الفصل الثانی

دوسری فصل

حدیث نمبر 268

روایت ہے حضرت محمد ابن ابراہیم سے وہ قیس ابن عمرو سے راوی ۱؎ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو فجر کی نماز کے بعد دو رکعتیں پڑھتے دیکھا تو رسول ا ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا صبح کی نماز دو دو رکعتیں پڑھتے ہو ۲؎ اس نے عرض کیا کہ میں نے پہلی دو رکعتیں نہ پڑھیں تھیں وہ اب پڑھ لیں تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے ۳؎(ابوداؤد)اور ترمذی نے اس کی مثل روایت کی اور فرمایا کہ اس کی اسناد متصل نہیں ہے کیونکہ محمد ابن ابراہیم نے قیس ابن عمرو سے نہ سنا ۴؎ اور شرح سنہ اور مصابیح کے نسخوں میں قیس ابن قہد سے اس کی مثل سے۔

شرح

۱؎ حضرت محمد ابن ابراہیم بہت نوعمر تابعی ہیں اور قیس ابن عمرو صحابی انصاری ہیں۔

۲؎ یعنی دوبارہ پڑھتے ہو ابھی میرے ساتھ جماعت سے پڑھ چکے ہو،پھر دوبارہ اکیلے پڑھے رہے ہو یا یہ مطلب ہے کہ کیا صبح کی دو رکعتوں کے بعد دو نفل بھی پڑھتے ہو،حالانکہ تمہیں خبر ہے کہ اس وقت نفل نہیں پڑھ جاتے۔

۳؎ اس حدیث کی بناء پر امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ وغیرہم بزرگوں سے سنت فجر کی قضاء آفتاب نکلنے سے پہلے جائز مانی ہے۔امام صاحب کے ہاں صرف سنت فجر کی قضاء کبھی نہیں ہاں اگر سنتیں مع فرضوں کے رہ گئی ہوں تو دوپہر سے پہلے فرضوں کے تابع ہو کر ان کی بھی قضاء ہوجائے گی جیسا کہ شب تعریس کے واقعہ میں ہوا کیونکہ قضاء صرف واجب یا فرض کی ہوسکتی ہے سنتوں کی قضاء اصول شرعی کے خلاف لہذا یہاں ثبوت ہوگیا صرف وہیں قضاء ہوگی،یہ حدیث منقطع ہے متصل نہیں جیسا کہ خود امام ترمذی فرمارہے ہیں،لہذا اس سے استدلال غلط ہے۱۲

۴؎ یعنی محمد ابن ابراہیم اور قیس ابن عمرو کے درمیان کوئی راوی چھوٹ گیا ہے اور خبر نہیں کہ وہ راوی عادل ہے یا فاسق اس لیے یہ حدیث مجہول ہے اور قابل عمل نہیں،نیز اس حدیث میں یہ پتہ نہ لگا کہ وہ صحابی فجر کے بعد کس وقت سنتیں پڑھ رہے تھے،آفتاب نکلنے سے پہلے یا بعد لہذا حدیث گویا مجمل ہے اور ممانعت صراحۃً آچکی ہے کہ صبح کی نماز کے بعد نماز نہیں۔