حدیث نمبر 269

روایت ہے حضرت جبیر ابن مطعم سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے عبدمناف کی اولاد ۱؎کسی کو منع نہ کرو دن و رات میں جس گھڑی چاہے اس گھر کا طواف کرے اور نماز پڑھے ۲؎(ترمذی،ابوداؤد،نسائی)

۱؎ چونکہ مکہ معظمہ کی سرداری کعبہ کی کلید برداری چاہ زمزم کا انتظام اور حرم شریف کی خدمت اولاد عبدمناف ہی میں تھی اس لیے انہیں خطاب فرما کر یہ فرمایا۱۲

۲؎ اس وقت بعض اوقات حرم شریف بند کردیا جاتا تھا جیسے مسجد نبوی شریف بعد نماز عشاء بند کردی جاتی ہے کہ طواف کعبہ تو ہر وقت جائز ہے۔حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا۔چنانچہ اس حدیث کی بنا پر حرم شریف کسی وقت بند نہیں ہوتا۔خیال رہے کہ طواف کعبہ تو ہر وقت جائز ہے لیکن نوافل مکروہ وقتوں میں وہاں بھی منع ہیں کوکنکہ ممانعت کی حدیثیں مطلق تھیں جیسا کہ ہم پہلے عرض کرچکے ہیں،حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سورج ڈوبتے اور بیچ دوپہری میں نماز نہ پڑھو یا فرمایا کہ صبح اور عصر کے بعد نماز نہیں،وہاں مکہ شریف کو مستثنیٰ نہیں کیا امام شافعی وغیرہم اس حدیث کی بنا پر مکہ معظمہ میں ہر وقت نوافل جائز کہتے ہیں مگر یہ استدلال ضعیف ہے کیونکہ حدیث کا مقصد یہ ہے کہ حرم شریف بند نہ کرو،لوگوں کو ہر وقت طواف(نماز پڑھنے دو)ہاں جن وقتوں میں شریعت نے منع کردیا ہے اس وقت لوگ خود نوافل نہ پڑھیں،شریعت کا منع کرنا کچھ اور ہے لوگوں کا بیت اﷲ کو بند کردینا کچھ اور،دیکھو حرم شریف میں نماز پنج گانہ کی جماعت اور نماز جمعہ وعیدین کی جماعت کے وقت لوگوں کو طواف سے بھی روکا جاتا ہے اور نفلوں سے بھی مگر یہ روکنا شریعت کی طرف سے ہےجیسے ہم کسی سبیل والے سے کہیں کہ تم لوگوں کو ہر وقت پانی پینے دو، اس کا مطلب یہ نہیں کہ رمضان میں بے روزوں کو بھی علانیہ دن کے وقت پانی پینے دو۔غرضکہ ممانعت کی حدیث صریح ہے اور اجازت کی غیر صریح،نیز جب ممانعت اور جواز میں تعارض ہو تو ممانعت کو ترجیح ہوتی ہے۔طحاوی شریف میں ہے کہ ایک بار حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے نماز فجر کے بعد طواف وداع کیا اور نفل طواف نہ پڑھے مدینہ منورہ روانہ ہوگئے،جب دن چڑھ گیا تو وہ نفل جنگل میں پڑھے،یہ حدیث امام صاحب کے مذہب کی بہت تائید کرتی ہے،اگر اس وقت نفل جائز ہوتے تو فاروق اعظم رضی اللہ عنہ بغیر طواف کے نفل پڑھے وہاں سے روانہ نہ ہوتے۱۲