أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالَ لَهٗ صَاحِبُهٗ وَهُوَ يُحَاوِرُهٗۤ اَكَفَرۡتَ بِالَّذِىۡ خَلَقَكَ مِنۡ تُرَابٍ ثُمَّ مِنۡ نُّـطۡفَةٍ ثُمَّ سَوّٰٮكَ رَجُلًاؕ ۞

ترجمہ:

اس کے ساتھی نے اس کی بات کا جواب دیتے ہوئے کہا کیا تم اس ذات کا انکار کر رہے ہو جس نے تم کو مٹی سے بنایا پھر نطفہ سے پھر تمہیں مکمل مرد بنایا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اس کے ساتھی نے اس کی بات کا جواب دیتے ہوئے کہا کیا تم اس ذات کا انکار کر رہے ہو جس نے تم کو مٹی سے بنایا، پھر نطفہ سے پھر تمہیں مکمل مرد بنایا، لیکن وہ اللہ ہی میرا رب ہے اور میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بنائوں گا۔ اور ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب تم باغ میں داخل ہوئے تھے تو کہتے جو اللہ نے چاہا وہ ہوا اور اللہ کی مدد کے بغیر کسی کی کوئی طاقت نہیں، اگر تم یہ گمان کرتے ہو کہ میں مال اور اولاد کے لحاظ سے تم سے کم ہوں، تو وہ دن دور نہیں کہ میرا رب مجھے تمہارے باغ سے بہتر عطا فرمائے گا اور تمہارے باغ پر آسمان سے کوئی عذاب بھیج دے تو وہ چٹیل چکنا میدان بن جائے۔ اور اس کا پانی زمین میں دھنس جائے پھر تم اس کو ہرگز تلاش نہ کرسکو۔ (الکھف :37-41)

مسلمان کا کافر کو جواب دینا 

کافر نے قیامت کا انکار کیا تھا۔ مسلمان نے اس کا رد کرتے ہوئے کہا : کیا تم اس ذات کا انکار کر رہے ہو جس نے تم کو مٹی سے بنایا، مسلمان کا منشا یہ تھا کہ جب اللہ تعالیٰ کو ایک بار عدم سے وجود میں لا چکا ہے تو اس کے لئے دوبارہ تم کو معدوم کرنا پھر عدم سے وجود میں لانا کیا مشکل ہے ؟ پھر کہا اس نے تم کو مٹی سے بنایا پھر نطفہ سے پھر تم کو معتدل ہئیت میں بنایا اس میں انسان کو پہلی بار بنانے کی طرف اشارہ ہے۔ کافر کا رد کرنے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے تم کو اس طرح پیدا کیا ہے تو اس نے تم کو عبث پیدا نہیں کیا ہے بلکہ اس نے تم کو عبادت کرنے کے لئے پیدا کیا ہے۔ اس کے بعد کہا پھر تم کو معتدل ہئیت پر مرد بنایا۔ یعنی تم کو عقل عطا فرمائی جس سے بھلے اور برے کی پہچان ہوتی ہے۔ کیا تمہاری عقل اس کو جائز کہتی ہے کہ جس ذات نے تم کو اتنی نعمتیں عطا فرمائیں، تم اس کا کفر اور انکار کرو۔

پھر مومن نے کہا لیکن وہ اللہ ہی میرا رب ہے اور میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بنائوں گا، اور اس کی حسب ذیل وجود ہیں :

(١) میرا اس پر ایمان ہے کہ فقر اور غنا صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ اس لئے جب اللہ تعالیٰ کوئی نعمت عطا فرماتا ہے تو میں اس کی حمد کرتا ہوں اور جب وہ مجھے کسی مصیبت میں مبتلا کرتا ہے تو میں اس پر صبر کرتا ہوں اور جب اللہ تعالیٰ مجھے کوئی نعمت عطا فرماتا ہے تو میں اس پر فخر اور تکبر نہیں کرتا اور نہ یہ سمجھتا ہوں کہ مال و دولت اور حمایتیوں کی کثرت میری کوشش کی وجہ سے ہے یا اس میں میرا کوئی کمال ہے بلکہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کی عطا سے ہے۔

(٢) وہ کافر نہ صرف یہ کہ قیامت کا منکر تھا بلکہ وہ بت پرست اور مشرک بھی تھا۔ اسی لئے مومن نے کہا کہ میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بنائوں گا۔

لاحول ولا قوۃ الا باللہ کا معنی اور اس کے متعلق احادیث 

پھر مومن نے کافر کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے کہا جب تم باغ میں داخل ہوئے تھے تو کہتے ماشاء اللہ (جو اللہ نے چاہا) اور اللہ کی مدد کے بغیر کسی کی کچھ طاقت نہیں۔ ینی یہ باغ جو تم کو ملا ہے، یہ اللہ نے چاہا تو تم کو مل گیا اگر وہ نہ چاہتا تو تم کو یہ باغ نہ ملتا۔ اسی طرح تمہارے پاس جو مال ہے وہ اللہ کی قدرت سے ہے۔ اس میں تمہاری طاقت اور قدرت کا کوئی دخل نہیں ہے اور اگر اللہ چاہتا تو تمہارے مال سے برکت اٹھا لیتا پھر تمہارے پاس وہ مال جمع نہ ہوتا۔

امام مالک نے کہا جو شخص بھی اپنے گھر میں داخل ہو، اس کو چاہیے کہ وہ کہے ماشاء اللہ، وہب بن منبہ کے دروازے پر لکھا ہوا تھا۔ ماشاء اللہ لاقوۃ الا باللہ۔

حضرت ابوموسیٰ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک سفر میں تھے، ہم جب کسی بلندی پر چڑھتے تھے تو اللہ اکبر کہتے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے لوگو ! اپنے نفسوں کے ساتھ نرمی کرو، تم کسی بہرے کو نہیں پکار رہے اور نہ کسی غائب کو لیکن تم سننے والے دیکھنے والے کو پکار رہے ہو، پھر آپ میرے پاس آئے اور میں دل میں پڑھ رہا تھا لا حول ولا قوۃ الا باللہ، آپ نے فرمایا : اے عبداللہ بن قیس ! کہو لا حول ولا قوۃ الا باللہ، گناہوں سے پھرنا اور نیکیوں میں سے ایک خزانے کی رہنمائی نہ کروں (وہ خزانہ یہ کلمہ ہے) لاحول ولا قوۃ الا باللہ۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث :6384، سنن ابودائود رقم الحدیث :1526، سنن الترمذی رقم الحدیث :3461)

اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بچانے کے بغیر بندہ کا گناہوں سے پھرنا ممکن نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ کی توفیق کے بغیر بندہ کو نیکی کی طاقت ملنا ممکن نہیں ہے۔ علامہ نووی نے کہا کہ اس کلمہ کا معنی ہے اپنے معاملات کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کردینا اور یہ بتانا کہ بندہ اپنی کسی چیز کا مالک نہیں ہے اور اس کے پاس برائی کو دور کرنے کی کوئی تدبیر نہیں ہے اور نیکی کو حاصل کرنے کی کوئی طاقت نہیں ہے، سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ اس کو گناہوں سے دور کر دے اور نیکی کی طاقت عطا فرمائے۔

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے گھر سے نکلتے وقت کہا : بسم اللہ توکلت علی اللہ (اللہ کے نام سے، میں نے اللہ پر توکل کیا) لاحول ولا قوتۃ الا باللہ، تو اس سے کہا جائے گا تمہارے لئے یہ نام کفایت کیا گیا اور تم کو محفوظ کیا گیا اور تم سے شیطان کو دور کیا گیا۔

(سنن الترمذی رقم الحدیث :3426، سنن ابودائود رقم الحدیث 5095، صحیح ابن حبان رقم الحدیث :822، سنن کبریٰ للبیہقی ج ٥ 251)

ماشآء اللہ لاقوۃ الا باللہ کے متعلق احادیث 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے کسی چیز کو دیکھا اور وہ اس کو اپنے لیے یا کسی اور کے لئے اچھی لگی اور اس نے کہا ماشاء اللہ لاقوۃ الا باللہ تو اس کو نقصان نہیں ہوگا۔ 

(الفردوس بما ثور الخطاب رقم الحدیث :5696، شعب الایمان رقم الحدیث :4370 جمع الجوامع رقم الحدیث :21946 کنز العمال رقم الحدیث :17670 الکاہل لابن عدی ج ٤ ص 346، یہ حدیث ضعیف ہے)

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے کسی چیز کو دیکھا اور وہ اس کو اچھی لگی تو اس کو چاہیے کہ وہ ماشاء اللہ لاقوت الا باللہ کہے۔ ہرچند کہ اس حدیث کو ضعیف کہا گیا ہے مگر اس کا مضمون قرآن مجید کے مطابق ہے۔ (الفردوس بما ثور الخطاب رقم الحدیث :5697)

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ جس شخص نے کوئی چیز دیکھی اور وہ اس کو اچھی لگی اور اس نے کہا : ماشاء اللہ لاقوۃ الاباللہ تو اس کو نظر نہیں لگے گی۔ (عمل الیوم واللیلتہ لابن السنی رقم الحدیث :207، الجامع الصغیر رقم الحدیث :8684)

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے بندہ کو اس کے اہل یا مال یا اولاد میں سے کوئی نعمت اس پر انعام فرمائی تو اس نے کہا ماشا اللہ لاقوۃ الاباللہ تو وہ ان نعمتوں میں موت کے سوا کوئی آفت نہیں پائے گا۔ (شعب الایمان رقم الحدیث :4339، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، 1410 ھ)

حضرت ابوامامہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب کسی شخص کو اپنے بھائی کی صورت یا اس کا مال اچھا لگے تو اس کو اس کے لئے برکت کی دعا کرنے سے کیا چیز مانع ہے ؟ (اسے چاہیے کہ وہ کہے فتبارک اللہ احسن الخالقین یا کہے اے اللہ ! اس میں برکت دے) کیونکہ نظر کا لگنا برحق ہے۔ (عمل الیوم واللیلتہ رقم الحدیث :205، مطبوعہ مئوستہ الکتب الثقافیہ بیروت، 1408 ھ)

حضرت عبداللہ بن عامر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص اپنے نفس میں یا اپنے مال میں یا اپنے بھائی میں کوئی ایسی چیز دیکھے جو اسے اچھی لگے تو اس کو اس میں برکت کی دعا کرنی چاہیے۔ (عمل الیوم واللیلتہ لابن السنی رقم الحدیث :206، مطبوعہ بیروت)

مآشاء اللہ لاقوم الاباللہ کا معنی 

مومن نے کافر کو زجرو توبیخ کرتے ہوئے کہا تھا جب تم باغ میں داخل ہوئے تھے تو تم نے کیوں نہ کہا ماشاء اللہ اس سے ہمارے علماء نے یہ استدلا کیا ہے کہ ہر وہ چیز جس کا اللہ تعالیٰ ارادہ فرماتا ہے، وہ واقع ہوجاتی ہے اور جس کا ارادہ نہیں فرماتا وہ واقع نہیں ہوتی، اور اس میں یہ دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کافر کے ایمان کا ارادہ نہیں فرمایا اور اگر اللہ تعالیٰ کافر کے ایمان کا ارادہ فرماتا تو وہ ایمان لے آتا۔ امام غزالی نے آداب سفر میں سواری پر سوار ہوتے وقت ایک دعا ذکر کی ہے، اس میں یہ الفاظ ہیں : ماشاء اللہ کان ومالم یشاء لم یکن اللہ نے جو چاہا وہ ہوگیا اور جو نہیں چاہا وہ نہیں ہوا۔ (احیاء العلوم ج ٢ ص 228، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، 1419 ھ)

نیز مومن نے کافر سے کہا تمہیں یہ کہنا چاہیے تھا ولا قوۃ الاباللہ کسی چیز اور کسی کام پر کسی شخص کو اللہ کی مدد اور اس کی قوت دینے کے بغیر طاقت حاصل نہیں ہوسکتی اور جب تم یہ کہتے تو اس باغ کی خیر کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیتے وہ چاہتا تو اس میں خیر رکھتا اور اگر وہ نہیں چاہتا تو اس میں خیر کو ترک کردیتا، اور اس میں یہ اقرار ہے کہ اس باغ کی تعمیر اور ترقی کے لئے تم نے جو کچھ بھی کیا وہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی طاقت اور اس کی توفیق سے کیا ہے اور کسی شخص کو اپنے بدن اور اپنے ملک میں اللہ تعالیٰ کے طاقت دینے کے بغیر کوئی طاقت حاصل نہیں ہے۔

باغ پر کافر کے فخر کرنے کا جواب 

جب مومن کافر کو ایمان کی تعلیم دے چکا تو پھر اس نے کافر کو اس کے فخر اور تکبر کا جواب دیا۔ اس نے کہا اگر تم یہ دیکھتے ہو کہ میرے پاس مال اور اولاد اور میرے حمایتی اور میرے اعوان و انصارکم ہیں تو مجھے اس پر کوئی افسوس نہیں کیونکہ یہ دنیا فانی ہے اور یہ ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے تم سے بہتر باغ عطا فرمائے خواہ اس دنیا میں خواہ آخرت میں، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تمہارے باغ پر کوئی عذاب نازل فرما دے تو وہ چٹیل اور چکنا میدان بن جائے اور اس کے پھل، پھول، میوہ جات، غلہ اور سبزیاں سب جاتی رہیں اور اس میں جو دریا ہیں، ان کا پانی زمین میں دھنس جائے اور پھر تم اس باغ اور اس کی پیداوار کو دوبارہ حاصل کرنا چاہو اور حاصل نہ کرسکو۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 18 الكهف آیت نمبر 37