أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَقُلِ الۡحَـقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ‌ ۖ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ ‌ۙاِنَّاۤ اَعۡتَدۡنَا لِلظّٰلِمِيۡنَ نَارًا ۙ اَحَاطَ بِهِمۡ سُرَادِقُهَا‌ ؕ وَاِنۡ يَّسۡتَغِيۡثُوۡا يُغَاثُوۡا بِمَآءٍ كَالۡمُهۡلِ يَشۡوِى الۡوُجُوۡهَ‌ؕ بِئۡسَ الشَّرَابُ وَسَآءَتۡ مُرۡتَفَقًا ۞

ترجمہ:

اور آپ کہیے حق تمہارے رب کی طرف سے ہے سو جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے، بیشک ہم نے ظالموں کے لئے ایسی دوزخ تیار کی ہے جس (کے شعلوں) کی چار دیواری ان کا احاطہ کرے گی، اگر وہ فریاد کریں گے تو ان کی فریاد اس پانی سے پوری ہوگی جو پگھلے ہوئے تانبے کی طرح ہوگا جو ان کے چہروں کو جلا دے گا وہ کیسا برا مشروب ہے ! اور وہ دوزخ کیسی بری آرام کی وجہ ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور آپ کہیے کہ حق تمہارے رب کی طرف سے ہے سو جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے، بیشک ہم نے ظالموں کے لئے ایسی دوزخ تیار کی ہے جس (کے شعلوں) کی چار دیواری ان کا احاطہ کرے گی اگر وہ فریاد کریں گے تو ان کی فریاد اس پانی سے پوری ہوگی جو پگھلے ہوئے تانبے کی طرح ہوگا، جو ان کے چہروں کو جلا دے گا، وہ کیسا برا مشروب ہے اور وہ دوزخ کیسی بری آرام کی جگہ ہے (الکھف :29)

اغنیاء کے اسلام کی خاطر فقراء کو مجلس سے نہ اٹھانے کی توجیہ 

جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ حکم دیا ان اغنیاء کی طرف التفات نہ کریں جنہوں نے یہ کہا ہے کہ اگر آپ نے ان فقراء کو اپنی مجلس سے اٹھا دیا تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے، تو اس کے بعد فرمایا : دین حق یہی ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہارے پاس آیا ہے، اگر تم نے اس کو قبول کرلیا تو تمہیں اس کا فائدہ ہوگا اور اگر تم نے اس دین کو قبول نہیں کیا تو اس کا نقصان بھی تمہیں ہوگا اور اس دین کے حق ہونے میں فقر اور غنا، حسن اور قبح اور گمنامی اور شہرت کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ 

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اگر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فقراء مسلمین کو اپنی مجلس سے اٹھا دیتے تو اس سے ان مسلمانوں کی عزت اور وقار میں کمی آتی اور اس کا ضرر کم ہے، اور ان کو نہ اٹھانے کی وجہ سے وہ اغنیاء اپنے کفر پر قائم رہے اور ایماان نہیں لائے اور ان کے ایمان نہ لانے کا ضرر زیادہ ہے اور جب کم ضرر اور زیادہ ضرر میں تعارض ہو تو کم ضرر کو اختیار کیا جاتا ہے جبکہ یہاں پر زیادہ ضرر کو اختیار کیا گیا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اگر ان کے کہنے پر آپ فقراء مسلمین کو اپنی مجلس سے اٹھا دیتے تو اس فعل میں صرف فقراء مسلمین کی دل آزاری نہیں تھی بلکہ ان اغنیاء کے تکبر کو بھی قائم رکھنا تھا اور مسلمانوں کی تحقیر کو برقرار رکھنا تھا اور تکبر حرام ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی یہ شان نہیں ہے کہ وہ کسی حرام کام کو برقرار رکھیں یا اس کی حوصلہ افزائی کریں۔ اور اگر وہ بالفرض اس طریقہ سے مسلمان ہو بھی جاتے تو اس سے یہ غلط تاثر پھیلتا کہ اسلام میں فقراء اور مساکین کو حقیر سمجھنا جائز ہے، گویا تکبر کرنا جائز ہے۔

جب انسان کے اختیار اور اس کے اعمال کا خالق اللہ تعالیٰ ہے تو اس کی جزا اور سزا کی کیا توجیہ ہے ؟

اللہ تعالیٰ نے فرمایا سو جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے۔ اس آیت سے یہ واضح ہوا کہ انسان کا ایمان لانا یا اس کا کفر کرنا اس کے قصد اور اتخیار سے ہوتا ہے اور وہ ایمان لانے یا کفر کرنے میں مجبور محض نہیں ہے، سو اگر وہ ایمان لانے کا قصد کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے دل میں ایمان پیدا کردیتا ہے اور کفر کا قصد کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے دل میں کفر پیدا کردیتا ہے۔ اب اگر یہ سوال کیا جائے کہ انسان کے دل میں اس قصد اور اختیار کو کون پیدا کرتا ہے تو یہ بہت مشکل سوال ہے کیونکہ اگر یہ کہا جائے اس کے قصد اور اختیار کو بھی اللہ تعالیٰ پیدا کرتا ہے تو یہ جبر محض ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ قصد اور اختیار کو انسان پیدا کرتا ہے تو یہ معتزلہ کا ماذہب ہے جو یہ کہتے ہیں کہ انسان اپنے افعال کا خود خالق ہے۔ نیز یہ ان آیات کے بھی خلاف ہے جن میں یہ تصریح ہے کہ انسان کے اعمال کا اللہ تعالیٰ خالق ہے۔

واللہ خلقکم وماتعملون (الصفت :96) اور اللہ نے تم کو پیدا کیا اور تم جو عمل کرتے ہو اس کو بھی۔

اس اشکال کا جواب متکلمین سے 

جمہور متکلمین نے اس سوال کے جواب میں یہ کہا ہے کہ خلق اس چیز کو کہا جاتا ہے جو بالذات موجود ہو اور قصد اور اختیار بالذات موجود ہے نہ بالذات معدوم ہے، اس کو اصطلاح میں حال کہتے ہیں اور حال کو خلق نہیں کیا جاتا بلکہ اس کا احداث ہوتا ہے اور بندہ خالق تو نہیں ہوسکتا لیکن محدث ہوسکتا ہے اور بعض متکلمین نے یہ کہا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :

قل اللہ خالق کل شی (الرعد :16) آپ کہیے کہ اللہ ہر چیز کا خالق ہے۔

یہ آیت عام مخصوص عنہ البعض ہے یعنی اللہ تعالیٰ قصد اور ارادہ کے سوا ہر چیز کا خالق ہے، اور قصد اور ارادہ کا خالق اگر انسان کو نہ مانا جائے اور یہ کہا جائے کہ انسان جو کفر کرتا ہے یا ایمان لاتا ہے اس کو بھی اللہ تعالیٰ پیدا کرتا ہے تو پھر ایمان لانے پر انسان کی تعریف و تحسین کیوں کی جاتی ہے اور کفر کرنے پر انسان کی مذمت کیوں کی جاتی ہے، اور جب ایمان لانا انسان کے اختیار میں ہی نہیں ہے تو پھر نبیوں اور رسولوں کو تبلیغ کے لئے کیوں بھیجا گیا اور آسمانی کتابوں اور صحائف کو کیوں نازل کیا گیا اور رسولوں کو معجزات کیوں دیئے گئے اور پھر قیامت اور جزاء اور سزا اور جنت اور دوزخ کس لئے ہیں اور اس خرابی سے بچنے کی یہی صورت ہے کہ یہ کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا اور انسان کے تمام اعمال کا خالق ہے، سوا انسان کے قصد اور اتخیار کے انسان قصد اور اتخیار کا خود خالق ہے، وہ اگر ایمان لانے کا قصد کرے تو اللہ تعالیٰ اس میں ایمان پیدا کردیتا ہے اور کفر کا قصد کرے تو اللہ تعالیٰ اس میں کفر پیدا کردیتا ہے۔

اس اشکال کا جواب علامہ بہاری سے 

علامہ محب اللہ بہاری نے اس اشکال کے جواب میں لکھا کہ انسان اور اکات جزئیہ جسمانیہ میں مختار ہے اور علوم کلیہ عقلیہ میں مجبور ہے۔ علامہ عبدالحق خیر آبادی متوفی 1316 ھ نے کہا ہے کہ علامہ بہاری نے فطرت الہیہ میں لکھا ہے کہ انسان و ہما مختار ہے اور عقلاً مجبور ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ احکام شرعیہ کا تعلق امور جزئیہ مثلاً نماز اور روزے وغیرہ کے ساتھ ہوتا ہے اور امور جزئیہ کے صدور کے لئے انسان میں مبادی جزئیہ قریبہ ہوتے ہیں۔ مثلاً تخیل جزی، شوق جزوی ( کسی خاص چیز کا دل میں خیال آنا اور کسی خاص چیز کا شوق پیدا ہونا) اور ارادہ خاصہ اور ان ہی کے اعتبار سے افعال جزئیہ صادر ہوتے ہیں اور ارادہ ہی کے سبب سے انسان کے افعال، افعال قسریہ اور افعال طبعیہ سے ممتاز ہوتے ہیں۔ (پتھر کو آپ اوپر اچھا لیں تو اس کا اوپر جانا فعل قسری ہے یعنی اس کی طبیعت کے خلاف ہے اور جب وہ از خود اوپر سے نیچے آئے تو یہ اس کا فعل طبعی ہے) اور امور جزئیہ کے صدور کے لئے مبادی کلیہ بعدیہ ہوتے ہیں جو بلا ارادہ واجبۃ التحقیق ہیں اور مبادی جزئیہ کا وہم سے ادراک ہوتا ہے کیونکہ وہ معانی جزئیہ ہیں اور مبادی کلیہ کا ادراک عقل سے ہوتا ہے کیونکہ وہ معانی کلیہ ہیں، سو انسان علوم جزئیہ کے اعتبار سے مختار ہے اور ادراکات کلیہ کے اعتبار سے غیر مختار ہے اور جبکہ احکام شرعیہ امور جزئیہ ہیں تو اس میں وہم کا اعتبار ہے اور مکلف ہونے کی صحت مبادی قریبہ کے اعتبار سے ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ انسان حکم وہم کے اعتبار سے مختار ہے اور حکم عقل کے اعتبار سے مجبور ہے۔

علامہ خیر آبادی نے علامہ تفتازانی متوفی 791 ھ سے بھی ایک جواب نقل کیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان کے افعال اختیار یہ کے کچھ اسباب قریب ہیں اور کچھ اسباب بعید ہیں۔ اسباب قریبہ کے اعتبار سے وہ مختار ہے اور اسباب بعیدہ کے اعتبار سے وہ مجبور ہے۔ (شرح مسلم الثبوت ص 74-77 ملخصا مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ)

علامہ بہاری کے جواب کی وضاحت :

علامہ خیر آبادی نے علامہ بہاری کے جواب کا جو ذکر کیا ہے اس کی مزید وضاحت اس طرح ہے کہ مثلاً انسان کے دل میں نماز پڑھنے کا خیال آتا ہے۔ یہ ادراک کلی عقلی ہے۔ اب یہ کہ وہ کون سی نماز پڑھے اور اس کے لئے کیا تیاری کرے، کہاں وضو کرے پھر یہ کہ نماز کہاں پڑھے، گھر میں یا مسجد میں، یہ سب اداراکت جزئیہ ہیں اور انسان کے ذہن میں مطلق نماز پڑھنے کا جو خیال آیا تھا، یہ ادراک کلی عقلی ہے اور انسان اس میں مجبور ہے اور اس ادراک کا خلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے پھر اس کی تفاصیل کون سی نماز، کس وقت پڑھے اور اس کے مخصوص مقدمات یہ سب ادراکات جزئیہ ہیں اور ان میں سے انسان مختار ہے اور ان کو وہ خود خلق کرتا ہے۔ البتہ انسان پر خالق کے اطلاق سے احتراز کرنا چاہیے۔

اس اشکال کا جواب مصنف سے 

میرے ذہن میں جو اس اشکال کا جواب آیا وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ازل میں یہ علم تھا کہ انسان اپنے قصد اور اختیار سے ایمان کا ارادہ کرے گا یا کفر کا۔ یعنی اگر بالفرض وہ اپنے قصد اور اتخیار میں مستقل ہو تو وہ کیا قصد کرے گا اور کیا اختیار کرے گا اور جو کچھ قصد کرنا تھا، اللہ تعالیٰ نے اس کا وہی قصد پیدا کردیا اور جو کچھ اس نے اختیار کرنا تھا اللہ تعالیٰ نے اس کا وہی اختیار پیدا کردیا۔ اس لئے انسان کے قصد اور اختیار کو بھی اللہ تعالیٰ ہی پیدا کرتا ہے یعنی کسب کو اور اس قصد اور کسب کے موافق افعال اور اعمال کو بھی اللہ تعالیٰ ہی پیدا کرتا ہے۔ اسی لئے کسی مرتبہ میں بھی انسان کا خالق ہونا لازم نہیں آتا اور نہ ہی یہ اعتراض وارد ہوتا ہے کہ جب انسان کے قصد اور اختیار کو بھی اللہ تعالیٰ نے ہی پیدا کیا ہے تو پھر انسان جزاء اور سزا کا مستحق کیوں ہوتا ہے، نیک کاموں پر دنیا میں اس کی تحسین اور آخرت میں ثواب کیوں ہوتا ہے اور برے کاموں پر دنیا میں اس کی مذمت اور آخرت میں عذاب کیوں ہوتا ہے جبکہ ان کاموں کا قصد اور اختیار بھی اللہ نے پیدا کیا اور ان کاموں کو بھی اللہ نے پیدا کیا۔ سو اس کا جواب یہ ہے کہ چونکہ اللہ تعالیٰ کو ازل میں علم تھا کہ اگر بالفرض انسان کو قصد اور اتخیار دیا جائے اور وہ قصد اور اس کے موافق عمل کرنے میں مستقل ہو اور ان کا خالق ہو تو اس کا کیا قصد ہوگا اور وہ کیا عمل کرے گا۔ اسی کے موافق اللہ تعالیٰ نے اس میں اعمال پیدا کردیئے اس لئے اب یہ نہیں کہا جاسکتا کہ جب اللہ تعالیٰ نے اس کا قصد اور اختیار بھی خود پیدا کیا ہے تو پھر اس کی جزاء اور سزا کی کیا وجہ ہے۔

ایمان لانے اور اطاعت کرنے میں بندہ کا فائدہ ہے نہ کہ اللہ کا 

اللہ تعالیٰ نے جو یہ فرمایا ہے : جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے۔ اس سے ایک یہ معنی معلوم ہوتا ہے کہ ایمان لانے یا نہ لانے میں انسان کا اپنا نفع اور نقصان ہے، کسی کے ایمان لانے سے اللہ تعالیٰ کو کوئی فائدہ ہوگا نہ اس کے ایمان نہ لانے سے اس کو کوئی نقصان ہوگا۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ہے :

ان احسنتم احسنتم لانفسکم وان اساتم فلھا (بنی اسرائیل :7)

اگر تم نے اچھے کام کئے تو خود اپنے فائدہ کے لئے اور اگر برے کام کئے تو وہ بھی اپنے لئے 

حضرت ابو ذر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :

اللہ ارشاد فرماتا ہے : اے میرے بندو ! تم سب گمراہ ہو ماسوا ان کے جن کو میں نے ہدایت دی مجھ سے ہدایت کا سوال کرو میں تم کو ہدایت دوں گا، تم سب محتاج ہو ماسوا ان کے جن کو میں غنی کروں، تم مجھ سے سوال کرو میں تم کو رزق دوں گا، تم سب گناہ گار ہوماسوا ان کے جن کو میں عافیت سے رکھوں، پس تم میں سے جس شخص کو یہ علم ہو کہ میں مغفرت پر قادر ہوں اور اس نے مجھ سے مغفرت طلب کی تو اس کو میں بخش دوں گا اور مجھے اس کی پرواہ نہیں ہے اور اگر تمہارے اول اور آخر اور تمہارے زندہ اور مردہ اور تمہارے تر اور خشک سب مل کر میرے بندوں میں سے سب سے متقی بندے کی طرح ہوجائیں تو اس سے میرے ملک میں مچھر کے پر کے برابر بھی اضافہ نہیں ہوگا اور اگر تمہارے اول اور آخر اور زندہ اور مردہ اور تر ک اور خشک سب مل کر میرے بندوں میں سے سب سے برے بندے کی طرح ہوجائیں تو میرے ملک میں مچھر کے پر کے برابر بھی کمی نہیں ہوگی اور اگر تمہارے اول اور آخر اور تمہارے زندہ اور مردہ اور تر اور خشک سب مل کر ایک میدان میں کھڑے ہوجائیں پھر تم میں سے ہر شخص اپنی خواہشوں کا سوال کرے اور میں تم میں سے ہر سوال کرنے والے کا سوال پیورا کر دوں تو میرے ملک میں صرف اتنی کمی ہوگی جیسے تم میں سے کوئی شخص سمندر میں سوئی ڈبو کر اپنی طرف نکال لے، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ میں جواد، واجد ماجد (بہت فیاض اور بہت بزرگ) ہوں، میں جو چاہوں وہ کرتا ہوں، میری عطا (بھی) میرا کلام ہے اور میرا عذاب (بھی) میرا کلام ہے۔ میں جب کسی چیز کا ارادہ کروں تو میں صرف اتنا کہتا ہوں کہ ہوجا، سو وہ ہوجاتی ہے۔

(سنن الترمذی رقم الحدیث :2495، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :4257، مسند احمد ج ٥ ص 154 صحیح ابن حبان رقم الحدیث :619 حلیتہ الاولیاء ج ٥ ص 125، المستدرک ج ٤ ص 241)

سرادقھا کا معنی 

اس کے بعد فرمایا : ہم نے ظالموں کے لئے ایسی آگ تیار کی ہے جس (کے شعلوں) کی چار دیواری ان کا احاطہ کرے گی۔ اس آیت میں سرادق کا لفظ ہے، اس کا معنی ہے ہر وہ چیز جو کسی شے کا احاطہ کیے ہو خواہ چار دیواری ہو یا شامیانہ یا خیمہ وہ سرادق ہے۔ (النہایہ)

جوالیقی نے کہا یہ اصل میں فارسی لفظ ہے، اصل میں یہ لفظ سرادر تھا جس کا معنی دہلیز ہے اور بعض یہ کہتے ہیں کہ اصل میں یہ سرا پردہ تھا (الاتفان) علامہ زبیدی نے جو الیقی سے یہ نقل کیا ہے کہ یہ لفظ سر ادر اور سراطاق کا معرب ہے۔ علامہ راغب نے لکھا ہے کہ سرادق معرب ہے اور کلام عرب میں ایسا کوئی مفرد اسم نہیں ہے جس کا تیسرا حرف الف ہو، اور الف کے بعد دو حرف ہوں۔ البتہ ایسے اسم جمع ہیں جیسے مقابر اور مساجد۔ البتہ علامہ آلوسی نے اس سے اختلاف کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ علابط وغیرہ بھی اس وزن پر ہیں اور وہ اسم مفرد ہیں۔ (روح المعانی)

حضرت ابوسعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ دوزخ کے سرادق چار موٹی دیواریں ہیں ہر دیوار (کی موٹائی) چالیس سال کی مسافت ہے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث :2584، مسند احمد ج ٣ ص 29 مسند ابویعلی رقم الحدیث :1389 المستدرک ج ٤ ص 160) 

جس طرح خیمے کی قناتیں خیمے کو چاروں طرف سے محیط ہوتی ہیں اسی طرح دوزخیوں کو یہ دیواریں محیط ہوں گی، اس سے مراد یہ ہے کہ دوزخ سے نکلنے کے لئے کوئی راستہ نہیں ہوگا اور نہ ان دیواروں میں کوئی سوراخ ہوگا جس سے وہ دوزخ کے پار دیکھ سکیں، اور بعض نے کہا اس سے مراد دوزخ کا دھواں ہے جو ان کو اس طرح محیط ہوگا جس طرح خیمے کا قناتیں احاطہ کرلیتی ہیں۔

دوزخ کی آگ کے متعلق آیات اور احادیث 

اس کے بعد فرمایا : اگر وہ فریاد کریں گے تو ان کی فریاد اس پانی سے پوری ہوگی جو پگھلے ہوئے تانبے کی طرح ہوگا جو ان کے چہروں کو جلا دے گا۔ اس آیت میں المھل کا لفظ ہے۔

المھل کا معنی ہے تیل کی تلچھٹ، ہر معدنی چیز کو بھی مہل کہتے ہیں جیسے تانبا، سونا، چاندی، پگھلے ہوئے لوہے کے پانی کو بھی المھل کہتے ہیں۔ روغن زیتون، روغن زیتون کی تلچھٹ، مردے سے بہنے والا زرد پانی پیپ۔ (قاموس، منجد)

قرآن مجید میں دوزخیوں کے احوال کے متعلق یہ آیات ہیں :

تصلی تاراً حامیۃ تسفی من عین ایۃ (الغاشیہ 4-5)

وہ دہکتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے، ان کو نہایت گرم چشمے کا پانی پلایا جائے گا۔

سرابلھم من قطر ان وتغشی وجوھم النار (ابراہیم :50) 

ان کا لباس گندھک کا ہوگا اور آگ نے ان کے چہروں کو ڈھانپا ہوا ہوگا۔

انطلقوآ الی ظل ذی تلث شعب لاظلیل ولا یغنی من اللھب (المرسلات :30-31)

چلو تین شاخوں والے سائے کی طرف، جو نہ سائے والا ہے اور شعلہ سے بچا سکتا ہے۔

اور دوزخیوں کے احوال کے متعلق یہ احادیث ہیں :

حضرت ابوسعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کالمھل الکھف :29 کی تفسیر میں فرمایا : وہ پگھلے ہوئے تانبے کی طرح ہوگا جب دوزخی اس کو پینے کے لئے اپنے چہرے کی طرف لے جائے گا تو اس کے چہرے کی کھال جھڑجائے گی۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : 2581، مسند احمد ج و ص ٧٠)

حضرت ابوہریرہ (رض) باین کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : گرم پانی ان کے سروں کے اوپر سے انڈیلا جائے گا یہاں تک کہ وہ ان کے پیٹ تک پہنچ جائے گا حتیٰ کہ ان کے پیٹ میں جو کچھ ہے اس کو کاٹ ڈالے گا حتیٰ کہ وہ ان کے پیروں تک میں گھس کر پگھلا دے گا پھر ان کو پہلے کی طرح لوٹا دیا جائے گا۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث :8582، مسند احمد ج ہ ص 374)

حضرت ابوامامہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا ویسقی من ماء صدید، یتجرعہ (ابراہیم :16-17) اس کو پیپ کا پانی پلایا جائے گا، وہ اس کو ایک ایک گھونٹ کر کے پیے گا، اس پیپ کو اس کے منہ کے قریب کیا جائے گا، وہ اس کو ناپسند کرے گا، اور جب وہ اس کے زیادہ قریب کیا جائے گا تو وہ اس کے منہ کو جلا دے گا اور اس کی کھال گرپڑے گی، اور جب وہ اس کو پیے گا تو وہ اس کی انتڑیاں کاٹ ڈالے گا حتی کہ وہ اپنی اس کی مقعد سے نکل جائے گا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وسقواماء حمیما فقطع امعاء ھم۔ (محمد : ١٥) انہیں گرم پانی پلایا جائے گا جو ان کی انتڑیاں کاٹ ڈالے گا اور اللہ تعالیٰ فرما ات ہے : وان یستغیثوا ایغاثوا بماء کالمھل یشوی الوجوہ بئس الشراب (لاکھب :29) اگر وہ فریاد کریں گے تو ان کی فریاد اس پانی سے پوری ہوگی جو پگھلے ہوئے تانبے کی طرح ہوگا جو ان کے چہروں کو جلا دے گا، وہ کیسا برا پانی ہے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث :2483، مسند احمد ج ٥ ص 265، المعجم الکبیر رقم الحدیث :7460)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 18 الكهف آیت نمبر 29