وَ قَالَ نِسْوَةٌ فِی الْمَدِیْنَةِ امْرَاَتُ الْعَزِیْزِ تُرَاوِدُ فَتٰىهَا عَنْ نَّفْسِهٖۚ-قَدْ شَغَفَهَا حُبًّاؕ-اِنَّا لَنَرٰىهَا فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ(۳۰)

اور شہر میں کچھ عورتیں بولیں (ف۷۹) کہ عزیز کی بی بی اپنے نوجوان کا دل لبھاتی ہے بےشک ان کی محبت اس کے دل میں پَیر (سما)گئی ہے ہم تو اسے صریح خود رفتہ پاتے ہیں (ف۸۰)

(ف79)

یعنی شرفاءِ مِصر کی عورتیں ۔

(ف80)

کہ اس آشُفتگی میں اس کو اپنے ننگ و ناموس اور پردے و عِفت کا لحاظ بھی نہ رہا ۔

فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ اَرْسَلَتْ اِلَیْهِنَّ وَ اَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَاً وَّ اٰتَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِّنْهُنَّ سِكِّیْنًا وَّ قَالَتِ اخْرُ جْ عَلَیْهِنَّۚ-فَلَمَّا رَاَیْنَهٗۤ اَكْبَرْنَهٗ وَ قَطَّعْنَ اَیْدِیَهُنَّ وَ قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا هٰذَا بَشَرًاؕ-اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا مَلَكٌ كَرِیْمٌ(۳۱)

تو جب زلیخا نے ان کا چکروا (چہ میگوئی وطعن)سنا تو ان عورتوں کو بلا بھیجا (ف۸۱) اور ان کے لیے مسندیں تیار کیں (ف۸۲) اور ان میں ہر ایک کو ایک چھری دے دی (ف۸۳) اور یوسف (ف۸۴) سے کہا ان پر نکل آؤ (ف۸۵) جب عورتوں نے یوسف کو دیکھا اس کی بڑائی بولنے لگیں (ف۸۶) اور اپنے ہاتھ کاٹ لیے (ف۸۷) اور بولیں اللہ کو پاکی ہے یہ تو جنسِ بشر سے نہیں (ف۸۸) یہ تو نہیں مگر کوئی معزّز فرشتہ

(ف81)

یعنی جب اس نے سنا کہ اشرافِ مِصر کی عورتیں اس کو حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام کی مَحبت پر ملامت کرتی ہیں تو اس نے چاہا کہ وہ اپنا عذر انہیں ظاہر کر دے اس لئے اس نے ان کی دعوت کی ا ور اشرافِ مِصر کی چالیس عورتوں کو مدعو کر دیا ، ان میں وہ سب بھی تھیں جنہوں نے اس پر ملامت کی تھی ، زلیخا نے ان عورتوں کو بہت عزت و احترام کے ساتھ مہمان بنایا ۔

(ف82)

نہایت پُرتکلّف جن پر وہ بہت عزت و آرام سے تکیے لگا کر بیٹھیں اور دستر خوان بچھائے گئے اور قسم قسم کے کھانے اور میوے چنے گئے ۔

(ف83)

تاکہ کھانے کے لئے اس سے گوشت کاٹیں اور میوے تراشیں ۔

(ف84)

کو عمدہ لباس پہنا کر ان ۔

(ف85)

پہلے تو آپ نے اس سے انکار کیا لیکن جب اصرار و تاکید زیادہ ہوئی تو اس کی مخالفت کے اندیشہ سے آپ کو آنا ہی پڑا ۔

(ف86)

کیونکہ انہوں نے اس جمالِ عالَم افروز کے ساتھ نبوّت و رسالت کے انوار اور تواضع و انکسار کے آثار اور شاہانہ ہیبت وا قتدار اور لذائذِ اَطعِمہ اور صُوَرِ جمیلہ کی طرف سے بے نیازی کی شان دیکھی ، تعجب میں آ گئیں اور آپ کی عظمت و ہیبت دلوں میں بھر گئی اور حسن و جمال نے ایسا وارفتہ کیا کہ ان عورتوں کو خود فراموشی ہو گئی ۔

(ف87)

بجائے لیموں کے اور دل حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام کے ساتھ ایسے مشغول ہوئے کہ ہاتھ کاٹنے کی تکلیف کا اصلاً احساس نہ ہوا ۔

(ف88)

کہ ایسا حسن و جمال بشر میں دیکھا ہی نہیں گیا اور اس کے ساتھ نفس کی یہ طہارت کہ مِصر کی عالی خاندان جمیلہ مخدرات طرح طرح کے نفیس لباسوں اور زیوروں سے آراستہ و پیراستہ سامنے موجود ہیں اور آپ کسی کی طرف نظر نہیں فرماتے اور قطعاً التفات نہیں کرتے ۔

قَالَتْ فَذٰلِكُنَّ الَّذِیْ لُمْتُنَّنِیْ فِیْهِؕ-وَ لَقَدْ رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ فَاسْتَعْصَمَؕ-وَ لَىٕنْ لَّمْ یَفْعَلْ مَاۤ اٰمُرُهٗ لَیُسْجَنَنَّ وَ لَیَكُوْنًا مِّنَ الصّٰغِرِیْنَ(۳۲)

زلیخا نے کہا تو یہ ہیں وہ جن پر تم مجھے طعنہ دیتی تھیں (ف۸۹) اور بےشک میں نے ان کا جی لبھانا چاہا تو انہوں نے اپنے آپ کو بچایا (ف۹۰) اور بےشک اگر وہ یہ کام نہ کریں گے جو میں ان سے کہتی ہوں تو ضرور قید میں پڑیں گے اور وہ ضرور ذلت اٹھائیں گے (ف۹۱)

(ف89)

اب تم نے دیکھ لیا اور تمہیں معلوم ہوگیا کہ میری شیفتگی کچھ قابلِ تعجب اور جاۓ ملامت نہیں ۔

(ف90)

اورکسی طرح میری طرف مائل نہ ہوئے ۔ اس پر مِصری عورتوں نے حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام سے کہا کہ آپ زلیخا کا کہنا مان لیجئے زلیخا بولی ۔

(ف91)

اور چوروں اور قاتلوں اور نافرمانوں کے ساتھ جیل میں رہیں گے کیونکہ انہوں نے میرا دل لیا اور میری نافرمانی کی اور فراق کی تلوار سے میرا خون بہایا تو یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام کو بھی خوشگوار کھانا پینا اور آرام کی نیند سونا میسّر نہ ہوگا جیسا میں جدائی کی تکلیفوں میں مصیبتیں جھیلتی اور صدموں میں پریشانی کے ساتھ وقت کاٹتی ہوں یہ بھی تو کچھ تکلیف اٹھائیں ، میرے ساتھ حریر میں شاہانہ سر یر پر عیش گوارا نہیں ہے تو قید خانے کے چبھنے والے بوریئے پر ننگے جسم کو دکھانا گوارا کریں ۔ حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام یہ سن کر مجلس سے اٹھ گئے اور مِصری عورتیں ملامت کرنے کے بہانہ سے باہر آئیں اور ایک ایک نے آپ سے اپنی تمنّاؤں اور مرادوں کا اظہار کیا ، آپ کو ان کی گفتگو بہت ناگوار ہوئی تو بارگاہِ الٰہی میں ۔ (خازن و مدارک و حسینی)

قَالَ رَبِّ السِّجْنُ اَحَبُّ اِلَیَّ مِمَّا یَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَیْهِۚ-وَ اِلَّا تَصْرِفْ عَنِّیْ كَیْدَهُنَّ اَصْبُ اِلَیْهِنَّ وَ اَكُنْ مِّنَ الْجٰهِلِیْنَ(۳۳)

یوسف نے عرض کی اے میرے رب مجھے قید خانہ زیادہ پسند ہے اس کام سے جس کی طرف یہ مجھے بلاتی ہیں اور اگر تو مجھ سے ان کا مکر نہ پھیرے گا (ف۹۲) تو میں ان کی طرف مائل ہوں گا اور نادان بنوں گا

(ف92)

اور اپنی عِصمت کی پناہ میں نہ لے گا ۔

فَاسْتَجَابَ لَهٗ رَبُّهٗ فَصَرَفَ عَنْهُ كَیْدَهُنَّؕ-اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ(۳۴)

تو اس کے رب نے اس کی سن لی اور اس سے عورتوں کا مکر پھیردیا بےشک وہی ہے سنتا جانتا (ف۹۳)

(ف93)

جب حضرت یوسف علیہ السلام سے امید پوری ہونے کی کوئی شکل نہ دیکھی تو مِصری عورتوں نے زلیخا سے کہا کہ اب مناسب یہ معلوم ہوتا ہے کہ اب دو تین روز حضرت یوسف علیہ السلام کو قید خانہ میں رکھا جائے تاکہ وہاں کی محنت و مشقت دیکھ کر انہیں نعمت و راحت کی قدر ہو اور وہ تیری درخواست قبول کریں ، زلیخا نے اس رائے کو مانا اور عزیزِ مصر سے کہا کہ میں اس عبری غلام کی وجہ سے بدنام ہوگئی ہوں اور میری طبیعت اس سے نفرت کرنے لگی ہے ، مناسب یہ ہے کہ ان کو قید کیا جائے تاکہ لو گ سمجھ لیں کہ وہ خطا وار ہیں اور میں ملامت سے بری ہوں ، یہ بات عزیز کے خیال میں آ گئی ۔

ثُمَّ بَدَا لَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا رَاَوُا الْاٰیٰتِ لَیَسْجُنُنَّهٗ حَتّٰى حِیْنٍ۠(۳۵)

پھر سب کچھ نشانیاں دیکھ دکھا کر پچھلی مَت اِنہیں یہی آئی(یہی مناسب سمجھا) کہ ضرور ایک مدت تک اسے قیدخانہ میں ڈالیں (ف۹۴)

(ف94)

چنانچہ انہوں نے ایسا کیا اور آپ کو قید خانے میں بھیج دیا ۔