أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَبِثُوۡا فِىۡ كَهۡفِهِمۡ ثَلٰثَ مِائَةٍ سِنِيۡنَ وَازۡدَادُوۡا تِسۡعًا‏ ۞

ترجمہ:

اور وہ اپنے غار میں تین سو سال ٹھہرے تھے، اور انہوں نے اس پر نو سال زیادہ کئے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ ہے : اور وہ اپنے غار میں تین سو سال ٹھہرے تھے اور انہوں نے اس پر نو سال زیادہ کئے آپ کہیے کہ اللہ ہی زیادہ جاننے والا ہے وہ کتنا عرصہ ٹھہرے تھے، آسمانوں اور زمینوں کے غیب اسی کے پاس ہیں، وہ کتنا زیادہ دیکھنے والا اور کتنا زیادہ سننے والا ہے، اس کے سوا ان کا کوئی کار ساز نہیں ہے اور وہ اپنے حکم میں کسی کو شریک نہیں کرتا (الکھف :25-26)

غار میں اصحاب کہف کے قیام کی مدت 

اصحاب کہف کے قصہ کے سلسلہ میں یہ آخری دو آیتیں ہیں :

اور وہ اپنے غار میں تین سو سال ٹھہرے تھے اور انہوں نے اس پر نو سال زیادہ کئے۔ اس کی تفسیر میں دو قول ہیں :

(١) حضرت ابن عباس اور قتادہ نے یہ کہا کہ یہ ان کے غار میں قیام کی مدت کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے بیان نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق پچھلی آیت سے ہے۔ یعنی عنقریب لوگ یہ کہیں گے کہ اصحاب کہف تین تھے اور چوتھا ان کا کتا تھا۔ (الکھف :23) اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اس کے بعد دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اللہ ہی زیادہ جاننے والا ہے، وہ کتنا عرصہ ٹھہرے تھے۔ پس واضح ہوگیا کہ یہ لوگوں کا بیان ہے کہ اصحاب کہف تین سو نو سال غار میں ٹھہرے تھے اور واقع میں اصحاب کہف کتنی مدت غار میں ٹھہرے تھے، اس کا اللہ کے سوا کسی کو علم نہیں۔

(٢) عبید بن عمیر، مجاہد، ضحاک، ابن زید وغیرہم نے یہ کہا ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان کے غار میں ٹھہرنے کی مدت بیان فرمائی ہے اور وہ تین سو سال ہے، پھر انہوں نے اس پر نو سال زیادہ کئے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ شمسی تقویم کے اعتبار سے ان کے قیام کی مدت تین سو سال ہے اور قمری تقویم کے اعتبار سے ان کے غار میں قیام کی مدت تین سو نو سال ہے۔ اور اس آیت سے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو ان کے غار میں قیام کی مدت سے مطلع فرمایا ہے۔

اس کے بعد فرمایا : آپ کہیے کہ اللہ ہی زیادہ جاننے والا ہے وہ کتنا عرصہ ٹھہرے تھے۔ الماوردی نے بیان کیا ہے کہ اہل کتاب نے کہا کہ اصحاب کہف کے غار میں داخل ہونے سے لے کر اب تک کی مدت تین سو نو سال ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا رد فرمایا کہ اس مدت کو صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ (زاد المسیرج ٥ ص 130، مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت، 1407 ھ)

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا اس کے سوا ان کا کوئی ولی اور کار ساز نہیں ہے، اس کا معنی یہ ہے کہ اصحاب کہف کا اللہ کے سوا کوئی ولی نہیں تھا جو اتنی طویل مدت تک نیند میں ان کی حفاظت کرتا اور ان کے جسموں کو سٹر نے اور گلنے سے محفوظ رکھتا ہے۔ اس آیت کا دوسرا محمل یہ ہے کہ جو لوگ اٹکل پچو سے اصحاب کہف کی مدت قیام بتا رہے ہیں، ان کو اپنے اجسام کی حفاظت کا علم ہے نہ اصحاب کہف کے اجسام کی حفاظت کی تدبیر کا علم ہے، اور جب ان کو یہ علم نہیں ہے تو ان کی مدت قیام کا علم کیسے ہوسکتا ہے۔

نیز فرمایا اور وہ اپنے حکم میں کسی کو شریک نہیں کرتا، کیونکہ جب دو آدمی کسی میں شریک ہوں تو ہر ایک کو دوسرے پر اعتراض کرنے کا حق ہوتا ہے اور ہر ایک اپنی مرضی کے موافق اس کام کو بنانا چاتہا ہے اور ان میں اختلاف ناگزیر ہے اور جس کی رائے غالب ہوگی وہی خدا ہوگا دوسرا خدا نہیں ہوگا۔

آیا اصحاب کہف اب زندہ ہیں یا نہیں ؟

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد قرطبی متوفی 668 ھ لکھتے ہیں :

اس میں اختلاف ہے کہ اصحاب کہف اب مر کر فنا ہوچکے ہیں یا وہ سوئے ہیں اور انکے جسم محفوظ ہیں۔ حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ وہ کسی غزوہ میں شام میں گئے اور وہاں لوگوں کے ساتھ پہاڑ کے اندر اس غار میں گئے انہوں نے دیکھا وہاں غار کے اندر ہڈیاں رکھی ہوئی تھیں۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جو مدت طویلہ سے فنا ہوچکے ہیں۔ راہب نے سن کر کہا مجھے نہیں معلوم تھا کہ عرب میں سے بھی کوئی ان کو پہچانتا ہوگا، اس کو لوگوں نے بتایا کہ یہ ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے غم زاد ہیں۔ (الجامع الاحکام القرآن جز 10 صح 348، مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1415 ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 18 الكهف آیت نمبر 25