برکات رمضان سے محروم لوگ

تحریر: ظفر احمد خان
رمضان المبارک میں لوگوں کے احوال و کوائف پر آپ غور کریں گے تو تین قسم کے لوگ آپ کو ملیں گے، اول وہ لوگ جو نیکیوں میں سبقت کرتے ہوئے ایمان و احتساب کے ساتھ روزے رکھتے ہیں کھانے پینے سے رکنے کے ساتھ ساتھ نفسانی خواہشات سے بھی دور رہتے ہیں ان کے اعضا و جوارح گناہوں سے باز رہتے ہیں فرائض و واجبات کی ا ہمیت کو سمجھ کر اس پر عمل پیرا رہتے ہیں سنتوں کا اہتمام کرتے ہیں مفسدات سے اجتناب کا اہتمام کرتے ہیں اور ماہ مقدس کے خیر فضائل کو خوب سمیٹنے کی کوشش کرتے ہیں، دوسرے وہ لوگ جو روزے رکھتے ہیں اور روزے کو ظاہر کرنے والے افعال و اعمال سے اجتناب کرتے ہیں فرائض واجبات کا اہتمام کرتے ہیں اللہ کی مرضی اور خواہش کے مطابق روزے رکھتے ہیں لیکن اتباع سنت میں اعلی درجے کی پابندی نہ ہونے کی وجہ سے اجتہاد عزیمت کے درجے کو نہیں پا سکتے لہذا ان کو ان کی کوشش اور نیت کے مطابق رحمتوں اور برکتوں سے حصہ ضرور ملے گا، اور تیسرے وہ لوگ جو ماہ مقدس کے قدرومنزلت اس کی شان کے مطابق نہیں کرتے اس کے عظمت و فضائل کو نہیں پہچانتے روزوں کا اہتمام عادت کے طور پر عبادت کے طور پر ان کے روزے ان کو گناہوں سے نہیں روکتے ان کا روزہ صرف کھانے پینے سے رکنے کا نام ہی رہتا ہے یہی لوگ رمضان کی برکتوں سے محروم اور خیر سے غافل لوگ ہیں، اس محرومی اور غفلت کے اسباب کیا ہیں؟
ماہ مقدس کے فضائل وبرکات سے لا علمی: رمضان المبارک جیسے مقدس، بابرکت، پر عظمت اور مغفرت والے مہینے سے محرومی اور اس کے خیر و برکات سے غفلت کی سب سے بڑی وجہ اس کے فضائل و برکات سے لا علمی ہے، اگر اس کی عظمتوں کی معرفت ہوتی، اس پر کامل یقین ہوتا تو اس کے فیوض سے اکتساب کرتے، ان کے قلوب حصول برکات کے لئے کوشاں ہوتے اور پھر انہیں ادراک ہو جاتا کہ رمضان المبارک حصول رحمت و مغفرت،رفع درجات، گناہوں کی معافی، نیکیوں کی قیمت میں اضافہ، اجر و ثواب کو سمیٹنے کا زریں موقع، ایک ہی رات میں ہزار مہینوں کی عبادت کا اجر پانے کا موقع اور جہنم سے آزادی کا ایک عظیم موقع ہے تو پھر  اسے ضائع ہونے سے بچانے، اس سے اپنا حصہ پانے کی حتی المقدور کوشش کرتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بدبخت ہے وہ جس نے رمضان پایا اوریہ مہینہ اس سے نکل گیا اور وہ اس میں( نیک اعمال کرکے) اپنی بخشش نہ کرواسکا۔رمضان المبارک میں محروم ہونے والوں کی محرومی کا اندازہ ان احادیث سے لگایا جاسکتا ہے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس شخص کی ناک خاک آلود ہو جس نے رمضان پایا اور اس کی بخشش نہ ہوئی، دوسری جگہ ارشاد ہے: دوری ہو اس کے لئے جس نے رمضان پایا اور وہ نہیں بخشا گیا، مزید فرمایا: جس نے رمضان کا مہینہ پایا ، اس کی مغفرت نہ ہوئی اور وہ جہنم میں داخل ہوا اسے اللہ دور کرے گا، ایک اور موقع سے ارشاد ہوا : جس نے رمضان کا مہینہ پایا ، مرگیا ، اس کی مغفرت نہیں ہوئی اور وہ جہنم میں داخل کردیا گیا اسے اللہ اپنی رحمت سے دور کردے گا.
صرف کھانے پینے سے رکنے کا روزہ : رمضان سے محروم لوگوں کا دوسرا وصف روزہ کے نام پر صرف اور صرف کھانے پینے سے رک جانا ہے، چنانچہ روزے کی حالت میں بھی وہ لایعنی باتوں، غیبت و بہتان،خیانت ، گالی گلوچ، دھوکا دہی،  بدگمانی، بغض و کینہ، حسد، بد نظری، حرام چیزوں کو دیکھنے، فلموں اور سیریلز میں وقت ضائع کرنے اور چوری وغیرہ سے باز نہیں رہے، یعنی ان کے روزے کا صرف اور صرف ایک ہی مقصد تھا اور وہ ہے کھانے سے رک جانا، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اگر کوئی شخص جھوٹ بولنا اور دغا بازی کرنا (روزے رکھ کر بھی) نہ چھوڑے تو اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے۔(بخاری)،  یعنی اگر روزہ دار کھانے ، پینے اور جماع سے تو رک جائے مگر اپنے اعضاء و جوارح کو کھلا چھوڑ دے اور محرمات کا ارتکاب کرتا پھرے تو اس نے روزے کی غرض اور اس کا مقصود حاصل نہیں کیا، مقصود تو یہ ہے کہ انسان ان چیزوں سے دور رہے جن کو اللہ نے اس کیلئے حرام قرار دیا ہے، چاہے وہ ایسے امور ہوں جو عام طور پر تو اس کیلئے مباح ہیں مگر اس خاص وقت کیلئے حرام کئے گئے ہیں، یا ایسے امور ہوں جو کلی طور پر حرام ہیں جیسے غیبت، جھوٹی گواہی، جھوٹ، حرام اشیاء کا سننا اور حرام کی طرف دیکھنا وغیرہ، ایسے لوگوں کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے”کتنے روزہ دار ایسے ہیں جنہیں انکے روزہ سے بھوک و پیاس کے سواکچھ نہیں ملتا، اور کتنے تہجد گزار ایسے ہیں جن کے تہجد سے انکو شب بیداری کے سوا کچھ نہیں ملتا(مسند دارمی).
قرآن سے دوری: رمضان المبارک کے فیوض و برکات سے محروم لوگوں کی ایک صفت قرآن سے دوری ہے الا کے رمضان اپنے دیگرخوبیوں کے ساتھ قرآن اور ذکر و اذکار کا مہینہ ہے اسی مہینے میں قرآن مجید کا نزول ہوا اسی مقدس مہینے میں جبریل علیہ السلام اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دور کراتے تھے رمضان سے محروم لوگ اس مہینے میں قرآن سے لاتعلق رہے قرآن کی تلاوت اس کو سننے سنانے اس کے حلقات میں حاضری اور تعلیم و تعلم سے دور رہے کبھی ان کی سماعت ہے گانے اور موسیقی سے محظوظ ہوتی رہی لا یعنی باتوں باتوں اور دوسروں  کی  غیبت و چغلی سے انہیں کوئی فرق نہیں پڑا اب جس کی یہ حالت ہو بلاشبہ وہ رمضان اور قرآن دونوں کی برکات سے محروم رہ گیا، ہمارے اسلاف بزرگان دین اولیاء کرام اور علماء و مشائخ رمضان میں قرآن کی تلاوت اس کی تدریس، تعلیم و تعلم اور اس کے تفہیم و تدبر کا بڑا اہتمام کرتے تھے، بعض اسلاف اور بزرگان دین رضی اللہ عنہم کے متعلق ملتا ہے کہ وہ قرآن کو تین راتوں میں سات راتوں میں اور بعض بزرگان دس راتوں میں مکمل کرنے کا اہتمام کرتے تھے، قرآن قوموں کی بلندی و پستی کا ذریعہ ہے، یہ  اپنے پڑھنے والوں کے لئے قیامت کے دن سفارشی ہے، ایسی عظیم نعمت سے محرومی وہ بھی رمضان المبارک جیسے مقدس مہینے میں عظیم محرومی ہے، ایسی محرومی سے ہم لوگوں کو بچنا چاہیے اور  اللہ کی پناہ مانگنا چاہیے.
 نماز میں سستی و کاہلی: نماز اسلام کا ایک اہم ستون ہے جس کے بغیر اسلام کے عمارت قائم نہیں ہوسکتی، رمضان کی برکتوں سے محرومین کا ایک وصف یہ بھی ہے کہ وہ نماز کا اہتمام نہیں کرتے بہت ہی کسمساتے ہوئے نماز کو حاضر ہوتے ہیں بعض نمازکےاوقات سو جاتے ہیں، بعض میں پیچھے رہ جاتے ہیں اور جماعت کا اہتمام نہیں کرتے، ان سب کا ایک بڑا سبب راتوں کو جاگنا اور دن کو زیادہ سونا بھی ہے، دین کے اس بڑے ستون اور عظیم فریضے سے غفلت بھی برکات رمضان سے محرومی کا سبب ہے حدیث میں جان بوجھ کر نماز چھوڑنے کو کفر کہا گیا ہے، دوسرے اعمال کی قبولیت کا دارومدار بھی نماز کی قبولیت پر ہے، لہذا رمضان میں خاص طور سے اور غیر رمضان میں بھی نماز کا خصوصی اہتمام کرنا چاہئے اس کے بغیر ایک مسلمان کی زندگی نامکمل اور ناکام ہے.
 راتیں لہو ولعب میں گزارنا: رمضان سے محرومین کی ایک صفت راتوں کو بےوجہ جاگنا اور فضول کی محفلیں جمانے میں گزارنا ہے، عبادات ذکر اذکار اور تلاوت میں گزارنے کے بجائے گیم کھیلنے، فلمیں دیکھنے، گانے سننے،  کھیل کود میں مشغول رہنا ہے، جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے جس نے رمضان المبارک میں ایمانوں کہتے صاحب کے ساتھ قیام کیا اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں.(بخاری) ، رمضان سے محرومین راتوں کو اس طرح کھیل کود اور غفلت میں گزار دیتے ہیں اک دن کی روشنی میں انہوں نے جو نیکیاں سمیٹ رکھی تھیں راتوں کے اعمال کے ذریعے اس کو ضائع کردیا اور دن میں دن گناہوں سے باز رہے انہوں کو راتوں میں انجام دے دیا جبکہ رمضان کی راتیں آگ سے سے خلاصی کا ذریعہ ہیں جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے، "جب ماہ رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو شیطانوں اور سرکش جنوں کو بیڑیاں پہنا دی جاتی ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور ان میں سے کوئی دروازہ کھولا نہیں جاتا جبکہ جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور ان میں سے کوئی دروازہ بند نہیں کیا جاتا۔ ایک منادی پکارتا ہے : اے طالب خیر! آگے آ، اے شر کے متلاشی! رک جا۔ اﷲ تعالیٰ کئی لوگوں کو جہنم سے آزاد کر دیتا ہے اور ماہ رمضان کی ہر رات یونہی ہوتا رہتا ہے”۔(ترمذی)،  اب سوال یہ ہے کہ یہ آزاد کیے جانے والے کون لوگ ہیں؟ وہ لوگ جنہوں نے دن میں روزہ رکھا اور جب رات آئے تو اللہ کی رحمت کی امید کرتے ہوئے اس کے عذاب سے ڈرتے ہوئے اللہ کے حضور سجدے میں گر گئے؟ یا وہ لوگ جو ان چیزوں سے غافل بازاروں کی زینت بنے رہے برائیوں اور منکرات میں مشغول رہے ان کے اعضاء و جوارح نے اللہ کو ناراض کر دینے والے اعمال و فعل کو انجام دیا اور انہوں نے رمضان کی کماحقہٗ قدر نہیں کی؟ ظاہر ہے جواب واضح ہے کہ پہلی قسم کے لئے لوگوں کو ہی اللہ تعالی کی طرف سے آزادی ملتی ہے، لہذا گنتی کی چند مقدس راتیں قیام، عبادات،  ذکر و اذکار اور اللہ کی یاد سے معمور کر کے ان کو جہنم سے آزادی کا ذریعہ بنا لینا چاہیے اور اس محرومی سے بچنے کی کوشش کرنی چاہئے جس کے متعلق رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "یہ جو ماہ تم پر آیا ہے، اس میں ایک ایسی رات ہے، جو ہزار ماہ سے افضل ہے‘ جو شخص اس رات سے محروم رہ گیا، گویا وہ سارے خیر سے محروم رہا اور اس رات کی بھلائی سے وہی شخص محروم رہ سکتا ہے جو واقعتا محروم ہو۔ (ابن ماجہ
 سو کر دن گزارنا: رمضان سے محروم لوگوں کی ایک عادت رمضان کے دنوں کو سو کر گزارنا ہے، اس عمل سے وہ نمازوں کو ضائع کرنے کے ساتھ ساتھ تلاوت قرآن اور ذکراذکار کرنے اور اس کے اجر سے محروم رہتے ہیں، اسی طرح زیادہ سونے کی وجہ سے دلوں میں سختی آ جاتی ہے اور کثرت نوم جسمانی کمزوری کا بھی سبب ہے،  بعض لوگ جاگتے ہیں لیکن بے کار کے کاموں میں مشغول رہ کر وقت کو ضائع کر دیتے ہیں، حالانکہ کے رمضان مبارک صبرو احتساب اور عبادت کا مہینہ ہے اس کی رحمتوں برکتوں اور فیوض و برکات سے فائدہ اٹھانے کے لئے بھوک پیاس پر قابو رکھنے کے ساتھ ساتھ نفسانی خواہشات کا بھی قلع قمع کرنا چاہیے، زیادہ سے زیادہ خیر کی طلب کرنی چاہیے اور سارے دن مسلسل سوئے رہنا روزے دار کی زيادتی ہے، اورپھر خاص کررمضان المبارک کے مبارک مہینہ میں ، جوکہ ایک شرف وقدر والا مہینہ ہے چاہیۓ تویہ کہ مسلمان اس کے اوقات سے مستفید ہو اورقرآن مجید کی تلاوت کرے اورروزی تلاش کرنے کے ساتھ ساتھ علم شرعی بھی حاصل کرے، اللہ تعالی سے اس مہینے میں روزہ رکھنے قیام کرنے اور اور زیادہ سے زیادہ عبادات کی توفیق طلب کرنی چاہیے، وہی توفیق بخشنے والا ہے۔