زکوٰۃ سے متعلق چند ضروری مسائل

زکوٰۃ شریعت میں اللہ تعالیٰ کے لئے مال کے ایک حصہ کا جو شرع نے مقررکیا ہے، مسلمان حاجتمند کو مالک کر دینے کو کہتے ہیں۔

٭ وہ مال جو تجارت کے لئے رکھا ہوا ہے اسے دیکھا جائے کہ اس کی قیمت، ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑے باون تولہ چاندی کے برابر ہو تو اس مال تجارت کی زکوٰۃ ادا کرنا فرض ہے۔ مال تجارت سے مراد ہر قسم کا سامان ہے خوا ہ وہ غلہ و غیرہ کے جنس سے ہو یا مویشی، گھوڑے بکریاں، گائے و غیرہ۔ اگر یہ اشیا ء بغرض تجارت رکھی ہوئی ہیں تو پورا سال گزرنے کے بعد ان کی زکوٰۃ ادا کرنا فرض ہے۔

٭ اگر مال تجارت بقدر نصاب نہیں ہے لیکن سونا چاندی اور نقد روپیہ موجود ہے تو ان سب کو ملایا جائے گا اگر ان کا مجموعہ بقدر نصاب ہو جائے تو ا س پر زکوٰۃ فرض ہے ورنہ نہیں۔

٭ جو مکانات یا دکانیں کرائے پر دے رکھی ہیں تو ان پر زکوٰۃ نہیں لیکن ان کا کرایہ جمع کرنے کے بعد اگر بقدر نصاب ہو جائے تو اس پر سال گذرنے کے بعد زکوٰۃ فرض ہے۔ ہاں اگر مالک پہلے ہی مالک نصاب ہے تو کرایہ اسی پہلے نصاب میں شامل ہوگا، اور کرایہ کی آمدنی کا علیٰحدہ نصاب شمار نہیں کیا جائے گا۔ اس لئے جب پہلے نصاب پر سال گذر جائے تو کرائے کی رقم بھی اس نصاب میں ملا کر زکوٰۃ ادا کی جائے گی۔

٭ دوکانوں میں مال تجارت رکھنے کے لئے شوکیس، ترازو،الماریاں وغیرہ نیز استعمال کے لئے فرنیچر، سردی، گرمی سے بچائو کے لئے ہیٹر، ایر کنڈیکشنر ز، وغیرہ اور ایسی چیزیں جو خرید و فروخت میں سامان کے ساتھ نہیں دی جاتیں بلکہ خریدو فروخت میں ان سے مدد لی جاتی ہو تو ان پر زکوٰۃ فرض نہیں کیوں کہ یہ تجارت میں حوائج اصلیہ میں شامل ہیں۔

٭ زکوٰۃ فرض ہونے کے لئے مال و دولت کی ایک خاص حد اور متعین مقدار ہے، جس کو شریعت کی اصطلاح میں ’’نصاب‘‘ کہا جاتا ہے، زکوٰۃ اسی وقت فرض ہے جب مال بقدر نصاب ہو، نصاب سے کم مال و دولت پر زکوٰۃ فرض نہیں۔ سونے کا نصاب ساڑھے سات تولہ ہے، اور چاندی کا نصاب ساڑھے باون تولہ ہے۔ اور مال تجارت کا نصا ب یہ ہے کہ اس کی قیمت سونے یا چاندی کے نصاب کے برابر ہو یا سونے، چاندی کی نقد قیمت بصور ت روپئے ہوں۔

٭ زکوٰۃ فرض ہے اس کا منکر کافر اور نہ دینے والا فاسق اور قتل کا مستحق ہے اور ادا میں تاخیر کرنے والا گنہگار اور مردود الشہادۃ ہے۔ (عالمگیری)

٭ زکوٰۃ واجب ہونے کیلئے چند شرطیں ہیں مسلمان ہونا، عاقل ہونا، بالغ ہونا، آزاد ہونا، مال بقدر نصاب اس کی ملکیت میں ہونا، پورے طور پر اس کا مالک ہونا، صاحب نصاب کا قرض سے فارغ ہونا، اس نصاب پر ایک سال کا گزر جانا۔

٭ موتی اورجواہرات پر زکوٰۃ واجب نہیں اگر چہ ہزاروں کے ہوں۔ ہاں اگر تجارت کی نیت سے لی ہے تو زکوٰۃواجب ہو گئی۔ (در مختار )

٭ سال گزرنے سے مراد قمری سال ہے یعنی چاند کے مہینوں سے بارہ مہینے اگر شروع سال اور آخر سال میں نصاب کامل ہے اور درمیان سال میںنصاب ناقص بھی ہوگیا ہو تو بھی زکوٰۃ فرض ہے۔ (عالمگیری)

٭ زکوٰۃ دیتے وقت یا زکوٰۃ کے کے لئے مال علٰحدہ کرتے وقت زکوٰۃ کی نیت شرط ہے۔ نیت کے یہ معنی ہیں کہ اگر پوچھا جائے تو بلا تامل بتا سکے کہ زکوٰۃ ہے۔

٭ سال بھر تک خیرات کرتا رہا اب نیت کی جوکچھ دیا ہے زکوٰۃ ہے تو زکوٰۃ ادا نہ ہوگی۔ مال کو زکوۃ کی نیت سے علیٰحدہ کردینے سے بری الذمہ نہ ہوگا جب تک کہ فقیر کو نہ دیدے یہاں تک کہ وہ جاتارہا تو زکوۃ ساقط نہ ہوئی۔ ( در مختار)

٭ زکوۃ کاروپیہ مردہ کی تجہیز و تکفین یا مسجد کی تعمیر میں نہیں صرف کرسکتے کہ فقیر کو مالک بنانا نہ پایا گیا۔ اگر ان امور میں خرچ کرنا چاہیں تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ فقیرکو مالک کردیں اور وہ صَرف کرے اور ثواب دونوںکو ہوگا۔ بلکہ حدیث پاک میں ہے اگر سوہاتھوں میں صدقہ گزراتو سب کو ویسا ہی ثواب ملے گا جیسا دینے والے کے لئے اور اس کے اجر میں کچھ کمی نہ ہوگی۔ ( ردُّ المختا ر )

٭ زکوٰۃ دینے میں یہ ضروری نہیں کہ فقیر کو زکوۃ کہہ کر دے بلکہ صرف نیتِ زکوٰۃ کافی ہے یہاں تک کہ ہِبہ یاقرض کہہ کر دے اور نیت زکوۃ کی ہوتوبھی اداہوجائے گی۔(عالمگیری )

٭ یوں ہی نذر، ہدیہ یا عیدی یا بچوں کی مٹھائی کھانے کے نام سے دی تب بھی ادا ہوگئی، بعض محتاج ضرورت مند زکوۃ کاروپیہ نہیں لینا چاہتے انہیں زکوۃ کہہ کر دیا جائے گا تو نہیں لیں گے لہٰذازکوۃکا لفظ نہ کہے۔ ( بہار شریعت )

٭ سونے، چاندی کے علاوہ تجارت کی کوئی چیز ہو جس کی قیمت سونے،چاندی کے نصاب کوپہونچے تو ا سپر بھی زکوۃ واجب ہے۔ یعنی قیمت کے چالیسویں حصہ پر زکوۃ واجب ہے۔ ( دُرِ ّ مختار)