أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَا تَقُوۡلَنَّ لِشَاىۡءٍ اِنِّىۡ فَاعِلٌ ذٰ لِكَ غَدًا۞

ترجمہ:

اور آپ کسی کام کے متعلق یہ ہرگز نہ کہیں کہ میں کل یہ کام کرنے والا ہوں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور آپ کسی کام کے متعلق یہ ہرگز نہ کہیں کہ میں کل یہ کام کرنے والا ہوں مگر یہ کہ اللہ چاہے اور جب بھی آپ بھول جائیں تو اپنے رب کو یاد کرلیں اور آپ کہیے کہ عنقریب میرا رب مجھے اس سے زیادہ ہدایت کے قریب راستہ دکھائے گا۔ (الکھف :23-24)

ان شاء اللہ کہنے کے ترک کی ممانعت 

ابوصالح نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ ان آیتوں کے نزول کا سبب یہ ہے کہ قریش نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روح اور اصحاب کہف کے متعلق سوال کیا۔ آپ نے اس اعتماد سے کہ آپ پر آج وحی نازل ہوجائے گی، فرمایا : میں تمہیں کل بتادوں گا اور آپ انشاء اللہ کہنا بھول گئے۔ پس حضرت جبرائیل نے پندرہ دن تاخیر کردی کیونکہ آپ نے انشاء اللہ نہیں فرمایا تھا اور اس کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ یوں ہرگز نہ کہیں کہ میں کل فلاں کام کروں گا بلکہ یوں کہیں کہ انشاء اللہ میں کل فلاں کام کروں گا۔

مفسرین نے ان آیتوں کے تین معانی ذکر کئے ہیں :

(١) جب آپ انشاء اللہ کہنا بھول جائیں پھر آپ کو بعد میں یاد آئے تو آپ انشاء اللہ کہہ لیں، یہ جمہور کا قول ہے۔ 

(٢) اذانسیت کا معنی ہے، اذا غضبت یعنی جب آپ غضب ناک ہوں تو انشاء اللہ کہیں کیونکہ غضب کی وجہ سے نسیان ہوتا ہے۔ یہ عکرمہ اور ماوردی کا قول ہے۔

(٣) جب آپ کسی چیز کو بھول جائیں تو کو یاد کریں تاکہ اللہ تعالیٰ آپ کو وہ چیز یاد دلا دے۔

(زاد المسیرج ٥ ص 127-128 مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت، 1408 ھ)

ان شاء اللہ کہنے کے فقہی مسائل 

ان شاء اللہ کہنے کا فائدہ یہ ہے کہ انسان کسی کام کا وعدہ کرے اور پھر وہ کام نہ کرسکے تو اس کی وعدہ خلافی نہیں جیسے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا تھا :

ستجدنی ان شآء اللہ صابراً (الکھف :70) اگر اگگہ نے چاہا تو عنقریب آپ مجھے صبر کرنے والا پائیں گے۔

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ، حضرت خضر (علیہ السلام) کے بہ ظاہر غیر شرعی کاموں پر اعتراض کرنے سے صبر نہیں کرسکے تھے لیکن چونکہ انہوں نے انشاء اللہ کہا تھا اس لئے ان کے وعدہ کی خلاف ورزی نہیں ہوئی۔

امام مالک اور امام احمد کا یہ مذہب ہے کہ جب کسی شخص نے اپنی بیوی سے کہا انشاء اللہ تم کو طلاق ہے تو یہ طلاق واقع ہوجائے گی اور امام ابوحنیفہ اور امام شافعی کا یہ مذہب ہے کہ یہ طلاق نہیں ہوگی اور اگر کسی شخص نے قسم کے ساتھ انشاء اللہ کہا تو اس میں اتفاق ہے کہ وہ قسم منعقد نہیں ہوگی۔

ان شاء اللہ کہنے کے وقت میں تین اقوال ہیں :

(١) ائمہ اربعہ اور اکثر فقہاء کا مذہب یہ ہے کہ اگر کلام کے ساتھ مصل انشاء اللہ کہا جائے تو استثناء درست ہوگا ورنہ نہیں۔ مثلاً اس نے قسم کے ساتھ متصل انشاء اللہ کہا تو قسم منعقد نہیں ہوگی اور کچھ دیر بعد انشاء اللہ کہا تو قسم منعقد ہوجائے گی۔

(٢) جب تک وہ مجلس میں موجود ہے اس کا انشاء اللہ کہنا معتبر ہوگا اور مجلس کے بعد معتبر نہیں ہوگا، یہ حسن اور طائوس کا قول ہے اور امام احمد سے بھی ایک روایت ہے۔

(٣) حضرت ابن عباس (رض) ، مجاہد اور سعید بن جبیر نے یہ کہا کہ اگر اس نے ایک سال بعد بھی انشاء اللہ کہا تو معتبر ہوگا۔

(ایک متربہ منصور کو یہ بات پہنچی کہ امام ابوحنیفہ نے حضرت ابن عباس کے مذہب کی مخالفت کی ہے۔ اس نے امام ابوحنیفہ کو بلا کر باز پرس کی اور کہا تم ہمارے دادا کے مذہب کی مخالفت کرتے ہو ! امام اعظم نے فرمایا امیر المومنینچ حضرت ابن عباس کا مذہب تو آپ کے لئے نقصان دہ ہے۔ منصور نے پوچھا وہ کیسے ؟ امام اعظم نے فرمایا ایک شخص دربار میں آ کر آپ کے ہاتھ پر بیعت خلات کرے گا اور باہر آ کر کہہ دے گا انشاء اللہ تو پھر یہ بیعت لازم نہیں ہوگی۔ منصور یہ جواب سن کر بہت متاثر ہوا اور امام اعظم کی تحسین کی۔ (تفسیر کبیرج ٧ ص 452، زاد المسیرج ٥ ص 128-129، مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت، 1407 ھ)

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو علوم الغیب عطا فرمانا 

علامہ علی بن الواحدی المتوفی 468 ھ لکھتے ہیں :

جب کفار مکہ نے بہ طور عناد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اصحاب کہف کے قصہ کے متعلق سوال کیا تو یہ آیت نازل ہوئی : آپ کہیے کہ عنقریب میرا رب مجھے اس سے زیادہ ہدایت کے قریب راستہ دکھائے گا یعنی آپ کی نبوت پر اور بہت دلائل نازل فرمائے گا، جو بہت زیادہ واضح ہوں گے اور ہدایت کے حصول کے زیادہ قریب ہوں گے اور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایسا کردیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو مرسلین کے احوال کے بہت علوم الغیب عطا فرمائے۔

(الوسیط ج ٣ ص 143، معالم اتنزیل ج ٣ ص 131، زاد المسیرج ٥ ص 129)

ان شاء اللہ کہنے کو بھولنے کی حکمتیں 

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا میں تمہیں کل اس کی خبر دے دوں گا اور آپ انشاء اللہ کہنا بھول گئے تھے۔ آپ کے بھول جانے میں امت کے لئے رحمت ہے، پہلی رحمت تو یہ ہے کہ آپ کے بھول جانے کی وجہ سے یہ آیتیں نازل ہوئیں اور یہ بات ازل میں مقرر تھی کہ آپ بھولیں گے اور یہ آیات نازل ہوں گی۔ دوسری رحمت یہ ہے کہ اس سے یہ مسئلہ معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص انشاء اللہ کہنا بھول جائے تو وہ اس کا کس طرح تدارک کرے اور تیسری رحمت یہ ہے کہ یہ واقعہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دعویٰ نبوت کی صحت کی دلیل بن گیا کیونکہ کفار یہ کہتے تھے کہ یہ قرآن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تصنیف ہے اور یہ کیونکہ اگر یہ قرآن آپ کا اپنا بنایا ہوا کلام ہوتا تو جب آپ نے فرمایا تھا میں کل اس کی خبر دوں گا تو آپ آنے والی کل بتا دیتے کہ ان کا کیا قصہ ہے اور جب آپ پر اس دن وحی نازل نہیں ہوئی بلکہ مسسل پندرہ دن تک وحی نازل نہیں ہوئی تو معلوم ہوگیا کہ یہ آپ کا کلام نہیں ہے اور نہ اس کا نزول آپ کے اختیار میں ہے بلکہ یہ اللہ کا کلام ہے وہ جب چاہتا ہے اس کلام کو نازل اور یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ وحی کا نزول آپ کے اختیار میں نہیں ہے اور نہ یہ قرآن آپ کا کلام ہے بلکہ یہ اللہ کی نازل کی ہوئی وحی ہے اور آپ پر وحی کا نزول ہی آپ کی نبوت اور رسالت کی دلیل ہے۔

نسیان کا لغوی اور اصطلاحی معنی 

جو چیز انسان کی قوت حافظہ میں ہوا اور اس کی طرف سے توجہ ہٹ جائے تو اس کو سہو اور ذھول کہتے ہیں اور جب وہ چیز حافظہ سے نکل جائے تو اس کو نسیان کہتے ہیں اور نسیان کے لغوی معنی ہیں کسی چیز کا یاد نہ رہنا اور اس کو بھول جانا۔

علامہ شہاب الدین احمد خفا جی متوفی 1069 ھ لکھتے ہیں :

قاضی عیاض نے کہا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نماز میں سہو ہوتا تھا، نسیان نہیں ہوتا تھا۔ (الشفاء ج ٢ ص 123 بیروت)

اس کی وجہ یہ ہے کہ سہو اور نسیان میں فرق ہے۔ حافظ العلائی نے کہا ہے کہ نسیان غفلت اور آفت ہے اور سہو کسی چیز میں دل کے مشغول ہونے سے ہوتا ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نماز میں سہو تو ہوتا تھا لیکن آپ نماز سے غافل نہیں ہوتے تھے۔ اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے آپ نے فرمایا : میں تمہاری مثل بشر ہوں جس طرح تم بھولتے ہو اسی طرح میں بھولتا ہوں اور ائمہ لغت نے ان دونوں کو مساوی قرار دیا ہے کیونکہ دونوں کی تفسیر یہ کی ہے : غفلت، دل سے کسی چیز کا نکل جانا۔ علامہ راغب نے کہا ہے غفلت سے کسی چیز میں خطا کرنا سہو ہے اور اس کی دو قسمیں ہیں ایک قسم وہ ہے جس میں انسان کی تقصیر نہیں ہوتی، یہ وہ ہے جس کا سبب اس سے صادر نہ ہو، اور دوسری قسم وہ ہے جس میں اس نے سبب صادر کیا ہو۔ مثلات اس نے کوئی نشہ آور چیز قصداً اسعتمال کی جس کی وجہ سے غافل ہوا، غفلت کی یہ قسم مذموم ہے۔ تہذیب، صحاح اور محکم میں اسی طرح مذکور ہے، اور النہایہ میں مذکور ہے بغیر علم کے کسی چیز کو ترک کردینا سہو ہے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا سہو علم کے باوجود کسی چیز کو ترک کرنا ہے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جو نماز میں سہو ہوا وہ اسی قسم کا ہے اور میں یہ کہتا ہوں کہ سہو اور نسیان میں بلاشبہ فرق ہے جو چیز قوت حافظ میں ہو، اس سے معمولی غفلت سہو ہے حتیٰ کہ ادنیٰ متنبیہ سے انسان اس چیز پر متنبہ ہوجائے اور نسیان یہ ہے کہ وہ چیز قوت حافظہ سے باکل ہی زائل ہوجائے۔ (نسیم الریاض ج ٣ ص 161، مطبوعہ دارالفکر بیروت)

تحقیق یہ ہے کہ انسان کو جس چیز کا علم ہوتا ہے اس چیز کی صورت اس کی قوت مدرکہ میں بھی ہوتی ہے اور قوت حافظہ میں بھی ہوتی ہے۔ جب آدمی کسی چیز میں بہت مشغول ہو تو اس چیز کی صورت اس کی قوت مدرکہ سے نکل جاتی ہے لیکن قوت حافظہ میں باقی رہتی ہے اس کو سہو کہتے ہیں اور کسی کے یاد دلانے سے یالقمہ دینے سے اس کو وہ چیز یاد آجاتی ہے اور کسی بیماری یا آفت کی وجہ سے اس چیز کی صورت اس کی قوت مدرکہ کے علاوہ حافظہ سے بھی نکل جاتی ہے اور یاد دلانے سے بھی یاد نہیں آتی اور اس کو دوبارہ یاد کرنا پڑتا ہے، اس کو نسیان کہتے ہیں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سہو ہوجاتا تھا لیکن آپ کو نسیان نہیں ہوتا تھا۔

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف نسیان کی نسبت کی تحقیق 

امام مالک نے اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک میں بھول جاتا ہوں یا بھلا دیا جاتا ہوں تاکہ میرا فعل سنت بنایا جائے۔ (مئوطا امام مالک رقم الحدیث :228، کتاب السہو : ٣، مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت، 1420 ھ)

اسی طرح جب آپ کو نماز میں سہو ہوا تو آپ نے فرمایا : میں محض بشر ہوں (یعنی خدا نہیں ہوں) میں اس طرح بھولتا ہوں جس طرح تم بھولتے ہو پس جب میں بھول جائوں تو تم مجھے یاد دلایا دیا کرو۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث :401، صحیح مسلم رقم الحدیث :572، سنن ابودائود رقم الحدیث :1020، سنن النسائی رقم الحدیث :1242، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :1211)

ہم نے اوپر یہ لکھا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نسیان نہیں ہوتا تھا اور ان حدیثوں میں آپ کی طرف نسیان کی نسبت کی گئی ہے اسی طرح اس آیت میں ہے : واذکر ربک اذانسیت۔ (الکھف :24) اور اپنے رب کو یاد کیجیے جب آپ بھول جائیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ان حدیثوں میں نسیان مجازاً سہو کے معنی میں ہے اور اس پر قرینہ یہ ہے کہ آپ نے اسی موقع پر یہ فرمایا تھا جب آپ کو نماز میں سہو ہوگیا تھا اور آپ نے ظہر یا عصر کی نماز کی پانچ رکعات پڑھ لی تھیں اور اس آیت میں بھی نسیان، سہو کے معنی میں ہے کیونکہ آپ کی توجہ انشاء اللہ کہنے کی طرف نہیں ہوئی تھی، یہ بات نہیں تھی کہ انشاء اللہ کہنا آپ کی قوت حافظہ سے بالکل نکل گیا تھا اور آپ کو از سر نو اس کو یاد کرنے کی ضرورت تھی۔

لیلۃ التعریس میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت بلال کو صبح کی نماز کے وقت اٹھانے پر مامور کیا تھا لیکن کسی کی آنکھ نہیں کھلی حتیٰ کہ سورج نکل آیا۔

(صحیح مسلم رقم الحدیث :680، سنن ابودائود رقم الحدیث :435، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :697، مئوطا امام مالک رقم الحدیث :25-26) 

حافظ ابو عمر وابن عبدالبر متوفی 463 ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :

اس حدیث میں یہ مذکور ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بعض اوقات ایسی نیند آتی تھی جو آدمیوں کی نیند کے مشابہ ہوتی تھی اور ایسا کبھی کبھی ہوتا تھا اور اللہ تعالیٰ آپ میں ایسی نیند پیدا کرتا تھا تاکہ آپ کے بعد آپ کی امت میں نمونہ باقی رہے۔ اسی لئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک میں بھول جاتا ہوں یا بھلا دیا جاتا ہوں تاکہ میرا فعل سنت بنایا جائے اور العلاء بن خباب کی روایت میں ہے : اگر اللہ چاہتا تو ہمیں بیدار کردیتا لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ ارادہ کیا کہ یہ تمہارے بعد سنت ہوجائے اور رسول اللہ اللہ تعالیٰ کی طبیعت آپ کی جبلت اور آپ کی عادت معروفہ اور اسی طرح انبیاء سابقین کی عادت معروفہ وہ ہے جس کو آپ نے خود بیان فرمایا ہے : میری آنکھیں سوتی ہیں اور میرا دل نہیں سوتا۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث :1147: صحیح مسلم رقم الحدیث :738، سنن الترمذی رقم الحدیث :439، سنن ابودائود رقم الحدیث :1341، سنن النسائی رقم الحدیث :1697)

ایک اور حدیث میں آپ نے فرمایا : ہم معاشر الانبیاء ہماری آنکھیں سوتی ہیں اور ہمارا دل نہیں سوتا۔

ان حدیثوں میں آپ نے اپنی نیند کی اس کیفیت کو وقت کی کسی قید کے بغیر بیان فرمایا ہے اور اس کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ آپ نے اپنے اصحاب سے فرمایا : صف میں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کھڑے ہوا کرو، بیشک میں تم کو اپنے پیچھے بھی دیکھتا ہوں۔ سو یہ آپ کی جبلت، خلقت اور عادت ہے اور سفر میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نماز کے وقت سوئے ہوئے رہنایہ آپ کی عادت کے خلاف تھا تاکہ آپ کی امت کے لئے نمونہ قائم ہو، تاکہ مسلمانوں کو یہ معلوم ہو کہ جب نیند کی وجہ سے نماز کا وقت نکل جائے تو ان کو کیا کرنا چاہیے اور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آپ کی اس نیند کو امت کی تعلیم اور ان کی بصیرت کا ذریعہ بنادیا۔

(التمہید ج ٣ ص 175-176، مطبوعہ دارالکتب بیروت، 1419 ھ)

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو فرمایا : میں بھولتا ہوں یا بھلا دیا جاتا ہوں تاکہ میرا فعل سنت بنادیا جائے۔

(مئوطا رقم الحدیث 228)

علامہ ابن عبدالبراس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں : یا میں بھلا دیا جاتا ہوں، یہ محدث کا شک ہے۔ اس حدیث کا معنی ہے تاکہ میری امت کے لئے اس فعل کو سنت بنادیا جائے تاکہ جب ان کو سہو لاحق ہو تو وہ کس طرح عمل کریں اور میری اقتدار کریں۔ (الاستذ کا رج ٤ ص 402-403، مطبوعہ مئوسستہ الرسالتہ بیروت، 1413 ھ)

علامہ ابوالولید سلیمان بن خلف الباجی المالکی المتوفی 494 ھ لکھتے ہیں :

اس حدیث میں جو فرمایا ہے یا میں بھلا دیا جاتا ہوں۔ یہ شک کے لئے نہیں ہے۔ اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ میں خود بھلوتا ہوں یا اللہ تعالیٰ مجھے بھلا دیتا ہے، حلاان کہ ہم جانتے ہیں کہ جب آپ خود بھولیں تب بھی آپ کو اللہ تعالیٰ ہی بھلاتا ہے، اس لئے یہ حدیث دو معنوں کا احتمال رکھتی ہے۔

(١) آپ کا بھولنا بیداری میں ہوگا یا نیند میں۔ بیداری میں بھلونے کی نسبت آپ نے اپنی طرف فرمائی کیونکہ بیداری میں بھول سے احتراز کے بہت مواقع ہیں اور نیند میں بھولنے کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف فرمائی کیونکہ نیند میں بھول سے احتراز کے مواقع نہیں ہیں۔

(ہ) کبھی کسی امر اور حکم سے میری توجہ ہٹ جاتی ہے تو مجھے سہو اور ذھول ہوجاتا ہے اور کبھی مجھے وہ حکم یاد ہوتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ اپنی کسی حکمت کو پورا کرنے کے لئے میری توجہ اس طرحف سے ہٹا دیتا ہے۔ تاکہ میں تمہارے سہو اور نسیان کی صورت میں تمہارے لئے یہ نمونہ قائم کروں کہ ایسی صورت میں تمہیں کیا کرنا چاہیے۔

(المنتقی ج ١ ص 182، مطبوعہ دارالکتاب العربی بیروت)

قاضی ابوبکر محمد بن عبدا للہ ابن العربی مالکی اندلسی المتوفی 543 ھ لکھتے ہیں :

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جو نمازوں میں سہو ہوا ہے، وہ اس غفلت کی مثل ہے جو آپ کو نیند میں ہوتی ہے، اور یہ کسی آفت کی وجہ سے آپ پر نسیان نہیں ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی توجہ افعال نماز سے ہٹا دیتا ہے تاکہ اس وجہ سے اللہ تعالیٰ احکام شریعہ بیان فرمائے اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو آپ یہ احکام زبانی بیان فرما دیتے، لیکن کوئی کام کر کے دکھانا زبانی بیان کرنے سے زیادہ قوی ہے اور اس میں لوگوں کی زیادہ تسلی ہے۔ (القبس فی شرح مئوطا ابن انس، ج ١ ص 241، مطبوعہ دارالکتب العربیہ بیروت، 1419 ھ)

علامہ محمد بن عبدالباقی الزرفانی المتوفی 1122 ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :

جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں بھولتا ہوں تو اس کا محمل یہ ہے کہ بھولنے کی صفت آپ کے ساتھ قائم ہے اور جب آپ نے فرمایا مجھے بھلا دیا جاتا ہے تو اس کا معنی یہ ہے کہ بھولنا آپ کی طبیعت کا تقاضا نہیں ہے اور نہ یہ آپ کی ایجاد سے ہے، اس کا موجد صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ (شرح الزرقانی للمئوطا، ج ١ ص 315، مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت، 1417 ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 18 الكهف آیت نمبر 23