أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَتَرَى الشَّمۡسَ اِذَا طَلَعَتۡ تَّزٰوَرُ عَنۡ كَهۡفِهِمۡ ذَاتَ الۡيَمِيۡنِ وَاِذَا غَرَبَتۡ تَّقۡرِضُهُمۡ ذَاتَ الشِّمَالِ وَهُمۡ فِىۡ فَجۡوَةٍ مِّنۡهُ‌ ؕ ذٰ لِكَ مِنۡ اٰيٰتِ اللّٰهِ‌ ؕ مَنۡ يَّهۡدِ اللّٰهُ فَهُوَ الۡمُهۡتَدِ ‌ۚ وَمَنۡ يُّضۡلِلۡ فَلَنۡ تَجِدَ لَهٗ وَلِيًّا مُّرۡشِدًا۞

ترجمہ:

اور اے مخاطب ! ) جب سورج نکلتا ہے تو، تو دیکھے گا کہ دھوپ ان کے غار سے دائیں طرف جھکی رہتی ہے اور جب سورج غروب ہوتا ہے تو دھوپ بائیں طرف پھرجاتی ہے اور وہ اس غار کی کشادہ جگہ میں ہیں، یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے، جس کو اللہ ہدایت دے وہی ہدایت یافتہ ہے اور جس کو وہ گم راہ کر دے تو، تو اس کے لئے کوئی مددگار، ہدایت دینے والا نہیں پائے گا ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور (اے مخاطب ! ) جب سورج نکلات ہے تو تو دیکھے گا کہ دھوپ ان کے غار سے دائیں طرف جھکی رہتی ہے اور جب سورج غروب ہوتا ہے تو دھوپ بائیں طرف پھرجاتی ہے اور وہ اس غار کی کشادہ جگہ میں ہیں، یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے، جس کو اللہ ہدایت دے رہی ہدایت یافتہ ہے اور جس کو وہ گمراہ کر دے تو تو اس کے لئے کوئی مددگار ہدایت دینے والا نہیں پائے گا۔ (الکھف :17)

مشکل الفاظ کے معانی 

تزور : ایک جانب سے دوسری جانب مائل ہونا، یعنی دھوپ اصحاب کہف کے اجسام سے کترا کر نکل جاتی ہے۔

تفرضھم : ان کو ترک کرتا ہے، ان سے متجاوز ہوتا ہے، ان کو مس نہیں کرتا یعنی دھوپ ان کے جسموں کو نہیں چھوتی۔

فجوۃ : کشادہ جگہ، یعنی اصحاب کہف غار کی کھلی جگہ میں تھے اور وہاں ان کو روشنی اور ہوا پہنچتی رہتی تھی۔

اصحاب کہف کے جسموں کو دھوپ سے محفوظ رکھنے کی دو تفسیریں 

اس آیت میں فرمایا ہے : اے مخاطب ! جب سورج نکلتا ہے تو تو دیکھے گا کہ دھوپ ان کے غار سے دائیں طرف جھکی رہتی ہے، اس آیت سے یہ مراد نہیں ہے کہ واقع میں کوئی شخص ان کے غار کے پاس کھڑا ہوا تھا اور وہ سورج کے طلوع و غروب کے وقت دیکھ رہا تھا کہ دھوپ غار میں داخل ہوتی ہے یا نہیں، بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ بالفرض اگر کوئی شخص غار کے پاس کھڑا ہو تو وہ اس طرح دیکھے گا۔ اس کی تفسیر میں مفسرین کے دو قول ہیں : ایک قول یہ ہے کہ اس غار کا منہ شمال کی جانب تھا، پس جب سورج طلوع ہوتا تو وہ غار کی دائیں جانب ہوتا اور جب سورج غروب ہوتا تو وہ غار کی بائیں جانب ہوتا۔ پس سورج کی دھوپ غار کے اندر نہیں پہنچ سکتی تھی اور خوشگوار اور ٹھنڈی ہوا غار کے اندر پہنچ جاتی تھی، اور اس سے مقصود یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اصحاب کہف کو اس سے محفوظ رکھا تھا کہ ان کے اوپر سورج کی دھوپ پڑے ورنہ ان کے اجسام میں تعفن اور فساد پیدا ہوجاتا اور ان کے جسم گل سڑ جاتے۔

اور دوسرا قول یہ ہے کہ یہ مراد نہیں ہے بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورج کو اس سے روک دیا کہ اس کی دھوپ طلوع یا غروب کے وقت ان کے جسموں پر پڑے، اور اللہ تعالیٰ کا یہ فعل خلاف عادت ہے اور اصحاب کہف کی کرامت ہے۔ یہ زجاج کا قول ہے اور اس نے اس قول پر اس سے استدلال کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے : یہ اللہ کی آیتوں میں سے ہے، اور اگر پہلے قول کے موافق ان پر دھوپ نہ پڑتی تو پھر یہ امر معمول کے موافق اور عادت کے مطابق ہوتا اور اس میں اللہ تعالیٰ کی کوئی آیت اور نشانی نہ ہوتی، اور اگر اس آیت کی ہماری قول کے موافق تفسیر کی جائے تو پھر اس میں اللہ تعالیٰ کی عجیب و غریب آیت اور نشانی اور اصحاف کہف کی کرامت ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہے۔ زجاج کی تفسیر کے مطابق تو اس نشانی کا ہونا واضح ہے یعنی طلوع اور غروب کے وقت اللہ تعالیٰ نے سورج کی دھوپ کو غار میں پہنچنے نہیں دیا اور پہلے قول کے مطابق نشانی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اتنی مدت طویلہ تک ان کو غار میں محفوظ رکھا کہ اصحاب کہف اللہ تعالیٰ کے لطف و کرم سے اتنے عرصہ تک مرض اور موت اور مرور ایام کے اثرات سے محفوظ رہے، اور جس طرح اللہ تعالیٰ ابتداء میں ان کو کفر سے ایمان کی طرف لایا تھا، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے انتہا میں بھی ان کے اجسام کو گردش ایام کے اثرات سے سلامت رکھا۔ اسی لئے فرمایا : جس کو اللہ ہدایت دے وہی ہدایت یافتہ ہے اور جس کو وہ گمراہ کر دے تو تو اس کے لئے کوئی مددگار ہدایت دینے والا نہیں پائے گا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 18 الكهف آیت نمبر 17