أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

هٰٓؤُلَاۤءِ قَوۡمُنَا اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اٰلِهَةً‌ ؕ لَوۡ لَا يَاۡتُوۡنَ عَلَيۡهِمۡ بِسُلۡطٰنٍۢ بَيِّنٍ‌ ؕ فَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَـرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا ۞

ترجمہ:

یہ ہماری قوم ہے جس نے اس کے سوا عبادت کے مستحق بنا لئے ہیں، یہ ان کے مستحق عبادت ہونے پر کوئی واضح دلیل کیوں نہیں لاتے، سو اس سے زیادہ اور کون ظالم ہوگا جو اللہ پر جھوٹا افتراء باندھے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (اصحاب کہف نے کہا) یہ ہماری قوم ہے جس نے اس کے سوا عبادت کے مستحق بنا لئے ہیں، یہ ان کے مستحق عبادت ہونے پر کوئی واضح دلیل کیوں نہیں لاتے، سو اس سے زیادہ اور کون ظالم ہوگا جو اللہ پر جھوٹا افتراء باندھے۔ (الکھف : ٥)

بتوں کی عبادت کی ممانعت پر ایک سوال کا جواب

یہ بات انہوں نے ایک دوسرے سے کہی ۔ ان کی مراد یہ تھی کہ دقیانوسی کے زمانے میں لوگ پتھر سے تراشے ہوے بتوں بتوں کی عبادت کرتے تھے۔ اس آیت کا معنی بہ ظاہر یہ ہے کہ جب کسی چیز کے ثبوت پر دلیل نہ ہو تو وہ چیز ثابت نہیں ہوتی لیکن اسپر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے کوئی چیز پیدا نہیں کی تھی تو اس کے وجود پر کوئی دلیل قائم نہیں تھی حالانکہ اللہ تعالیٰ کا وجود اس وقت بھی تھا، اس لئے ان پتھر کے تراشے ہوئے بتوں کے معبود ہونے پر کسی دلیل کے نہ ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ معبود نہ ہوں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ سوال کا منشاء یہ ہے کہ دقیانوس کی قوم جو ان بتوں کی عبادت کرتی تھی، اس کے صحیح ہونے کی کیا دلیل ہے اور کس دلیل کی وجہ سے ان کو عبادت کا مستحق قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے کس چیز کو پیدا کیا ہے اور جب انہوں نے کسی چیز کو پیدا نہیں کیا، کسی پر کوئی احسان نہیں کیا، کسی کو کوئی نعمت نہیں دی تو وہ کس بناء پر شکرکئے جانے اور عبادت کئے جانے کے مستحق ہوگئے ؟

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 18 الكهف آیت نمبر 15