نجدیوں کے حرمین مقدسہ پر قبضہ سے پہلے حرمین مقدسہ میں سنی عقائد کے حامل لوگ تھے وہابی ملاّں کی زبانی سنیئے اور حقائق پڑھیئے :

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نجدیوں نے حرمین مقدسہ پر کب اور کیسے قبضہ کیا مختصر تحقیق

محترم قارئین : آج کل کچھ لوگ سعودی سعودی کرتے ہیں کہ وہاں یہ نہیں وہ نہیں آیئے دیکھتے ہیں ان نجدیوں نے حرمین مقدسہ پر کب قبضہ کیا انہیں کی زبانی پڑھیئے : 1343 ھجری میں آل سعود و آل نجد نے یہودیوں کے ساتھ مل کر حرمین مقدسہ پر قبضہ کیا ۔ (شیخ محمد بن عبد الوہاب اور ان کی دعوت صفحہ 37،چشتی)

مدعی لاکھ پہ بھاری گواہی تیری

نجدی وہابی مذہب کی تاریخ ، نجدی مذہب کب وجود میں آیا

تاریخ اسلام میں وہابی مذہب کی بنیاد محمد بن عبد الوھاب نجدی نے رکھی تھی جو کہ بارہویں صدی میں پیدا ہوا ۔ اس طرح یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ موجودہ دور کا فرقہ وہابییت بارہویں صدی کی پیداوار ہے ۔ وہابیوں نجدیوں نے حرمین مقدسہ پر 1925 میں قبضہ کیا اس سے پہلے حرمین مقدسہ اور دنیا بھر میں کہیں وہابیت نہ تھی ۔ کوئی نجدی اس سے پہلے حرمین مقدسہ میں وہابیت کا ثبوت دے بحوالہ اور یہ بھی بتائیں حرمین مقدسہ پر کب اور کیسے قبضہ کیا گیا ؟

محمد بن عبدالوہاب نے جو معاہدہ آل سعود اور صہونیوں سے کیا تھا ، اس کی بدولت اپنے انصار و پیروکاروں کو اکٹھا کیا اور انہیں جہاد کا شوق دلایا اور ہمسایہ مسلمان شہروں کو خط لکھا کہ اس کے نظریات کو تسلیم کریں اور اس کی فرمانبرداری کو قبول کرلیں وہ چوپاویں ، نقدی اور اجناس کا دسواں حصّہ وصول کرتا تھا اور مخالفت کرنیوالوں پر حملہ کردیتا تھا بہت سے لوگوں کو قتل ، اموال کو غارت اور عورتوں اور بچوں کو اسیر بنا لیتا ۔ اس نے حرم محترم میں پہلی بار جہاد کا فتوی دیا ۔

تاریخ نجد میں عبداللہ فیلبی لکھتا ہے کہ ابن عبدالوہاب نے اپنے شاگردوں کے دماغ میں وجوب جہاد کے اصول و فلسفہ کو راسخ کر رکھا تھا ان میں سے اکثر اپنے لیے جہاد کو مقدس ترین تعلیمات میں سے شمار کرتے تھے جو کہ عربوں کی عادت کی ساتھ ہم آہنگ تھی ۔

تاریخ نجد میں محمد ابن عبدالوہاب کے مکتوبات نقل ہیں اُن میں لکھا ہے کہ عثمان بن معمر مشرک اور کافر تھا جب مسلمانوں کو اس کے کفر کا اطمینان ہوگیا تو انہوں نے نماز جمعہ کے بعد اسے قتل کرنے کی ٹھان لی ، رجب المرجب 1163ھ میں محراب مسجد میں قتل کردیا گیا ۔ گویا مسجدوں میں قتل بھی ان کی سرشت میں شامل ہے ۔ وہ وہاں کی مسجد کاامام تھا ، جو خلافت عثمانیہ کی طرف سے معین کیا گیاتھا ۔

علامہ زینی بن دحلان مکی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے : ابن عبدالوہاب نے روز جمعہ مسجد درعیہ میں خطاب کرتے ہوئے کہا : جو بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے توسل کرے گا کفر کا مرتکب ہوگا ۔(چشتی)

اس کے بھائی شیخ سلیمان نے اس سے کہا اے محمد بن عبد الوہاب اسلام کے کتنے ارکان ہیں ؟ اس نے جواب دیا پانچ اس کے بھائی نے کہا تم اسلام کے چھ ارکان قرار دیتے ہو جن میں سے تیرے نزدیک چھٹا یہ ہے کہ اگر کوئی تمھاری پیروی نہ کرے تو وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے گویا تیرے نزدیک وہابیت اسلام کا چھٹا رکن ہے ۔

احساء کے چند نیک مسلمان زیارت قبرنبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے شرف یاب ہوئے ، اور ابن عبد الوہاب کو یہ خبر ملی تو ان کی واپسی پر جب وہ شہر درعیہ میں وارد ہوے اس نے حکم دیا کہ ان کی داڑھی مونڈ دی جائے اس کے بعد درعیہ سے احساء تک توھین آمیز انداز میں لایا جائے کہ ایک سواری پر دو افراد کو اس طرح سوار کرو کہ ایک کا منہ آگے اور دوسرے کا پیچھے کیطرف ہو ۔

آل سعود کے بربریت کے یہ عالم تھا کہ خانہ کعبہ کی دیواروں میں کئی گولیاں داخل ہوئی۔حرم مقدس میں جہاں اونچی آواز میں بولنا منع ہے وہاں انسانوں کا بیدریغ قتل عام ہوا۔انسانی خون پانی کی طرح بہایا گیا صرف اور صرف حکومت حاصل کرنے لے لیے۔ٹینکوں کے ذریعے بے یار و مددگار مسلمانوں کو کچلا گیا۔جو ٹینک اور ہتھیار بھیک کی شکل میں ظالموں سے ملے تھے ۔ حج کے موقع پر ترکی حجاج کاحرم مقدس میں قتل عام ہوا۔عبدالعزیز ابن سعود نے جنوری 1936ء میں حجاز پر اپنی حاکمیت کا اعلان کرنے کے بعد نجدی وہابیت کو ریاستی مذہب قراردیا اوراس نے اہل حجاز کو شمشیر اور طاقت کے زور پر وہابیت میں داخل ہونے کا حکم دیا، سعودی اور وہابی حملہ آور جب مدینہ النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم میں میں داخل ہوئے تو انہوں نے جنت البقیع میں نبی کریم کے اہلبیت ، ازواج اور رضی اللہ عنہم کے مزارات و مبارک قبروں کو شہید کرنے کے بعد مدینہ منورہ کی بہت سی مسجدوں کو بھی شہید کردیا ۔ انہوں نے دوسرے زیارتی مقامات اور مقدس مقامات کو منہدم کیا اور ان کی بے حرمتی کیاور اس طرح سے انہوں نے نا صرف قلب پیغمبر اسلام بلکہ تمام مسلمانوں کے دلوں اور ان کے جذبات کو مجروح کیا ۔

مسلمانوں کے مسلسل احتجاج پر سعودی حکمرانوں نے مزارات کی تعمیر کی یقین دہانی کرائی یہ جسے آج تک سعودیوں نے پورا نہیں کیا ۔ عبد اللہ قرامطی ، ابو طاہر قرامطی ، ابن علقمی ، اور دیگر آپسی خانہ جنگی کے سبب میں لاکھوں مسلمانوں کا خونِ نا حق زمیں پر بہا یا گیا ۔ ابن اثیر لکھتا ہے کہ صرف ہلاکوں کی فوج کے حملے میں آتھارہ18لاکھ مسلمانوں کا خون بے دریغ بہایا گیا ۔ لاکھوں بچّے یتیم ہوئے۔لاکھوں مائیں ،بہنیں ،بیوہ ہوئی،ہزاروں گھر ویران ہوئے،دریا دجلہ کا رنگ ہماری علمی اثاثوں اور خون سے تبدیل ہوگیا ۔

آل سعود و آل نجدی کے قبضہ سے پہلے حرمین مقدسہ میں وھابیت اور وھابی عقائد کا کوئی وجود نہیں تھا اگر کسی وھابی میں ہمت ھے تو آل سعود و آل نجدی کے حرمین پر قبضہ سے پہلے حرمین مقدسہ میں وھابی عقائد کا وجود ثابت کر دیکھائے اوٹ پٹانگ باتیں نہ کی جائیں بحوالہ جواب دیا جائے جو بھی جواب دینا چاہے ؟ ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)