أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاصۡبِرۡ نَـفۡسَكَ مَعَ الَّذِيۡنَ يَدۡعُوۡنَ رَبَّهُمۡ بِالۡغَدٰوةِ وَالۡعَشِىِّ يُرِيۡدُوۡنَ وَجۡهَهٗ‌ وَلَا تَعۡدُ عَيۡنٰكَ عَنۡهُمۡ‌ ۚ تُرِيۡدُ زِيۡنَةَ الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا‌ ۚ وَ لَا تُطِعۡ مَنۡ اَغۡفَلۡنَا قَلۡبَهٗ عَنۡ ذِكۡرِنَا وَاتَّبَعَ هَوٰٮهُ وَكَانَ اَمۡرُهٗ فُرُطًا ۞

ترجمہ:

اور آپ اپنے آپ کو ان لوگوں کے ساتھ لازم رکھیں جو صبح اور شام اپنے رب کی رضا چاہتے ہوئے اس کی عبادت کرتے ہیں اور اپنی آنکھیں ان سے نہ ہٹائیں کہ آپ دنیاوی زندگی کی زینت کا ارادہ کرتے ہوں اور آپ اس شخص کا کہا نہ مانیں جس کا دل ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا ہے اس نے اپنی خواہش کی پیروی کی اور اس کا معاملہ حد سے بڑھ گیا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور آپ اپنے آپ کو ان لوگوں کے ساتھ لازم رکھیں جو صبح اور شام اپنے رب کی رضا چاہتے ہوئے اس کی عبادت کرتے ہیں اور اپنی آنکھیں ان سے نہ ہٹائیں کہ آپ دنیاوی زندگی کی زینت کا ارادہ کرتے ہوں اور آپ اس اس شخص کا کہا نہ مانیں جس کا دل ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا ہے اس نے اپنی خواہش کی پیروی کی اور اس کا معاملہ حد سے بڑھ گیا (الکھف :28)

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فقراء مسلمین کی مجلس میں بیٹھنے کا حکم 

عبدالرحمٰن بن سہل بن حنیف (رض) بیان کرتے ہیں جس وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر یہ آیت نازل ہوئی اس وقت آپ اپنے کسی گھر میں تھے۔ آپ باہر نکلے تو آپ نے دیکھا کہ کچھ لوگ بیٹھے ہوئے اللہ تعالیٰ کا ذکر کر رہے ہیں، ان کے بال بکھرے ہوئے تھے اور انہوں نے معمولی کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ آپ نے جب ان کو دیکھا تو آپ ان کے پاس بیٹھ گئے اور کہا اللہ کا شکر ہے کہ اس نے میری امت میں ایسے لوگ رکھے ہیں جن کے متعلق مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میں اپنے آپ کو ان کے ساتھ لازم رکھوں۔ نیز فرمایا کہ آپ دنیاوی زندگی کا ارادہ کرتے ہوں، یعنی اللہ تعالیٰ اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا ہے آپ ان عبادت گزار مومنوں سے نظر ہٹا کر مالدار مشرکین کی طرف نہ دیکھیں کہ آپ ان کی مجالس میں بیٹھنا چاہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس مشرکین میں سے بڑے بڑے مالدار لوگ آئے، انہوں نے آپ کے پاس حضرت خباب، حضرت صہیب اور حضرت بلال (رض) کو بیٹھے ہوئے دیکھا تو انہوں نے کہا کہ جب وہ آپ کے پاس آئیں تو آپ ان لوگوں جکو اٹھا دیا کریں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ چاہتے تھے کہ یہ بڑے لوگ ایمان پھر ان کی اتباع میں ان کے ماتحت لوگ بھی ایمان لے آئیں گے۔ اس لئے قریب تھا کہ آپ حضرت بلال وغیرہ کو ان کے آنے پر اپنی مجلس سے اٹھا دیتے تو یہ آیت نازل ہوئی :

ولا تطرد الذین یدعون ربھم یالغدو و والعشتی یریدون وجھہ (الانعام :52)

اور ان (مسکین مسلمانوں) کو دور نہ کیجیے جو صبح و شام اپنے رب کی عبادت کرتے رہتے ہیں درآں حالیکہ وہ اسی کی رضا جوئی چاہتے ہیں۔

پھر جب آپ اٹھنے کا ارادہ کرتے تو آپ اٹھ جاتے اور وہ مسکین مسلمان بیٹھے ہوئے ہوتے تھے تب یہ آیت نازل ہوئی اور آپ اپنے آپ کو ان لوگوں کے ساتھ لازم رکھیں جو صبح و شام اپنے رب کی رضا چاہتے ہوئے اس کی عبادت کرتے ہیں اور اپنی آنکھیں ان سے نہ ہٹائیں کہ آپ دنیاوی زندگی کی زینت کا ارادہ کرتے ہں۔ (الکھف :28) دنیاوی زندگی کی زینت سے مراد ہے ان امیروں اور چودھریوں کی مجلس۔ باقی تفسیر سورة الانعام میں گزر چکی ہے۔

(جامع البیان رقم الحدیث :17348، مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1415 ھ)

حضرت سلمان فارسی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں مئولفتہ القلوب آئے، عینیہ بن حصن اور الاقرع بن حابس وغیرہ۔ انہوں نے کہا اے اللہ کے نبی ! اگر آپ مسجد میں صدر نشین ہوں اور ان بدبوئوں کو ہم سے دور کردیں یعنی حضرت سلمان، حضرت ابوذر اور دیگر فقراء مسلمین کو، کیونکہ وہ اون کے موٹے کرتے پہنتے تھے جن کپڑوں سے ان کو بوبدو آتی تھی۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل کیں حتی کہ یہ آیت انا اعتدنا للظلمین نارا بیشک ہم نے ظالموں کے لئے آگ تیار کر رکھی ہے۔ ان متکبروں کو اللہ تعالیٰ نے دوزخ کی آگ سے ڈرایا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان مسکینوں کو ڈھونڈنے کے لئے نکلے وہ مسجد کی پچھلی صفوں میں بیٹھے ہوئے اللہ تعالیٰ کا ذکر کر رہے تھے۔ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے میری وفات سے پہلے مجھے یہ حکم دیا کہ میں اپنی امت کے ان لوگوں کے ساتھ رہوں، تمہارے ساتھ ہی میری زندگی ہے اور تمہارے ساتھ ہی میری موت ہے۔ (جامع البیان رقم الحدیث :17353، مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1415 ھ)

فقراء اور مساکین کی فضیلت میں احادیث 

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر تم مجھ سے ملنا چاتہی ہو تو تمہارے پاس اتنا مال ہونا چاہیے جتنا کسی سوار کا سفر خرچ ہو اور تم اپنے آپ کو امیروں کی مجلس سے دور رکھنا اور پیوند لگانے سے پہلے کسی کپڑے کو پرانا نہ کرنا۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث :1780، المستدرک ج ٤ ص 312، شرح السنتہ رقم الحدیث :3115)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص کو اس کی صورت میں اور رزق میں فضیلت دی گئی ہو، اسے ایسے شخص کی طرف دیکھنا چاہیے جو اس کی بہ نسبت کم تر ہو، یہ اس کے زیادہ لائق ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں کو کم تر نہیں جانے گا۔ عون بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ میں امیروں کی مجلس میں رہا تو مجھے یہی غم رہتا تھا کہ فلاں کی سواری میری سواری سے اچھی ہے اور فلاں کے کپڑے میرے کپڑوں سے اچھے ہیں اور جب میں فقراء کی مجلس میں آیا تو میں پر سکون ہوگیا۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث :1780)

حضرت عمر بن الخطاب (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہر چیز کی ایک چابی ہوتی ہے اور جنت کی چابی مساکین اور فقراء کی محبت ہے۔ الفردوس بما ثور الخطاب رقم الحدیث :4993، حافظ سیوطی نے اس حدیث کو ضعیف کہا ہے، الجامع الصغیر رقم الحدیث :7322)

عبدالرحمٰن حبلی بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص سے سوال کیا کیا میں فقراء مہاجرین میں سے نہیں ہوں ؟ حضرت عبداللہ نے اس سے پوچھا کیا تمہاری بیوی ہے جس کے پاس تم رہتے ہ ؟ اس نے کہا ہاں، پھر پوچھا کیا تمہارے پاس رہنے کے لئے مکان ہے اس نے کہا ہاں۔ کہا پھر تم اغنیاء میں سے ہو۔ اس نے کہا میرا ایک خادم بھی ہے۔ کہا پھر تم بادشاہوں میں سے ہو۔ حضرت عبداللہ بن عمرو کے پاس تین شخص آئے اور انہوں نے کہا اے ابو محمد ! بیشک ہم کسی چیز پر قادر نہیں ہیں نہ ہمارے پاس کھانے کا خرچ ہے، نہ سواری ہے نہ سامان ہے۔ حضرت ابن عمرو نے کہا جو تم چاہو اگر تم چاہو تو ہمارے پاس لوٹ آنا ہم تمہیں وہ چیزدیں گے جس سے اللہ تمہارے لئے آسانی کر دے گا اور اگر تم چاہو تو ہم سلطان کے پاس تمہارا ذکر کریں اور اگر تم چاہو تو صبر کرو۔ کیونکہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کے دن فقرئا مہاجرین اغنیاء سے چالیس سال پہلے جنت میں جائیں گے تو انہوں نے کہا ہم صبر کریں گے اور کسی سے کسی چیز کا سوال نہیں کریں گے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث :2979، صحیح ابن حبان رقم الحدیث :677)

ابوسلام الاسود بیان کرتے ہیں کہ میں نے عمر بن عبدالعزیز سے کہا میں نے حضرت ثوبان (رض) کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرا حوض عدن سے لے کر عمان بلقاء تک ہے، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید ہے اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے اور اس کے برتن ستاروں کی تعداد کے برابر ہیں، جس نے اس حوض سے ایک گھونٹ بھی پی لیا وہ کبھی پیاسا نہیں ہوگا۔ اس حوض پر لوگوں میں سب سے پہلے فقراء مہاجرین آئیں گے جن کے سر کے بال غبار آلود ہوں گے اور ان کے کپڑے میلے ہوں گے۔ انہوں نے خوشحال عورتوں سے شادی نہیں کی ہوگی اور ان کیلئے بند دروازے نہیں کھولے گئے ہوں گے۔ عمر بن عبدالعزیز نے کہا لیکن میں نے تو خوشحال عورت فاطمہ بنت عبدالملک سے شادی کی ہے اور میرے لئے بند دروازے کھولے گئے ہیں۔ میں اب اس وقت تک سر نہیں دھوئوں گا جب تک کہ میرے بال غبار آلود نہ ہوجائیں اور جب تک کپڑے میلے نہ ہوں ان کو نہیں دھوئوں گا۔ (المستدرک ج ٤ ص 184، سنن الترمذی رقم الحدیث :2444 سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :4303)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : فقراء مسلمین اغنیاء سے نصف یوم پہلے جنت میں داخل ہوں گے اور نصف یوم پانچ سو سال کا ہے۔

(سنن الترمذی رقم الحدیث :2353، صحیح ابن حبان رقم الحدیث :676، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :4122 مسند احمد ج ٢ ص 296)

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے اللہ ! مجھے بہ طور مسکین زندہ رکھنا اور بہ طور مسکین میری روح قبض کرنا اور مجھے قیامت کے دن مسکینوں کی جماعت میں اٹھانا ہے۔ حضرت عائشہ نے پوچھا یا رسول اللہ اس کی کیا وجہ ہے آپ نے فرمایا : مسکین قیامت کے دن اغنیاء سے چالی سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔ آپ نے فرمایا اے عائشہ ! مسکین کو رد نہ کرنا خواہ کھجور کا ایک ٹکڑا دو ۔ اے عائشہ ! مسکینوں سے محبت کرو اور ان کو اپنے قریب رکھو تو بیشک اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمہیں اپنے قریب رکھے گا۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث :2353)

بعض روایات میں ہے کہ فقراء مسلمین اغنیاء سے چالیس سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے اور بعض روایات میں ہے کہ وہ پانچ سو سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔ بہ ظاہر یہ تعارض ہے، اس کے متعدد جوابات ہیں :

(١) اس سے مراد مبالغہ ہے یعنی وہ اغنیاء سے بہت پہلے جنت میں داخل ہوں گے، اس مبالغہ کو کہیں چالیس سال سے تعبیر فرمایا اور کہیں اس کو پانچ سو سال سے تعبیر فرمایا۔

(٢) یہ بھی ہوسکتا ہے کہ پہلے اللہ تعالیٰ نے آپ کو چالیس سال پہلے کی خبر دی اور بعد میں ان کا مرتبہ بڑھا کر پانچ سو سال پہلے دخول کی خبر دی ہو۔

(٣) یہ بھی ہوسکتا ہے کہ چونکہ فقراء کے درجات اور ان کی صفات مختلف ہیں، اس لئے ان کے اجر بھی مختلف ہوں جو کامل درجہ کا فقیر ہو اور اس کے باوجود بہت زیادہ عبادت گزار ہو، وہ پانچ سو سال پہلے جنت میں داخل ہو اور عام فقراء چالیس سال پہلے جنت میں داخل ہوں۔

(٤) اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جس کا فقر اختیاری ہو وہ پانچ سو سال پہلے جنت میں داخل ہو اور جس کا فقرا ضطراری ہو وہ چالیس سال پہلے جنت میں داخل ہو۔

حضرت حارثہ بن وہب (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہئے سنا ہے : کیا میں تم کو اس شخص کی خبر نہ دوں جو جنت کا اہل ہے ؟ ہر وہ شخص جو بہت کمزور ہو اگر وہ قسم کھالے کہ اللہ فلاں کام کرے گا تو اللہ اس کی قسم پوری کر دے گا۔ کیا میں تم کو اس کی خبر نہ دوں جو دوزخ کا اہل ہے ؟ ہر وہ شخص جو بد مزاج، سرکش اور متکبر ہو۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث :4918، صحیح مسلم رقم الحدیث :2853، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :4116)

مصعب بن سعد بیان کرتے ہیں کہ حضرت سعد (رض) یہ گمان کرتے تھے کہ ان کو دوسروں پر فضیلت ہے، تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، صرف کمزور لوگوں کی وجہ سے تمہاری مدد کی جاتی ہے اور تم کو رزق دیا جاتا ہے۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث : 2896، سنن ابو دائود رقم الحدیث :2592 سنن الترمذی رقم الحدیث :1702، سنن النسائی رقم الحدیث :3178)

حضرت ابوالدرداء (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مجھے ضعفاء اور کمزور لوگوں میں تلاش کرو کیونکہ صرف ضعفاء اور کمزور لوگوں کی وجہ سے تمہاری مدد کی جاتی ہے اور تمہیں رزق دیا جاتا ہے۔ (سنن ابو دائود رقم الحدیث :2594، سنن الترمذی رقم الحدیث :1702)

حضرت ابوسعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص کی آمدنی کم ہو اور اس کے بال بچے زیادہ ہوں اور وہ اچھی طرح نماز پڑھے اور مسلمانوں کی غیبت نہ کرے، میں اور وہ قیامت کے دن ان دو انگلیوں کی طرح ایک ساتھ ہوں گے۔ (مسند ابویعلی رقم الحدیث :990 مجمع الزوائد ج 10 ص 256)

محمود بن لبید (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دو چیزوں کو ابن آدم ناپسند کرتا ہے، موت کو اور موت فتنہ سے بہتر ہے اور مال کی کمی کو ناپسند کرتا ہے اور مال کی کمی کی وجہ سے حساب کم ہوتا ہے۔

(مسند احمد ج ٥ ص 427، مجمع الزوائد ج 10 ص 257)

حضرت ابوسعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں ضعفاء مہاجرین کی ایک جماعت میں بیٹھا ہوا تھا اور وہ برہنگی کی وجہ سے ایک دوسرے کا ستر کر رہے تھے اور ان میں سے ایک شخص ہمیں قرآن پڑھ کر سنا رہا تھا، اس وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لے آئے اور ہمارے درمیان کھڑے ہوگئے۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوئے تو قرآن پڑھنے والا خاموش ہوگیا۔ آپ نے سلام کیا پھر فرمایا : تم لوگ کیا کر رہے تھے ؟ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ ہمارا قاری ہے جو ہمارے سامنے قرآن پڑھتا ہے اور ہم اللہ کی کتاب سنتے ہیں، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کی حمد ہے جس نے میری امت میں ایسے لوگ رکھے جن کے ساتھ مجھے بیٹھنے کا حکم دیا، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے درمیان بیٹھ گئے تاکہ آپ اپنے نفس کے ساتھ ہمارے درمیان عدل کریں پھر آپ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے فرمایا اس طرح حلقہ بنائو، سب نے حلقہ بنایا اور آپ کا چہرہ سب کے سامنے ظاہر ہوگیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان میں میرے سوا اور کسی کو نہیں پہچانتے تھے پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے فقراء مہاجرین کی جماعت خوشخبری سنوچ قیامت کے دن تم کو مکمل نور حاصل ہوگا اور تم اغنیاء سے نصف دن پہلے جنت میں داخل ہو گے اور یہ پانچ سو سال ہیں۔

(سنن ابو دائود رقم الحدیث :3666، مسند احمد ج 3 ص 63, 96)

اس آیت کی زیادہ تفسیر ہم نے(الانعام :52)(الانعام :52) میں کی ہے اور اس میں ان عنوانوں پر بحث کی ہے : مسکین مسلمانوں کو ان کی مسکینی کی بناء پر مجلس سے اٹھانے کی ممانعت، صبح و شام اخلاص سے عبادت کرنے کی وضاحت، مسکینوں کا حساب آپ کے ذمہ نہ ہونے کی وضاحت، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو منع کرنا دراصل امت کے لئے تعریض ہے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عصمت پر اعتراض کا جواب۔ ان عنوانات کے لئے تبیان القرآن ج و ص 485-489 کا مطالعہ کریں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 18 الكهف آیت نمبر 28