أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اِنَّا لَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ مَنۡ اَحۡسَنَ عَمَلًا‌ ۞

ترجمہ:

بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے، یقینا ہم ان لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے جنہوں نے نیک کام کئے ہوں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے یقینا ہم ان لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے جنہوں نے نیک کام کئے ہوں، ان کے لئے دائمی جنتیں ہیں جن کے نیچے سے دریا بہتے ہیں، انہیں وہاں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے وہ وہاں ریشم کے ہلکے اور دبیز سبز کپڑے پہنیں گے اور وہ وہاں مسندوں پر تکیے لگائے ہوئے ہوں گے، کیسا اچھا اجر ہے اور وہ جنت کیسی اچھی آرام کی جگہ ہے۔ (الکھف :30-31)

جنت کی اجمالی نعمتیں 

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے دوزخ کے عذاب کا بیان فرمایا تھا جو قیامت کے دن مشرکوں اور کافروں کو دیا جائے گا اور ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے جنت کے ثواب اور اس کی نعمتوں کا بیان فرمایا ہے جو ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کو دیا جائے گا کیونکہ ہر چیز اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہے۔ نور، ظلمت سے اور دن، رات سے پہچانا جاتا ہے، اسی طرح مومنین اور ان کا ثواب کافروں اور ان کے عذاب سے پہچانا جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے ایمان اور نیک اعمال کا الگ الگ ذکر کیا ہے اور نیک اعمال کا ایمان پر عطف کیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اعمال ایمان کا غیر ہیں اور اعمال ایمان کا جز نہیں ہیں اور یہی امام ابوحنیفہ (رح) کا مذہب ہے۔ البقرہ : ٣ میں ہم اس کی مکمل تفصیل کرچکے ہیں۔

اس آیت میں فرمایا یقینا ہم ان لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے جنہوں نے نیک کام کئے ہوں۔ اس آیت میں اجمالی طور پر فرمایا ہے کہ ہم نیک کام کرنے والوں کو آخرت میں اجر عطا فرمائیں گے اور اس کی تفصیل بعد والی آیت میں ذکر فرمائی ہے۔

جنت کی تفصیل نعمتیں 

فرمایا ان کے لئے جنات عدن ہیں، جن کے نیچے سے دریا بہتے ہیں۔ علامہ ابن سیدہ نے لکھا ہے کہ عدن کا معنی ہے کسی جگہ اقامت کرنا اور جنات عدن کا معنی ہے دائمی جنتیں۔ (المحکم والمحیط الاعظم ج ٢ ص 18)

پھر فرمایا انہیں وہاں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے۔ اس آیت میں اساور من ذھب کے الفاظ ہیں اور ایک اور آیت میں ہے : وحلوا اساور من فضۃ (الدھر :21) اور انہیں چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے اور ایک اور آیت میں ہے۔ یخلون فیھا من اساور من ذھب ولولوا۔ (الحج :23) ان کو سونے اور موتی کے کنگن پہنائے جائیں گے۔

جنت میں مسلمانوں کو بنائو سنگھار کا لباس بھی پہنایا جائے گا اور ستر پوشی کا لباس بھی پہنایا جائے گا۔ سابقہ آیتوں میں اس لباس کا ذکر تھا جو بننے سنورنے کے اعتبار سے تھا اور اس کے بعد اس لباس کا ذکر فرمایا جو ستر پوشی کے اعتبار سے ہے۔ فرمایا : ان کو ایسا لباس پہنایا جائے گا جو سبز رنگ کے سندس اور استبرق کا ہوگا۔ سندس سے مراد پتلا اور ملائم ریشم ہے اور استبرق سے مراد دبیز اور موٹا ریشم ہے۔ اس کے بعد ان کی نشست گاہوں کا ذکر فرمایا کہ وہ تخت پر بیٹھے ہوں گے اور ان پر تکیے لگے ہوں گے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 18 الكهف آیت نمبر 30