أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذِ اعۡتَزَلۡـتُمُوۡهُمۡ وَمَا يَعۡبُدُوۡنَ اِلَّا اللّٰهَ فَاۡوٗۤا اِلَى الۡـكَهۡفِ يَنۡشُرۡ لَـكُمۡ رَبُّكُمۡ مِّنۡ رَّحۡمَتِهٖ وَيُهَيِّئۡ لَـكُمۡ مِّنۡ اَمۡرِكُمۡ مِّرۡفَقًا ۞

ترجمہ:

اور (انہوں نے آپس میں کہا) جب تم ان سے کنارہ کش ہوچکے ہو اور ان سے بھی جن کی یہ اللہ کے سوا پرستش کرتے ہیں، تو اب کسی غار میں پناہ لو، اللہ تم پر اپنی رحمت کو کشادہ کر دے گا اور تمہارے لئے تمہارے کام میں آسانی مہیا کر دے گا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور (انہوں نے آپس میں کہا) جب تم ان سے کنارہ کش ہوچکے ہو اور ان سے بھی جن کی یہ اللہ کے سوا پرستش کرتے ہیں تو اب کسی غار میں پناہ لو، اللہ تم پر اپنی رحمت کو کشادہ کر دے گا اور تمہارے لئے تمہارے کام میں آسانی مہیا کر دے گا۔ (الکھف :16)

علامہ ابن عطیہ نے کہا یہ بات ان کے رئیس نے کہی، جس کا نام یملیخا تھا اور غزنوی نے کہا ان کے رئیس کا نام مکسلمینا تھا۔ اس نے کہا جب تم دقیانوس کی قوم اور ان کے معبودوں کو ترک کرچکے ہو تو پھر کسی غار میں پناہ لے لو، اس سے معلوم ہوا کہ اصحاب کہف پہلے اللہ کی عبادت بھی کرتے تھے اور بتوں کی عبادت بھی کرتے تھے اور جب اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں حق بات ڈال دی تو انہوں نے بتوں کی عبادت کو ترک کردیا۔ انہوں نے کہا جب ہم ان کے معبودوں کو چھوڑ کر صرف اللہ کی بات ڈال دی تو انہوں نے بتوں کی عبادت کو رتک کردیا۔ انہوں نے کہا جب ہم ان کے معبودوں کو چھوڑ کر صرف اللہ کی عبادت کرنے لگے ہیں تو ہمیں چاہیے کہ ہم کسی غار کو اپنا ٹھکانا بنالیں اور اللہ پر توکل کر کے اس میں قیام کریں۔ اللہ تعالیٰ ہم پر اپنی رحمت کو کھول دے گا اور ہمارے لئے آسان معیشت کے اسباب مہیا فرما دے گا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 18 الكهف آیت نمبر 16