کر ڈالے ۔

(ف59)

حضرت یوسف علیہ السلام نے ۔

(ف60)

وہ مجھے اس قباحت سے بچائے جس کی تو طلب گار ہے ۔ مدعا یہ تھا کہ یہ فعل حرام ہے میں اس کے پاس جانے والا نہیں ۔

(ف61)

اس کا بدلہ یہ نہیں کہ میں اس کے اہل میں خیانت کروں جو ایسا کرے وہ ظالم ہے ۔

وَ لَقَدْ هَمَّتْ بِهٖۚ-وَ هَمَّ بِهَا لَوْ لَاۤ اَنْ رَّاٰ بُرْهَانَ رَبِّهٖؕ-كَذٰلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوْٓءَ وَ الْفَحْشَآءَؕ-اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِیْنَ(۲۴)

اور بےشک عورت نے اس کا ارادہ کیا اور وہ بھی عورت کا ارادہ کرتا اگر اپنے رب کی دلیل نہ دیکھ لیتا (ف۶۲) ہم نے یوں ہی کیا کہ اس سے برائی اور بے حیائی کو پھیر دیں(ف۶۳)بےشک وہ ہمارے چنے ہوئے بندوں میں سے ہے(ف۶۴)

(ف62)

مگر حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام نے اپنے ربّ کی برہان دیکھی اور اس ارادۂ فاسدہ سے محفوظ رہے اور برہان عصمتِ نبوّت ہے ۔ اللہ تعالی نے انبیاء علیہم الصلٰوۃ و السلام کے نفوسِ طاہرہ کو اخلاقِ ذمیمہ و افعالِ رذیلہ سے پاک پیدا کیا ہے اور اخلاقِ شریفہ طاہرہ مقدسہ پر ان کی خِلقت فرمائی ہے اس لئے وہ ہر ناکردنی فعل سے باز رہتے ہیں ۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ جس وقت زلیخا آپ کے در پے ہوئی اس وقت آپ نے اپنے والد ماجد حضرت یعقوب علیہ السلام کو دیکھا کہ انگُشتِ مبارک دندانِ اقدس کے نیچے دبا کر اجتِناب کا اشارہ فرماتے ہیں ۔

(ف63)

اور خیانت و زنا سے محفوظ رکھیں ۔

(ف64)

جنہیں ہم نے برگزیدہ کیا ہے اور جو ہماری طاعت میں اخلاص رکھتے ہیں ۔ الحاصل جب زلیخا آپ کے درپے ہوئی تو حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام بھاگے اور زلیخا ان کے پیچھے انہیں پکڑنے بھاگی ۔ حضرت جس جس دروازے پر پہنچتے جاتے تھے اس کا قُفل کھل کر گرتا چلا جاتا تھا ۔

وَ اسْتَبَقَا الْبَابَ وَ قَدَّتْ قَمِیْصَهٗ مِنْ دُبُرٍ وَّ اَلْفَیَا سَیِّدَهَا لَدَا الْبَابِؕ-قَالَتْ مَا جَزَآءُ مَنْ اَرَادَ بِاَهْلِكَ سُوْٓءًا اِلَّاۤ اَنْ یُّسْجَنَ اَوْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۲۵)

اور دونوں دروازے کی طرف دوڑے(ف۶۵)اور عورت نے اس کا کر تا پیچھے سے چیر لیا اور دونوں کو عورت کا میاں(ف۶۶) دروازے کے پاس ملا (ف۶۷) بولی کیا سزا ہے اس کی جس نے تیری گھر والی سے بدی چاہی (ف۶۸) مگر یہ کہ قید کیا جائے یا دکھ کی مار (ف۶۹)

(ف65)

آخر کار زلیخا حضرت تک پہنچی اور اس نے آپ کا کُرتا پیچھے سے پکڑ کر آپ کو کھینچا کہ آپ نکلنے نہ پائیں مگر آپ غالب آئے ۔

(ف66)

یعنی عزیزِ مِصر ۔

(ف67)

فوراً ہی زلیخا نے اپنی براءت ظاہر کرنے اور حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام کو اپنے مکر سے خائف کرنے کے لئے حیلہ تراشا اور شوہر سے ۔

(ف68)

اتنا کہہ کر اسے اندیشہ ہوا کہ کہیں عزیز طیش میں آ کر حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام کے قتل کے درپے نہ ہو جائے اور یہ زلیخا کی شدّتِ مَحبت کب گوارا کر سکتی تھی اس لئے اس نے یہ کہا ۔

(ف69)

یعنی اس کو کوڑے لگائے جائیں ۔ جب حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام نے دیکھا کہ زلیخا الٹا آپ پر الزام لگاتی ہے اور آپ کے لئے قید و سزا کی صورت پید ا کرتی ہے تو آپ نے اپنی براءت کا اظہار اور حقیقتِ حال کابیان ضروری سمجھا اور ۔

قَالَ هِیَ رَاوَدَتْنِیْ عَنْ نَّفْسِیْ وَ شَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ اَهْلِهَاۚ-اِنْ كَانَ قَمِیْصُهٗ قُدَّ مِنْ قُبُلٍ فَصَدَقَتْ وَ هُوَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ(۲۶)

کہا اس نے مجھ کو لبھایا کہ میں اپنی حفاظت نہ کروں (ف۷۰) اور عورت کے گھر والوں میں سے ایک گواہ نے (ف۷۱) گواہی دی اگر ان کا کر تا آ گے سے چرا ہے تو عورت سچی ہے اور انہوں نے غلط کہا (ف۷۲)

(ف70)

یعنی یہ مجھ سے فعلِ قبیح کی طلب گار ہوئی میں نے اس سے انکار کیا اور میں بھاگا ۔ عزیز نے کہا یہ بات کس طرح باور کی جائے ؟ حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام نے فرمایا کہ گھر میں ایک چار مہینے کا بچہ پالنے میں تھا جو زلیخا کے ماموں کا لڑکا ہے اس سے دریافت کرنا چاہیئے ، عزیز نے کہا کہ چار مہینے کا بچہ کیا جانے اور کیسے بولے ؟ حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام نے فرمایا کہ اللہ تعالٰی اس کو گویائی دینے اور اس سے میری بے گناہی کی شہادت ادا کرا دینے پر قادِر ہے ، عزیز نے اس بچہ سے دریافت کیا قدرتِ الٰہی سے وہ بچہ گویا ہوا اور اس نے حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلا م کی تصدیق کی اور زلیخا کے قول کو باطل بتایا چنانچہ اللہ تعالٰی فرماتا ہے ۔

(ف71)

یعنی اس بچے نے ۔

(ف72)

کیونکہ یہ صورت بتانی ہے کہ حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام آگے بڑھے اور زلیخا نے ان کو دفع کیا تو کُرتا آگے سے پھٹا ۔

وَ اِنْ كَانَ قَمِیْصُهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ فَكَذَبَتْ وَ هُوَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ(۲۷)

اور اگر ان کا کر تا پیچھے سے چاک ہوا تو عورت جھوٹی ہے اور یہ سچے (ف۷۳)

(ف73)

اس لئے کہ یہ حال صاف بتاتا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام اس سے بھاگتے تھے اور زلیخا پیچھے سے پکڑتی تھی اس لئے کُرتا پیچھے سے پھٹا ۔

فَلَمَّا رَاٰ قَمِیْصَهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ قَالَ اِنَّهٗ مِنْ كَیْدِكُنَّؕ-اِنَّ كَیْدَكُنَّ عَظِیْمٌ(۲۸)

پھر جب عزیز نے اس کا کر تا پیچھے سے چرا دیکھا (ف۷۴) بولا بےشک یہ تم عورتوں کا چَرِتْر(فریب)ہے بےشک تمہاراچَرِتْر(فریب)بڑا ہے (ف۷۵)

(ف74)

اور جان لیا کہ حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام سچے ہیں اور زلیخا جھوٹی ہے ۔

(ف75)

پھر حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام کی طرف متوجہ ہو کر عزیز نے اس طرح معذرت کی ۔

یُوْسُفُ اَعْرِضْ عَنْ هٰذَاٚ-وَ اسْتَغْفِرِیْ لِذَنْۢبِكِ ۚۖ-اِنَّكِ كُنْتِ مِنَ الْخٰطِـٕیْنَ۠(۲۹)

اے یوسف تم اس کا خیال نہ کرو (ف۷۶) اور اے عورت تو اپنے گناہ کی معافی مانگ (ف۷۷) بےشک تو خطاواروں میں ہے (ف۷۸)

(ف76)

اور اس پر مغموم نہ ہو بے شک تم پاک ہو اور اس کلام سے یہ بھی مطلب تھا کہ اس کا کسی سے ذکر نہ کرو تاکہ چرچا نہ ہو اور شہرہ عام نہ ہو جائے ۔

فائدہ : اس کے علاوہ بھی حضرت یوسف علیہ السلام کی براءت کی بہت سی علامتیں موجود تھیں ، ایک تو یہ کہ کوئی شریف طبیعت انسان اپنے محسِن کے ساتھ اس طرح کی خیانت روا نہیں رکھتا ، حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام بایں کرامتِ اخلاق کس طرح ایسا کر سکتے تھے ، دوئم یہ کہ دیکھنے والوں نے آپ کو بھاگتے آتے دیکھا اور طالب کی یہ شان نہیں ہوتی وہ درپے ہوتا ہے بھاگتا نہیں ، بھاگتا وہی ہے جو کسی بات پر مجبور کیا جائے اور وہ اسے گوارا نہ کرے ، سوم یہ کہ عورت نے انتہا درجہ کا سنگار کیا تھا اور وہ غیر معمولی زیب و زینت کی حالت میں تھی ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رغبت و اہتمام مَحض اس کی طرف سے تھا ، چہارم حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و التسلیمات کا تقوٰی و طہارت جو ایک دراز مدّت تک دیکھا جا چکا تھا اس سے آپ کی طرف ایسے امرِ قبیح کی نسبت کسی طرح قابلِ اعتبار نہیں ہو سکتی تھی پھر عزیزِ مِصر زلیخا کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگا ۔

(ف77)

کہ تو نے بے گناہ تہمت لگائی ۔

(ف78)

عزیزِ مِصر نے اگرچہ اس قصّہ کو بہت دبایا لیکن یہ خبر چُھپ نہ سکی اور اس کا چرچا اورشہرہ ہو ہی گیا ۔