أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَكَذٰلِكَ بَعَثۡنٰهُمۡ لِيَتَسَآءَلُوۡا بَيۡنَهُمۡ‌ ؕ قَالَ قَآئِلٌ مِّنۡهُمۡ كَمۡ لَبِثۡتُمۡ ؕ قَالُوۡا لَبِثۡنَا يَوۡمًا اَوۡ بَعۡضَ يَوۡمٍ‌ ؕ قَالُوۡا رَبُّكُمۡ اَعۡلَمُ بِمَا لَبِثۡتُمۡ ؕ فَابۡعَثُوۡۤا اَحَدَكُمۡ بِوَرِقِكُمۡ هٰذِهٖۤ اِلَى الۡمَدِيۡنَةِ فَلۡيَنۡظُرۡ اَيُّهَاۤ اَزۡكٰى طَعَامًا فَلۡيَاۡتِكُمۡ بِرِزۡقٍ مِّنۡهُ وَلۡيَتَلَطَّفۡ وَلَا يُشۡعِرَنَّ بِكُمۡ اَحَدًا ۞

ترجمہ:

اور اسی طرح ہم نے ان کو اٹھایا تاکہ ایک دوسرے کا حال پوچھیں ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا تم یہاں کتنی دیر ٹھہرے تھے ؟ انہوں نے کہا ہم ایک دن یا اس سے بھی کم ٹھہرے تھے، انہوں نے کہا تمہارا رب ہی خوب جاننے والا ہے کہ تم کتنی دیر ٹھہرے ہو، سو اب تم اپنے میں سے کسی کو چاندی کے یہ سکے دے کر شہر کی طرف بھیجو کہ وہ غور کرے کہ کون سا کھانا زیادہ پاکیزہ ہے اور اس میں سے تمہارے کھانے کے لئے لے کر آئے، اور اس کو چاہیے کہ وہ نرمی سے کام لے اور کسی کو تمہاری خبر نہ دے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے اور اسی طرح ہم نے ان کو اٹھایا تاکہ ایک دوسرے کا حال پوچھیں، ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا تم یہاں کتنی دیر ٹھہرے تھے ؟ انہوں نے کہا ہم ایک دن یا اس سے بھی کم ٹھہرے تھے، انہوں نے کہا تمہارا رب ہی خوب جاننے والا ہے کہ تم کتنی دیر ٹھہرے ہو۔ سو اب تم اپنے میں سے کسی کو چاندی کے یہ سکے دے کر شہر کی طرف بھیجو کہ وہ غور کرے کہ کون سا کھانا زیادہ پاجکیزہ ہے اور اس میں سے تمہارے کھانے کے لئے لے کر آئے اور اس کو چاہیے کہ وہ نرمی سے کام لے اور کسی کو تمہاری خبر نہ دے بیشک اگر وہ تم پر غالب آگئے تو وہ تم کو سنگسار کردیں گے یا وہ واپس تم کو اپنے دین میں لے آئیں گے اور پھر تم ہرگز فلاں نہ پاسکو گے (الکھف :19-20)

اصحاب کہف کا نیند سے اٹھ کر اپنے ایک ساتھی کو شہر کی طرف بھیجنا 

ان آیتوں کا مفصل معنی یہ ہے کہ جس طرح ہم نے ان کی ہدایت کو زیادہ کیا تھا اور ہم نے ان کے دل مضبوط کئے تھے اور ان کے کانوں پر نیند مسلط کی تھی اور ان کو سلایا تھا اور ان کو بغیر کھلانے پالنے کے زندہ رکھا تھا اور ان کی کروٹیں بدلاتے رہے تھے اسی طرح ہم نے ان کو اس نیند سے اٹھا دیا جو موت کے مشابہ تھی، تاکہ یہ ایک دوسرے سے سوال کریں اور اس بحث میں پڑیں کہ وہ کتنی دیر سوتے رہے تھے۔ اگر یہ سوال کیا جائے کہ کیا ان کو اٹھانے سے یہی غرض تھی کہ وہ اس بات میں بحث کریں کہ وہ کتنی مدت تک سوتے رہے تھے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بعید نہیں ہے کیونکہ جب وہ اپنی مدت قیام میں بحث کریں گے تو ان پر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قدرت منکشف ہوگی اور کئی عجیب و غریب امور معلوم ہوں گے۔ ان میں سے ایک شخص نے پوچھا ہم اس غار میں کتنی دیر ٹھہرے ہیں ؟ تو اس کے ساتھیوں نے کہا : ہم اس میں ایک دن یا دن کا کچھ حصہ ٹھہرے ہیں۔ مفسرین نے کہا ہے کہ وہ صبح کے وقت غار میں داخل ہوئے تھے اور اللہ تعالیٰ نے دن کے آخری حصہ میں ان کو اٹھایا تھا۔ اس لئے انہوں نے کہا کہ ہم اس میں ایک دن ٹھہرے ہیں، پھر جب انہوں نے دیکھا کہ ابھی سورج غروب نہیں ہوا تو انہوں نے کہا یا دن کا کچھ حصہ ٹھہرے ہیں۔ پھر انہوں نے کہا تمہارا رب ہی خوب جاننے والا ہے کہ تم کتنا عرصہ ٹھہرے تھے۔ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : یہ کہنے والا ان کا رئیس یملیخا تھا۔ اس نے کہا سو اب تم اپنے میں سے کسی کو چاندی کے یہ سکے دے کر شہر کی طرف بھیجو۔ مفسرین نے کہا ہے کہ ان کے پاس چاندی کے چند درہم تھے جن پر اس زمانہ کے بادشاہ کی تصویر بنی ہوئی تھی، اور یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ کھانے پینے کے حصول کے لئے کوشش کرنا جائز ہے اور اس سے توکل باطل نہیں ہوتا اور انہوں نے کہا کہ وہ غور کرے کہ کون سا کھانا زیادہ پاکیزہ ہے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : ان کی مراد یہ تھی کہ وہ تفتیش کر کے حلال ذبیحہ خرید کر لائے، کیونکہ ان کے شہر کے عام لوگ مجوسی تھے اور ان میں ایسے لوگ بھی تھے جو اپنا ایمان مخفی رکھتے تھے۔ مجاہد نے کہا ان کا بادشاہ ظالم شخص تھا، وہ لوگ کا مال غصب کرلیا کرتا تھا اس لئے وہ دیکھ بھال کر طعام خریدیں کہیں غلطی سے غصب شدہ طعام خرید کر نہ لے آئیں۔ ایک قول یہ ہے کہ وہ ڈھونڈھ کر لذیذ اور پسندیدہ طعام خرید کر لائیں۔ نیز فرمایا وہ نرمی سے کام لے اور کسی کو تمہارے متعلق خبر نہ دے۔ یعنی وہ چپکے سے شہر میں داخل ہو اور کسی کو اپنی قیام گاہ کے متعلق خبر نہ دے کیونکہ اگر وہ ہماری قیام گاہ پر مطلع ہوگئے تو وہ ہم سب کو قتل کر ڈالیں گے یا دوبارہ ہم کو اپنی بت پرستی کے طریقہ میں داخل کردیں گے اور پھر تم فلاح نہیں پا سکو گے۔ یعنی اگر تم ان کی بت پرستی کے طریقہ میں داخل ہوگئے تو پھر تم کو دنیا میں کوئی کامیابی حاصل ہوگی نہ آخرت میں۔

وکیل بنانے کے متعلق قرآن مجید کی آیات :

فابعثوآ احدکم بورقکم ھذہ الی المدینۃ فلینظر ایھا ار کی طعاماً فلیاتکم یرزق منہ (الکھف 19)

سو اب تم اپنے میں سے کسی کو چاندی کے یہ سکے دے کر شہر کی طرف بھیجو کہ وہ غور کرے کہ کون سا کھانا زیادہ پاکیزہ ہے اور اس میں سے تمہارے کھانے کے لئے لے کر آئے۔

اس آیت میں خریدو فروخت کے لئے کسی کو وکیل بنانے کا ثبوت ہے، کیونکہ اصحاب کہف نے اپنے ایک ساتھی کو سکے دے کر کھانا خریدنے کے لئے بھیجا تھا۔ نیز قرآن کریم میں ہے :

انما الصدقت للفقرآء و المسکین والعملین علیھا (التوبتۃ :60)

صدقات صرف فقیروں اور مسکینوں کے لئے ہیں اور ان کے لئے ہیں جو صدقات کو وصل کرنے والے ہیں۔

اس آیت میں زکوۃ وصول کرنے کے لئے عامل بنانے کا ثبوت ہے۔ جو زکوۃ وصول کر کے لائیں گے پھر ان عاملین کو اس زکواۃ میں سے ان کا حق خدمت دیا جائے گا۔

وکیل بنانے کے متعلق احادیث 

حضرت ابو موسیٰ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو مسلمان خازن امین ہو اور اس کو جس چیز کے دینے کا حکم دیا جائے (خواہ صدقات فریضہ سے یانفلیہ سے) وہ اس کو پورا پور اخوشی سے اس کو دے دے جس کو دینے کا اس کو حکم دیا گیا تھا تو وہ بھی (اللہ کے نزدیک) صدقہ کرنے والوں میں سے ایک ہوگا۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث : 1438، صحیح مسلم رقم الحدیث : 1023، سنن ابو دائود رقم الحدیث :1684، سنن الترمذی رقم الحدیث :2559) 

اس حدیث میں زکوۃ اور صدقات وصول کرنے کے لئے وکیل بنانے کا ثبوت ہے۔

حضرت ابو حمید الساعدی (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قبیلہ ازد کے ایک شخص کو صدقات وصول کرنے کا عامل بنایا، اس کا نام ابن اللتبیہ تھا۔ جب وہ صدقات وصول کر کے آیا تو اس نے کہا یہ مال تمہارے لئے ہے اور یہ مال مجھے ہدیہ کیا گیا ہے، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوئے اور آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد اور ثناء کی پھر آپ نے فرمایا : حمد و صلوۃ کے بعد میں تم میں سے کسی شخص کو اس کام کے لئے عامل بناتا ہوں جن کاموں کا اللہ نے مجھے ولی بنایا ہے اور وہ آ کر یہ کہتا ہے کہ یہ تمہارے لئے ہے اور اس کا مجھ پر ہدیہ کیا گیا ہے، وہ اپنے باپ یا اپنی ماں کے گھر میں کیوں نہیں بیٹھ گیا حتی کہ اس کے پاس ہدیہ آتا اگر وہ سچا ہے اللہ کی قسم تم میں سے جس شخص نے بھی کوئی ناحق چیز لی تو قیامت کے دن وہ شخص اس چیز کو اٹھائے ہوئے اللہ سے ملاقات کرے گا، میں تم میں سے کسی شخص کو اس دن نہیں پہچانوں گا، کوئی شخص بڑ بڑاتے ہوئے اونٹ کو اٹھائے ہوئے ہوگا اور کوئی شخص ڈکراتی ہوئی گائے کو اٹھائے ہوئے ہوگا، اور کوئی شخص ممیاتی ہوئی بکری کو اٹھائے ہوئے ہوگا، پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے حتی کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی (کی جگہ) دکھائی دی اور فرمایا : اے اللہ کیا میں نے تبلیغ کردی ہے ؟

(صحیح البخاری رقم الحدیث 2597 صحیح مسلم رقم الحدیث 1832 سنن ابو دائود رقم الحدیث 2946، مسند احمد ج 5 ص 423، مسند الحمیدی رقم الحدیث :840 سنن الداری رقم الحدیث 1676، 2496، جامع الاصول رقم الحدیث 2736)

اس حدیث میں بھی زکوۃ کی وصول یابی کے لئے وکیل بنانے کا ثبوت ہے۔

حضرت ابو سعید خدری اور حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص کو خیبر پر عامل بنایا۔ وہ وہاں سے جنیب کھجوریں لے کر آیال۔ آپ نے اس سے پوچھا : کیا خیبر کی تمام کھجوریں اس طرح ہیں ؟ اس نے کہا : نہیں ہم دو صاع (آٹھ کلو گرام) کھجوریں دے کر یہ ایک صاع (چار کلو گرام) کھجوریں لیتے ہیں اور تین صاع دے کردو صاع لیتے ہیں۔ آپ نے فرمایا : ایسا نہ کرو، تم کھجوریں دراہم کے عوض پیچو پھر دراہم کے عوض جنیب کھجوریں خریدو اور وزن میں بھی اسی طرح کرو۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث 2303، سنن النسائی رقم الحدیث :4553)

اس حدیث میں خریدو فروخت کرنے اور وزن کرنے میں وکیل بنانے کا ثبوت ہے۔

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تقاضا کرنے آیا اور اس نے سختی سے تقاضا کیا۔ آپ کے اصحاب نے اس کو مارنے کا قصد کیا۔ پس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کو چھوڑ دو کیونکہ جس شخص کا حق ہو اس کو بات کرنے کی گنجائش ہوتی ہے۔ پھر فرمایا جتنی عمر کا اونٹ اس نے دیا تھا، اس کو اتنی عمر کا اونٹ دے جس شخص کا حق ہو اس کو بات کرنے کی گنجائش ہوتی ہے۔ پھر فرمایا جتنی عمر کا اونٹ اس نے دیا تھا، اس کو اتنی عمر کا اونٹ دے دو ۔ مسلمانوں نے کہا یا رسول اللہ ! اس نے جتنی عمر کا اونٹ دیا تھا، ہمارے پاس اس سے زیادہ عمر کا اونٹ ہے۔ آپ نے فرمایا وہی دے دو ، تم میں بہترین شخص وہ ہے جو قرض کو اچھی طرح ادا کرے۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث :2306 سنن الترمذی رقم الحدیث 1316 سنن النسائی رقم الحدیث :4617 سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :2433) 

اس حدیث میں قرض کی ادائیگی کے لئے وکیل بنانے کا ثبوت ہے۔ 

حضرت سہل بن سعد (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں نے آپ کو اپنا نفس ہبہ کردیا۔ ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ ! اس کا میرے ساتھ نکاح کردیجیے۔ آپ نے فرمایا : تم کو جو قرآن یاد ہے اس کی وجہ سے میں نے اس کے ساتھ تمہارا نکاح کردیا۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث :2310 سنن النسائی رقم الحدیث :3339 سنن ابودائود رقم الحدیث 2111 سنن الترمذی رقم الحدیث :1114، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :1889، مسند احمد رقم الحدیث :23238)

اس حدیث میں عورت کا نکاح کے لئے وکیل بنانے کا ثبوت ہے۔

حضرت زید بن خالد اور حضرت ابو ہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :

اے انیس ! صبح کو اس عورت کے پاس جائو اگر یہ عورت (بدکاری کا) اعتراف کرلے تو اس کو سنگسار کردو۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث :2314، سنن ابو دائود رقم الحدیث 4445، سنن الترمذی رقم الحدیث 1423 سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :2549) اس حدیث میں اجراء حد کے لئے وکیل بنانے کا ثبوت ہے۔

حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے خیبر کی طرف جانے کا ارادہ کیا۔ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گیا اور آپ کو سلام کیا اور میں نے آپ سے عرض کیا میرا خیبر کی طرف جانے کا ارادہ ہے۔ آپ نے فرمایا، جب تم میرے وکیل کے پاس جائو تو اس سے پندرہ وسق لے لینا (ایک وسق 240 کلو گرام کا ہے) اگر وہ تم سے کوئی نشانی طلب کرے تو اس کے حلقوم پر ہاتھ رکھ دینا۔ (سنن ابودائود رقم الحدیث :2632)

اس حدیث میں مال پر قبضہ کے لئے وکیل بنانے کا ثبوت ہے۔

حضرت حکیم بن حزام (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں ایک دینار دے کر بھیجا کہ وہ ان کے لئے قربانی کا جانور خرید کر لائیں۔ انہوں نے ایک دینار کا مینڈھا خریدا اور اس کو دو دینار میں فروخت کردیا، پھر ایک دینار میں ایک قربانی کا جانور خرید لیا، پھر رسول اللہ اللہ تعالیٰ کے پاس ایک دینار اور قربانی کا جانور لے کر آیا۔ آپ نے ایک دینارصدقہ کردیا اور ان کے لئے دعا کی کہ اللہ ان کو تجارت میں برکت دے۔

(سنن الترمذی رقم الحدیث :1257 سنن ابودائود رقم الحدیث :3386)

اس حدیث میں خریدو فروخت کے لئے وکیل بنانے کا ثبوت ہے۔

حضرت عروہ بن ابی الجمدار البارقی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو ایک دینار دیا تاکہ وہ ایک بکری خرید کر لائیں۔ انہوں نے ایک دینار کی دو بکریاں خریدیں پھر ایک بکری کو ایک دینار کے عوض فروخت کردیا اور آپ کے پاس وہ بکری اور ایک دینار لے کر آئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو خیرد و فروخت میں برکت کی دعا کی، پھر اگر وہ مٹی بھی خریدتے تو ان کو اس نفع ہوتا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث 3642)

اس حدیث میں بھی خریدو فروخت کے لئے وکیل بنانے کا ثبوت ہے۔

حضرت رافع بن خدیج (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن سہل بن زید اور محیصہ بن مسعود بن زید خیبر میں گئے اور ورہاں کسی جگہ میں الگ الگ ہوگئے پھر حضرت محیصہ کو حضرت عبداللہ بن سہل کی لاش ملی۔ انہوں نے ان کو دفن کردیا، پھر وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گئے اور حضرت حویصہ بن مسعود اور حضرت عبدالرحمٰن بن سہل، اور عبدالرحمٰن ان میں سب سے چھوٹے تھے، حضرت عبدالرحمان اپنے دونوں اصحاب سے پہلے بات کرنے لگے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، بڑی عمر والے کو بات کرنے دو تو وہ خاموش ہوگئے۔ پھر ان کے دونوں صاحبوں نے اس معاملہ میں بات کی اور حضرت عبدالرحمان بن سہل نے بھی ان کے ساتھ بات کی، اور انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وہ جگہ بتائی جہاں حضرت عبداللہ بن سہل کی لاش ملی تھی۔ آپ نے ان سے فرمایا : کیا تم پچاس قسمیں کھائو گے ؟ پھر تم اپنے مقتول کی دیت یا اس کے قاتل کے مستحق ہو جائو گے۔ انہوں نے کہا ہم کیسے قسم کھا سکتے ہیں جبکہ ہم قتل کے موقع پر حاضر نہیں تھے۔ آپ نے فرمایا پھر یہود پچاس قسمیں کھا کر تم سے بری ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہا ہم کافروں کی قسموں کو کس طرح قبول کرسکتے ہیں ؟ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ معاملہ دیکھا تو خوددیت ادنا کردی۔

(سنن الترمذی رقم الحدیث، 1421، صحیح البخاری رقم الحدیث :2702، 3173، 6142، صحیح مسلم رقم الحدیث :1669، سنن ابو دائود رقم الحدیث :4520 سنن النسائی رقم الحدیث 4733 سنن ابن ماجہ رقم الحدیث 2677، مئوطا امام مالک رقم الحدیث :877 صحیح ابن حبان رقم الحدیث 6009 المعجم الکبیر رقم الحدیث 4468، مسند احمد ج ٤ ص 142)

اس حدیث میں یہ تصریح ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، بڑی عمر والے کو بات کرنے دو یعنی اس فوجداری مقدمہ میں بڑے عمر والے رشتہ دار کو وکیل بنائو۔

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے کسی ظالم کی مدد کی تاکہ باطل عوض لے کر حق کو باطل ثابت کرے، وہ اللہ کے ذمہ اور اس کے رسول کے ذمہ سے بری ہوگیا۔

(المعجم الاوسط رقم الحدیث 2944، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت 1420 ھ)

اس حدیث میں یہ تصریح ہے کہ کسی جھوٹے مقدمہ میں وکیل بنانا گناہ ہے۔

حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے کسی مقدمہ میں ظلم کی مدد کی یا بغیر علم کے کسی مقدمہ میں مدد کی، وہ ہمیشہ اللہ کی ناراضگی میں رہے گا حتی کہ اس کو چھوڑ دے۔

(المعجم الاوسط رقم الحدیث :2942، مطبوعہ مکتبتہ المعارف ریاض 1407 ھ)

اس حدیث میں یہ تصریح ہے کہ کوئی شخص کسی ظالم کے مقدمہ میں وکیل نہ بنے اور نہ کسی ایسے مقدمہ میں جس کے حق یا باطل ہونے کا اسے علم نہ ہو۔

وکالت کا لغوی اور شرعی معنی 

اصحاب کہف نے اپنے ایک ساتھی کو شہر سے طعام خرید کر لانے کے لئے جو بھیجا تھا، اس میں کسی شخص کو وکیل بنانے کا ثبوت ہے۔ وکیل بنانے کا طریقہ زمانہ جاہلیت اور اسلام دونوں میں رائج رہا۔ مسلمان کا مسلمان کو وکیل بنانا اور مسلمان کافر کو وکیل بنانا، دونوں جائز ہیں۔ تو کیل کا لغوی معنی ہے تفویض یعنی اپنا کام کسی کے سپرد کردینا اور کسی معاملہ میں کسی شخص کو اپنا نائب بنانا، وکیل اپنے مئوکل کا قائم مقام ہوتا ہے۔ وکالت کا شرعی معنی یہ ہے :

انسان کا اپنے غیر کو کسی تصرف معلوم میں اپنا قائم مقام بنانا۔ حتی کہ اگر تصرف معلوم نہ ہو تب بھی وکیل کے لئے ادنیٰ تصرف ثابت ہوگا اور وہ ہے مئوکل کی چیز کی حفاظت کرنا اور مبسوط میں مذکور ہے کہ اگر کسی شخص نے دوسرے سے یہ کہا کہ میں نے تمہیں اپنے مال کا وکیل بنادیا ہے تو وہ ان الفاظ کے ساتھ اپنے مئوکل کے مال کا وکیل ہے۔

وکالت کے ارکان 

(١) جب کوئی شخص کسی سے یہ کہہ دے کہ میں نے تمہیں اس چیز کے خریدنے یا بیچنے کا وکیل بنایا ہے تو توکیل صحیح ہے۔ (السراج الوہاج)

(٢) وکیل کا قبول کرنا صحت وکالت کے لئے شرط نہیں ہے، لیکن جب وکیل نے وکالت کو رد کردیا تو اب وکالت صحیح نہیں ہے۔ 

(٣) جب کسی آدمی نے کسی غائب شخص کو وکیل بنایا اور اس کو کسی شخص نے وکیل بنانے کی خبر دے دی تو وہ وکیل ہوجائے گا۔ عام ازیں کہ خبر دینے والا نیک ہو یا بدکار۔ خواہ اس نے اپنی طرف سے خبر دی ہو یا اس کا پیغام پہنچایا ہو۔ وکیل نے اس کی تصدیق کی ہو یا تکذیب کی ہو۔ (الذخیرہ)

مئوکل کے اعتبار سے شرائط 

(١) مجنون اور ناسمجھ بچے کا وکیل بنانا صحیح نہیں ہے۔ اسی طرح سمجھدار بچے کے لئے ان چیزوں کا وکیل بنانا صحیح نہیں ہے جن کا وہ خود مالک نہیں ہے۔ مثلاً طلاق دینا، ہبہ کرنا، صدقہ کرنا اور ایسے امور جن میں دنیاوی طور پر محض ضرر ہو اور اس کا تصرفات نافعہ میں وکیل بنانا صحیح ہے جیسا کہ ولی کی اجازت کے بغیر صدقہ اور ہبہ کو قبول کرنا۔

(٢) وہ تصرفات جو نفع اور ضرر کے درمیان دائر ہوتے ہیں جیسے خریدو فرخت کرنا، کوئی چیز کرائے پر دینا یا لینا، ان چیزوں کے اگر اس کو تجارت کی اجازت دی ہوئی ہے تو اس کا ان چیزوں میں وکیل بنانا بھی صحیح ہے اور اگر اس کے ولی نے اس کو تجارت کرنے کی اجازت نہیں دی ہے تو اس کا وکیل بنانا بھی ولی کی اجازت پر موقوف ہے۔

وکیل کے اعتبار سے شرائط 

(١) وکیل کے لئے ضروری ہے کہ وہ عاقل ہو، مجنون اور ناسمجھ بچے کو وکیل بنانا صحیح نہیں ہے، بلوغ اور حریت وکیل کے لئے شرط ہے، اس لئے نابالغ اور عبد ماذون کو وکیل بنانا بھی صحیح نہیں ہے۔

(٢) یہ ضروری ہے کہ وکیل کو یہ معلوم ہو کہ اس کو وکیل بنایا گیا ہے۔

(٣) کسی مسلمان نے کسی حربی کو دارالحرب میں وکیل بنایا اور مسلمان دارالاسلام میں ہو تو یہ وکالت صحیح نہیں ہے، اسی طرح اگر حربی نے دارالحرب میں کسی مسلمان کو دارالاسلام میں وکیل بنایا ہو تو یہ وکالت بھی باطل ہے۔

(٤) جب کسی حربی نے مسلمان یا ذمی یا حربی کو دارالاسلام میں قرض کے تقاضا کرنے کا وکیل بنایا ہو اور الہ اسلام میں سے کسی کو اس پر گواہ بنایا ہو پھر اس کا وکیل دارالحرب سے اس کو طلب کرنے گیا ہو تو یہ جائز ہے۔ اسی طرح جب اس نے خریدو فروخت کرنے کے لئے یا کسی امانت پر قبضہ کرنے کے لئے یا اس طرح کے کسی اور کام کے لئے وکیل بنایا ہو تو یہ بھی جائز ہے۔

(٥) اسی طرح کسی مسلمان یا ذمی نے مستامن حربی کو دارالاسلام میں کسی مقدمہ یا کسی چیز کو فروخت کرنے کا وکیل بنایا ہو یا کسی اور چیز کا وکیل بنایا ہو تو یہ جائز ہے اور جب وہ دارالحرب میں چلا جائے گا تو وکالت باطل ہوجائے گی۔

جس چیز میں وکالت ہے، اس کے اعتبار سے شرائط 

(١) حقوق کی دو قسمیں ہیں : اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق اور اللہ کے حقوق کی دو قسمیں ہیں ایک وہ قسم ہے جس میں دعویٰ کرنا شرط ہے جیسے حد قذف اور حد سرقہ۔ امام ابوحنیفہ اور امام محمد کے نزدیک اس قسم کے اثبات میں وکیل بنانا جائز ہے، خواہ مئوکل حاضر ہو یا غائب ہو اور ایک قسم وہ ہے جس میں دعویٰ کرنا شرط نہیں ہے۔ زنا کی حد اور شراب نوشی کی حد، اس قسم میں وکیل بنانا جائز نہیں ہے۔ حد کے اثبات میں نہ حد جاری کرانے میں اور حد سرقہ میں چور کے پاس مال کو ثابت کرنے میں کسی کو وکیل بنانا بالا جماع جائز ہے۔

(٢) حقوق العباد کی بھی دو قسمیں ہیں : ایک وہ قسم ہے جس میں شبہ کے ساتھ حد کو پورا کرانا جائز نہیں ہے جیسے قصاص ہے۔ امام ابوحنیفہ اور امام محمد کے نزدیک اس میں قصاص کے اثبات کے لئے وکیل بنانا جائز ہے، اور قصاص لینے کے لئے اگر مئوکل جو ولی قصاص ہے اگر وہ حاضر ہو تو وکیل بنانا جائز ہے اور اگر وہ غائب ہو تو وکیل بنانا جائز نہیں ہے اور حقوق اعلباد کی ایک وہ قسم ہے جس کو شبہ کے باوجود وصول کرنا جائز ہے جیسے قرضہ جات، چیزیں اور تمام حقوق، قرض اور کسی خاص چیز کو ثابت کرنے کے مقدمہ میں وکیل بنانا جائز ہے اور قصاص کے علاوہ باقی حقوق میں بھی فریق مخالف کی رضا سے وکیل بنانا بالا جماع جائز ہے اور تعزیرات میں حق کو ثابت کرنے کے لئے بھی اور وصول کرنے کے لئے بھی وکیل بنانا جائز ہے۔

(٣) خریدو فروخت میں، کرایہ کے لین دین میں، نکاح، طلاق، خلع، صلح، اعارہ، استعارہ، ہبہ، صدقہ، امانت رکھنے، حقوق کے قبضہ قرض کے تقاضے رہن رکھنے اور اس قسم کے دیگر مقدمات میں وکیل بنانا جائز ہے۔

(٤) مباح چیزوں میں وکیل بنانا جائز نہیں ہے مثلاً لکڑیاں اور گھاس چننے میں اور معدنیات سے جواہر نکالنے میں پس وکیل کو جو چیز ملی وہ اس کی ہے۔ (فتاویٰ عالمگیری ج ٣ ص 560-564 ملحضا، مطبوعہ مطبعہ امیر یہ کبریٰ بولاق مصر، 1310 ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 18 الكهف آیت نمبر 19