أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاُحِيۡطَ بِثَمَرِهٖ فَاَصۡبَحَ يُقَلِّبُ كَفَّيۡهِ عَلَىٰ مَاۤ اَنۡفَقَ فِيۡهَا وَهِىَ خَاوِيَةٌ عَلٰى عُرُوۡشِهَا وَيَقُوۡلُ يٰلَيۡتَنِىۡ لَمۡ اُشۡرِكۡ بِرَبِّىۡۤ اَحَدًا ۞

ترجمہ:

اور اس مرد کے پھل (عذاب میں) گھیر لئے گئے اور اس نے اس باغ میں جو خرچ کیا تھا وہ اس پر ہاتھ ملتا رہ گیا وہ باغ اپنی چھپریوں پر گرا پڑا تھا اور وہ شخص کہہ رہا تھا کہ کاش میں نے اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنایا ہوتا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور مرد کے پھل (عذاب میں) گھیرلئے گئے اور اس نے اس باغ میں جو خرچ کیا تھا، وہ اس پر ہاتھ ملتا رہ گیا وہ باغ اپنی چھیریوں پر گرا پڑا تھا اور وہ شخص کہہ رہا تھا کہ کاش میں نے اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنایا ہوتا، اور اس کے پاس کوئی جماعت نہ تھی جو اللہ کے مقابل ہمیں اس کی مدد کرتی اور وہ بدلہ لینے کے قابل نہ تھا، یہیں سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام اختیارات اللہ ہی کے پاس ہیں جو سچا ہے، وہی سب سے اچھا ثواب دینے والا ہے اور اس کے پاس بہترین انجام ہے۔ (الکھف، 42-44)

انبیاء اور صالحین پر مصائب آنے کی حکمت 

ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ مومن نے کافر کے متعلق جو کہا تھا اللہ تعالیٰ نے اس کو پورا کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے تمام کے تمام پھلوں کو تباہ کردیا اور وہ ندامت اور حسرت سے اپنے ہاتھ ملتا رہ گیا اور اس کے باغ میں انگوروں کی بیلیں جن چھپروں پر قائم تھیں، وہ سب چھپر گرگئے اور پھر اس نے کہا کاش میں نے اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنایا ہوتا ۔

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ ان آیتوں سے یہ وہم ہوتا ہے کہ اس پر جو یہ مصیبت آئی تھی یہ اس کے شرک اور کفر کی وجہ سے آئی تھی، حالانکہ ایسا نہیں ہے کیونکہ مسلمانوں پر بھی بہت مصائب طاری ہوتے ہیں۔ قرآن مجید میں ہے۔

(آیت الزخرف 33-35)

اگر یہ بات نہ ہوتی کہ تمام لوگ ایک ہی امت بن جائیں ان کی سیڑھیوں کو بھی جن پر وہ چڑھتے ہیں، اور ان کے گھروں کے دروازوں کو بھی اور ان کی مسندوں کو بھی جن پر وہ تکیے لگا کر بیٹھتے ہیں اور (ان کے گھر وغیرہ) سونے کے بھی (بنا دیتے) اور یہ سب دنیاوی زندگی کا فائدہ ہے اور آخرت تو آپ کے رب کے نزدیک صرف متقین کے لئے ہے۔

حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے پوچھا : یا رسول اللہ ! سب سے زیادہ مصائب میں کون مبتلا ہوتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : انبیاء پھر جو ان کے قریب ہوں پھر جو ان کے قریب ہوں۔ بندہ اپنے دین کے اعتبار سے مصائب میں مبتلا ہوتا ہے اگر وہ اپنے دین میں متشدد ہو تو اس پر بہت شدید مصیبت آتی ہے اور اگر وہ اپنے دین میں نرم ہو تو وہ اس کے حساب سے مصائب میں مبتلا ہوتا ہے، پھر بندہ مصائب آتے رہتے ہیں حتیٰ کہ وہ زمین پر اس حال میں چلتا ہے کہ اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا۔

(سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :4023، مصنف ابن ابی شیبہ ج ٣ ص 233، مسند احمد ج ١ ص 172 سنن الداری رقم الحدیث :2786، سنن الترمذی رقم الحدیث :2398، مسند الجز اور رقم الحدیث :1154، مسند ابویعلی رقم الحدیث :830 صحیح ابن حبان رقم الحدیث :2901، المستدرک ج ١ ص 41، سنن کبری للبیہقی ج ٣ ص 372، شعب الایمان رقم الحدیث :9775 شرح السنتہ رقم الحدیث :1434) یہ حدیث صحیح ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) اور مقربین پر جو مصائب آتے ہیں وہ ان کے درجات میں بلندی کے لئے آتے ہیں اور عام مسلمانوں پر جو مصائب آتے ہیں، وہ ان کے گناہوں کا کفارہ ہوجاتے ہیں۔

صرف اللہ کے پاس اختیارات ہونے کی وجوہ 

اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہیں سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام اختیارات اللہ ہی کے پاس ہیں جو سچا ہے، اس کی حسب ذیل وجوہ ہیں :

(١) اللہ تعالیٰ نے دو آدمیوں کا جو یہ قصہ ذکر کیا، اس سے معلوم ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ کی نصرت اور اچھا انجام مومن کے لئے ہوتا ہے اور ہم نے یہ بھی جان لیا کہ تمام مومنوں اور کافروں کے ساتھ اللہ تعالیٰ اس طرح کا معاملہ کرتا ہے، اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ولایت اور تصرف حقیقت میں اللہ تعالیٰ کے پاس ہے جس سے وہ اپنے الویاء کی مدد فرماتا ہے۔ وہ انہیں ان کے دشمنوں پر غلبہ عطا فرماتا ہے اور انہیں کفار کے معاملات کا والی بنا دیتا ہے، اور یہ جو فرمایا ہے یہیں سے ! اس کا معنی ہے یعنی جس وقت اللہ تعالیٰ اپنے اولیاء کی کرامت کو ظاہر فرماتا ہے اور انکے دشمنوں کو ذلیل فرمایا ہے۔

(٢) جب ایسی شدید مصیبت آئے تو اس وقت کٹر سے کٹر مشرک بھی شرک سے ناطہ توڑ لیتا ہے اور صرف اللہ کی طرف ہاتھ پھیلاتا ہے اور اپنے پچھلے کفر اور شرک پر شیمان ہوتا ہے اور کہتا ہے کاش میں نے شرک نہ کیا ہوتا۔

(٣) جب اللہ تعالیٰ اپنے اولیاء مومنین کی ان کے دشمنوں کے خلاف مدد فرماتا ہے اور مسلمانوں کا سینہ ٹھنڈا کرتا ہے۔

(٤) اس میں دار آخرت کی طرف اشارہ ہے کہ آخرت میں صرف اللہ تعالیٰ کی بادشاہی ہوگی، جب فرمائے گا آج کس کی بادشاہی ہے اور کسی کو جواب دینے کی ہمت نہیں ہوگی، پھر خود ہی فرمائے گا اللہ کے لئے جو واحد قہار ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 18 الكهف آیت نمبر 42