أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

نَحۡنُ نَقُصُّ عَلَيۡكَ نَبَاَهُمۡ بِالۡحَـقِّ‌ؕ اِنَّهُمۡ فِتۡيَةٌ اٰمَنُوۡا بِرَبِّهِمۡ وَزِدۡنٰهُمۡ هُدًى‌ۖ ۞

ترجمہ:

ہم ان کا واقعہ آپ کو حق کے ساتھ بیان فرماتے ہیں، بیشک یہ چند نوجوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لائے تھے اور ہم نے ان کو مزید ہدایت یافتہ فرمایا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ہم ان کا واقعہ آپ کو حق کے ساتھ بیان فرماتے ہیں، بیشک یہ چند نوجوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لائے تھے اور ہم نے ان کو مزید ہدایت یافتہ فرمایا (الکھف :13)

فتیۃ کے معنی 

چونکہ اس سے پہلے فرمایا تھا، ان کے غار میں قیام کی مدت کے متعلق دو جماعتوں کے مختلف قول تھے، اس سے معلوم ہوا کہ لوگوں کو ان کے متعلق کچھ نہ کچھ علم تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ہم آپ کو ان کا قصہ حق کے ساتھ بیان فرماتے ہیں۔

پھر ان کے متعلق فرمایا کہ وہ چند نوجوان تھے جو از خود ایمان لے آئے تھے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں کسی واسطہ کے بغیر ایمان ڈلا دیا تھا۔ اس آیت میں ان کے لئے فتیتہ کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔

علامہ حسین بن محمد راغب اصفہانی متوفی 502 ھ لکھتے ہیں :

فنی کا معنی ہے : تازہ نوجوان لڑکا یا لڑکی۔ فتیا اور فتویٰ کا معنی ہے کسی مشکل سوال کا جواب۔

(المفردات ج ٢ ص 682 مطبوعہ مکتبہ نزگار مصطفیٰ مکہ مکرمہ 1418 ھ)

علامہ ابوعبد اللہ مالکی قرطبی متوفی 668 ھلکھتے ہیں :

اہل زبان نے کہا ہے کہ فتوت کی بلندی ایمان ہے اور جنید بغدادی نے کہا ہے کہ بھلائی کو خرچ کرنا اور برائی سے اپنے آپ کو روکنا اور شکایت کو ترک کرنا فتوت ہے یعنی مردانگی ہے اور ایک قول یہ ہے کہ حرام چیزوں کو ترک کرنا اور نیکی میں جلدی کرنا فتوت ہے۔ (الجامع الاحکام القرآن ج 10 ص 327، مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1415 ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 18 الكهف آیت نمبر 13