اسلام میں نکاح کی اہمیت

تحریر: محمد نثار نظامی
بلاشبہ نکاح انسانی تہذیب و تمدن میں سب سے مقدم اور اہم مسئلہ ہے ،انسانی معاشرے میں اس کی اہمیت وافادیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ۔دین فطرت اسلام نے انسان کی اس ضرورت کا خاص خیال رکھا،انسان زندگی کے دوسرے مراحل کی طرح شادی کے مرحلے میں بھی رہنما خطوط متعین کیے ہیں، نکاح قدرت کا ایسا عطیہ ہے جو بقاۓ نوع انسانی کا ضامن اور کمالات انسانی کے فروغ کا اہم ترین ذریعہ ہے ، اسلام کے علاوہ باقی مذاہب چاہے آسمانی ہو یا غیر آسمانی ان میں مرداور عورت کے ازدواجی تعلقات کو بہت حدتک اخلاقی اور روحانی ترقی کے لئے مانع تسلیم کیا گیا ہے ،
مردوزن کے درمیان عدم مساوات کی دیوار کھڑی کردی گئی ہے اور شادی بیاہ کے بارے میں بھی غیر فطری نظریات پیش کیے ہیں،یہودی مذہب نے شادی کو شوشل کنٹریکٹ (سماجی معاہدہ) قرار دیا جب جی میں آۓ اس معاہدے کو توڑا جاسکتا ہے اور مذہب عیسائیت میں تو ازدواجی زندگی سے کنارہ کش رہنے اور تجردو رہبانیت ہی کو اعلی اخلاق اور روحانی ترقی کا ذریعہ سمجھا گیا ہے،
مذہب اسلام میں نکاح کی بڑی اہمیت ہے  اسلام نے نکاح کے تعلق سے جو فکر اعتدال اور نظریہ توازن پیش کیا ہے وہ نہایت جامع اور بے نظیر ہے
اسلام کی نظر میں نکاح محض انسانی خواہشات کی تکمیل اور فطری جذبات کی تسکین کا نام نہیں ہے انسان کی جس طرح بہت ساری فطری ضروریات ہیں بس اسی طرح نکاح بھی انسان کی ایک اہم فطری ضرورت ہے
اس لئے اسلام میں انسان کو اپنی اس فطری ضرورت کو جائز
اور مہذب طریقے کے ساتھ پورا کرنے کی اجازت ہے اور اسلام نے نکاح کو انسانی بقا و تحفظ کے لئے ضروری بتایا ہے ۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کو اپنی سنت قرار دیا ہے۔ارشادنبوی ہے “النکاح من سنتی”
(نکاح کرنا میری سنت ہے ) ۔حضور ﷺنے نکاح کو نصف ایمان بھی قرار دیا ہے”اذاتزوج العبد استکمل نصف الدین فلیتق فی النصف الباقی” (جو کوئی نکاح کرتاہے وہ آدھا ایمان مکمل کرلیتا ہے اور باقی آدھے دین میں اللہ سے ڈرتا ہے )
نکاح انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کی بھی سنت ہے ۔ارشاد ربانی ہے:”و لقد ارسلنارسلا من قبلک و جعلنالھم ازواجا و ذریۃ “
(اے محمد ﷺہم نے آپ سے پہلے یقیناً رسول بھیجے اور انہیں بیویوں اور اولاد سے بھی نوازا ۔اس ارشاد ربانی سے دودوچار کی طرح واضح ہوگیا کہ انبیاء کرام بھی صاحب اہل و عیال رہے ہیں،
اورارشادِ نبوی اس طرح ہے : حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا رسولوں کی چار سنتیں ہیں (١) شرم و حیا کا خیال (٢) مسواک کا اہتمام(٣) عطر کا استعمال (٤) نکاح کا التزام. نکاح کی اہمیت ان احادیث سے بھی واضح ہوتی ہے حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہےکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے نوجوانوں! تم میں سے جو نکاح کی ذمہ داریوں کو اٹھانے کی طاقت رکھتا ہے اسے نکاح کرلینا چاہیے کیونکہ نکاح نگاہ کو نیچا رکھتا ہے اور شرمگاہ کی حفاظت کرتا ہے اور جو نکاح کی ذمہ داریوں کو اٹھانے کی طاقت نہیں رکھتا ہے اسے چاہیے شہوت کا زور توڑنے کے لئے وقتاً فوقتاً روزے رکھے اور ایک حدیث پاک میں ہے جس کے راوی حضرت سعد بن ابی وقاص ہیں وہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے حضرت عثمان بن مظعون کو بے نکاح رہنے کی اجازت نہ دی ،اگر آپ انہیں اسکی اجازت دے دیتے تو ہم خصی ہوجاتے ،
اس حدیث پاک سے نکاح کی اہمیت روز روشن کی طرح عیاں ہوگئی کہ آقائے کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان بن مظعون کو غیر شادی شدہ ہونے کی اجازت نہیں دی کیونکہ نکاح جس طرح انسانی خواہشات کی تکمیل کا ذریعہ ہے اسی طرح ایک عبادت بھی ہے ۔
اسلام میں نکاح کو انجام دینے کے لئے چند اہم امور ہیں وہ یہ ہیں : ایجاب و قبول،دو گواہوں کی موجودگی ،نکاح میں عورت کے لئے ولی کا موجود ہونا، نکاح کا اعلان،دعوت ولیمہ،مہر کی ادائیگی، اور خطبۂ نکاح۔
ان امور میں سے میں کچھ کو اختصار کے ساتھ بیان کرنے کی کوشش کرتا ہوں
یہ بات ذہن نشیں کرلیں کہ اگر ان امور پرغورو فکر سے کام لیا جائے تو یہ بات خود بخود واضح ہوجاتی ہے کہ یہ امور عبادت ہونے کے ساتھ ساتھ کس قدر دعوت فکرو عمل اور باعث ثواب ہیں ،
ایجاب و قبول:  ایجاب سے مراد ہے متعاقد اول کی طرف سے نکاح کے معاملہ میں پیشکش ،اورقبول سے مراد ہے متعاقد ثانی کی طرف سے اس پیشکش پر رضامندی غرض کہ متعاقدین کا نکاح پر خوشی سے رضامند ہوجانا ایجاب و قبول کہلاتا ہے ،ایجاب و قبول نکاح کے لئے شرط ہے اسلام میں کسی مرد یا عورت کی مرضی و اجازت کے بغیر نکاح قرار نہیں پاسکتا ہے چنانچہ ارشاد ربانی ہے ” یآیھا الذین آمنوا لا یحل لکم ان یرثوا النساء کرھا ” (اے ایمان والو! تم کو حلال نہیں کیا کہ زبر دستی عورتوں کے وارث بن جاؤ )لفظ (کرھا) کا اطلاق بہت سے معنوں میں ہوتا ہے مثلاً زور زبردستی ، جبر،دباؤوغیرہ ،اسی طرح کسی مرد کا نکاح کسی عورت سے اس کی مرضی و اجازت کے بغیر نہیں ہو سکتا ہے چونکہ عموما عورت باختیار نہیں ہوتی ہے اس سے بتانا مقصود یہ ہے کہ اسلام نے نکاح میں عورت کو رضامندی پسند ناپسند کا پورا حق دیا ہے ‌۔
دوگواہ: نکاح میں دو گواہ کا موجود ہونا شرط ہے نکاح میں شہادت نہایت ضروری ہے،اس لئے کہ اس سے بدکاری بے حیائی کا راستہ بند ہوجاتا ہے ،حدیث پاک میں ہےعبداللہ ابن عباس سے روایت ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو عورتیں چوری چھپے نکاح کرلیں وہ حرام کار ہیں ۔
ولی کی اہمیت: عورت کے لئے نکاح میں رضامندی کے ساتھ ولی کا ہونا بھی ضروری ہے عورت کا نکاح بغیر ولی کے نہیں ہوسکتا چنانچہ ارشاد نبوی ہے کہ “ولی کے بغیر نکاح نہیں” عورت کا شرف و مقام اسی میں ہے کہ وہ کسی کی سرپرستی میں نکاح کرے ،اس طرح بہت سی سماجی اور معاشرتی خرابیاں دور ہوجاتی ہیں،اس میں بہت سی حکمتیں اور مصلحتیں ہیں اگرچہ نکاح کرنے یانہ کرنے کا اختیار پورا عورت کو حاصل ہے ولی اسکی مرضی اور راۓ کے بغیر نکاح نہیں کرسکتا ۔
اعلان نکاح: اسی طرح اسلام نے نکاح میں اعلان و تشہیر کی تعلیم دی ہے ،نکاح کا اعلان کرنا اور مسجد میں نکاح کرنا سنت ہے ،ارشاد نبوی ہے :”اعلنوا ھذاالنکاح واجعلوہ فی المساجد”
(نکاح کا اعلان کرو اور مسجدوں میں نکاح کرو ) اس کا بنیادی مقصد نکاح کو عام کرنا اور نسب کو ثابت کرنا ہے ۔
*نکاح کے مقاصد احادیث کی روشنی میں*
نکاح فقط اس لیے کرنا تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل ہوجاۓ تو یہ عبادت ہے لیکن اگر خواہشات نفس کی تکمیل کے لئے نکاح کرے تو نکاح بہر حال ہوجائے گا
مگر ثواب سے محروم رہے گا اب وہ احادیث ملاحظہ فرمائیں جن میں اللہ تعالیٰ کے پیارے حبیب ﷺ نے نکاح کے مقاصد کو واضح لفظوں میں بیان فرمایا ہے ۔
(١)اداۓ سنت کی نیت سے نکاح کرے: حدیپ پاک میں ہے کہ ” من رغب عن سنتی فلیس منی “
(جو میری سنت سے اعراض کرے وہ میرے طریقے پر نہیں ) اور ایک حدیث پاک کا مفہوم یہ ہے کہ “جو مجھ سے محبت کرتاہے اسے میری سنت پر عمل کرنا چاہیے بیشک نکاح کرنا میری سنت ہے” اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کو اپنی سنت قرار دیا ہےاور نکاح کرنے پر ترغیب اور نہ کرنے پر تہدید بھی سنائی ہے ۔
(٢) نسل انسانی کی افزائش کی نیت سے نکاح کرے: حضرت ابو داؤد بروایت حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ محبت کرنے والی ،بچے پیداکرنے والی عورت سے نکاح کرو کیونکہ میں تمہاری کثرت تعداد کے باعث (بروز قیامت) دوسری امتوں پر فخر کروں گا۔
ہر انسان کے اندر خواہشات نفسانی ودیعت کردی گئی ہے
لہذا استطاعت ہونے کی صورت میں نکاح کرلینا چاہیے تاکہ دنیا وآخرت کی ذلت و رسوائی سے بچ سکے۔