أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَّرَبَطۡنَا عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ اِذۡ قَامُوۡا فَقَالُوۡا رَبُّنَا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ لَنۡ نَّدۡعُوَا۫ مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اِلٰهًـا‌ لَّـقَدۡ قُلۡنَاۤ اِذًا شَطَطًا‏۞

ترجمہ:

اور ہم نے ان کے دل مضبوط کردیئے تھے جب وہ (بادشاہ وقت کے سامنے) کھڑے ہوئے سو انہوں نے کہا ہمارا رب، آسمانوں اور زمینوں کا رب ہے، ہم اس کے سوا کسی اور معبود کی ہرگز عبادت نہیں کریں گے (ورنہ) اس وقت ہماری بات حق سے بہت دور ہوگی

تفسیر:

اللہ تعالیٰ : اور ہم نے ان کے دل مضبوط کردیئے تھے جب وہ (بادشاہ وقت کے سامنے) کھڑے ہوئے۔ سو انہوں نے کہا : ہمارا رب ! آسمانوں اور زمینوں کا رب ہے، ہم اس کے سوا اور کسی معبود کی ہرگز عبادت نہیں کریں گے (ورنہ) اس وقت ہماری بات حق سے بہت دور ہوگی۔ (الکھف ١٤)

اصحاب کہف کے کھڑے ہونے کی تفسیر میں اقوال 

” وربطنا علی قلوبھم “ اس کا معنی ہے ظالم بادشاہ کے سامنے کلمہ حق کہنے کے لئے ہم نے ان کو جرأت اور ہمت عطا کی۔

” شططا “ اس کا معنی ہے حد سے تجاوز کرنا، حق سے دور ہونا۔

جب وہ کھڑے ہوئے تو انہوں نے کہا، اس کی تفسیر میں حسب ذیل اقوال ہیں :

(١) جس وقت وہ کافر بادشاہ کے سامنے کھڑے ہوئے اور اس مقام پر ان کے اندر جرأت اور ہمت کی ضرورت تھی کیونکہ انہوں نے بادشاہ کے دین کی مخالفت کی تھی اور اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں بادشاہ کی ہیبت کی پرواہ نہیں کی تھی۔

(٢) وہ اس شہر کے سرداروں کے بیٹے تھے، وہ اس شہر سے نکلے اور اتفاقاً ایک جگہ کھڑے ہو کر جمع ہوگئے جو ان میں سے بڑی عمر کا تھا، اس نے کہا میں اپنے دل میں یہ بات پاتا ہوں کہ میرا رب وہ ہے جو آسمانوں اور زمینوں کا رب ہے، باقی جوانوں نے کہا ہم بھی اپنے دلوں میں یہی بات پاتے ہیں، پھر وہ سب کھڑے ہوگئے اور انہوں نے کہا : ہمارا رب آسمانوں اور زمینوں کا رب ہے، ہم اس کے سوا اور کسی معبود کی عبادت نہیں کریں گے (ورنہ) اس وقت ہماری بات حق سے دور ہوگی۔ یعنی اگر ہم نے اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت کی تو ہمارا یہ اقدام ظالمانہ ہوگا۔

(٣) کھڑے ہونے کا معنی یہ ہے کہ وہ لوگوں کو چھوڑنے اور اللہ تعالیٰ کی طرف بھاگنے کا عزم لے کر اٹھے۔

سماع کے دوران قیام پر علامہ قرطبی کا تبصرہ 

علامہ ابوعبداللہ مالکی قرطبی متوفی 668 ھ لکھتے ہیں :

ابن عطیہ نے کہا ہے کہ صوفیا نے اس آیت میں قیام کے لفظ سے یہ استدلال کیا ہے کہ سماع میں قیام کرنا جائز ہے۔ (المحر رالوجیز ج 10 ص 373) میں کہتا ہوں کہ یہ تعلق صحیح نہیں ہے اصحاب کہف جو کھڑے ہوئے تھے انہوں نے اللہ تعالیٰ کی ہدایت کا ذکر اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کیا، وہ اپنی قوم سے خوفزدہ تھے اور اپنے رب عز و جل کی طرف متوجہ تھے اور اللہ تعالیٰ نے انبیاء رسل اور اولیاء میں یہی سنت قائم کی ہے کہاں یہ قیام اور کہاں صوفیاء کا سماع کے دوران قیام کرنا اور رقص کرنا۔ خصوصاً ہمارے زمانے میں جب وہ بےریش لڑکوں اور عورتوں سے سحین آوازیں سنتے ہیں اور اس سے مدہوش ہو کر ناچنے لگتے ہیں اللہ کی قسم ! ان کے درمیان زمین اور آسمان سے زیادہ بعد ہے، پھر علماء کی ایک جماعت کے نزدیک یہ سماع، قیام اور رقص حرام ہے۔ امام ابوبکر الطر موسیٰ سے صوفیہ کے مذہب کے تعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا رقص اور تواجد کو سب سے پہلے سامری کے اصحاب نے ایجاد کیا تھا جب اس نے ان کے لئے ایک بچھڑے کا جسم بنایا جس کے منہ سے آواز نکلتی تھی تو وہ اس کے گرد کھڑے ہو کر رقص کرنے لگے اور وجد کرنے لگے۔ سو یہ کافروں اور بچھڑے کی عبادت کرنے والوں کا طریقہ ہے۔

(الجامع لاحکام القرآن جز ٢ ص 328، مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1415 ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 18 الكهف آیت نمبر 14