خاص کر پاک وہند میں موجود مساجد و مدارس کے حالات دیکھ کر یہ زبردست موصول شدہ تحریر شیئر کررہاہوں،

ایک بار توجہ سے اس تحریر کو ضرور پڑھیں،

عرض گزار:-حافظ محمد سجاد برکاتی

امام، کنواں اور دودھ کی بالٹی

کہتے ہیں ایک بادشاہ نے وزیر سے پوچھا: کوٸی ایسا طریقہ بتاٶ کہ ہمیں پتا چل جاۓ کہ ہماری رعایا ہم سے کتنی مخلص ہے؟ تو وزیر نے کہا: بادشاہ سلامت! شہر میں اعلان کروادیں کہ شاہی محل کے پیچھے جو کنواں خشک ہوچکا ہے تمام لوگ آج رات اس میں ایک ایک بالٹی دودھ کی ڈال دیں اس سے پتا چل جاۓ گا کہ یہ رعا آپ کے ساتھ کتنی مخلص ہے؟ بادشاہ بولا: اس سے کیسے پتا چلے گا؟ وزیر نے عرض کی:اس کا جواب صبح کنواں دیکھ کر پتا لگ جاۓ گا۔

بادشاہ نے پورے شہر میں یہ اعلان کروادیا۔ صبح ہوٸی تو بادشاہ وزیر کو لے کر کنویں پر پہنچا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ خشک کنواں اوپر تک پانی سے بھرا ہوا ہے۔۔ وزیر نے کہا: بادشاہ سلامت ہر شہری نے یہی سوچا کہ سارا شہر دودھ کی بالٹیاں ڈالے گا تو میرے ایک بالٹی پانی ڈالنے سے کچھ فرق نہیں پڑے گا یہ سوچ کر سارے ہی شہریوں نے دودھ کے بجاۓ پانی ڈال دیا۔

کچھ یہی حال “ڈیڑھ سمجھ داروں” کا ہے، وہ بھی سوچ لیتے ہیں کہ مسجد کے عملے کی خدمت تو پورا محلہ کرتا ہے اگر میں اکیلا نہیں کروں گا تو کیا فرق پڑے گا،امام مٶذن اور خادمین کی خدمت تو سارے نمازی کرتے ہیں۔۔۔۔۔ ذرا غور کیجیے کہ اگر سارے علاقے والے اور تمام مقتدی یہی سوچ لیں تو نتیجہ کیا نکلے گا؟ یہی نا کہ خالی کنواں پانی سے بھرجاۓ گا اور دودھ کی ایک بالٹی بھی نہیں ڈالی جاۓ گی۔۔ کہیں ماہ رمضان میں آپ نے بھی یہی تو نہیں سوچ لیا؟

یاد رکھیں مسجدوں کے اکثر امام موذن اور خادمین خود داری، غیرت اور شرم و حیا کے سبب آپ سے تقاضے نہیں کرتے (انہیں کرنا بھی یہی چاہیے کہ غیرت و خود داری کا عظیم پیکر بنے رہیں، جو ملتا ہے اس پر راضی خوشی قناعت کریں) مگر بنیادی ضرورتیں ان کی بھی ہوتی ہیں لہذا آپ جس مسجد میں نماز پڑھتے ہیں وہاں کے معزز عملے کی حسب حیثیت نہ صرف ماہ رمضان میں بلکہ پورا سال خدمت کرتے رہیں بالخصوص لاک ڈاٶن کی موجودہ صورتحال میں اس سفید پوش طبقے کا زیادہ خیال رکھیں مگر یہ خدمت خاموشی سے ہونی چاہیے۔۔۔۔ ورنہ اگر خدمت کرکے ڈھنڈورا پیٹنا ہے تو ایسی خدمت کرنے کی کوٸی ضرورت نہیں کیونکہ اس طبقے کی بھی عزت نفس ہے۔۔۔ امام مٶذن اور خادمین مسجد کو بھی ایسے شہرت پسند لوگوں اور ان کی خدمت سے محتاط رہنا چاہیے۔۔۔۔

آخر میں بس اتنا سمجھ لیں کہ جو اسلام کی خدمت کر رہا ہے اس کی خدمت کرنا ہمارے لیے بڑی سعادت و خوش بختی ہے اور یہ کہ اگر ہم قرآن پاک کے عالم و حافظ نہیں بن سکے تو کیا ہوا، علماکرام وحفاظ عظام کی خدمت تو کرسکتے ہیں۔۔۔

امام غزالی علیہ الرحمہ کے والد صاحب علماۓ کرام سے ملاقات کرتے اور حسب حیثیت ان کی خدمت کرتے اس کی برکت سے اللہ پاک نے ان کے دونوں بیٹوں کو دنیاۓ اسلام کے عظیم و نامور علما بنا دیا۔۔

امام محمد غزالی۔۔۔امام احمد غزالی۔۔۔۔۔رحمة اللہ علیہما