أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلۡمَالُ وَ الۡبَـنُوۡنَ زِيۡنَةُ الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا‌ ۚ وَالۡبٰقِيٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَيۡرٌ عِنۡدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّخَيۡرٌ اَمَلًا ۞

ترجمہ:

مال اور بیٹے دنیا کی زندگی کی زینت ہیں، اور باقی رہنے والی نیکیاں آپ کے رب کے پاس ازروئے ثواب اور امید کے بہت بہتر ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : مال اور بیٹے دنیا کی زندگی کی زینت ہیں اور باقی رہنے والی نیکیاں آپ کے رب کے پاس ازروئے ثواب اور امید کے بہت بہتر ہیں (الکھف :46)

بیویوں اور اولاد کی کثرت پر فخر نامناسب ہے 

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا تھا کہ دنیا کی زندگی بہت جلد زائل ہونے والی ہے اور اس آیت میں فرمایا ہے کہ مال اور بیٹے دنیا کی زندگی کی زینت ہیں، اور اس کا قیاس یوں بنے گا کہ مال اور بیٹے دنیا کی زندگی کی زینت ہیں اور جو چیز دنیا کی زندگی کی زینت ہو، وہ بہت جلد زائل ہونے والی ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ مال اور بیٹے بہت جلد زائل ہونے والے ہیں اور جو چیز جلد فنا ہونے والی ہو اس پر فخر نہیں کرنا چاہیے۔ عینیہ بن حصن اور قریش کے دیگر متکبرین اپنے مال و دولت اور طاقتور حمایتیوں کی وجہ سے فقراء مسلمان کو حقیر جانتے تھے اور ان کے پاس بیٹھنے کو باعث عار گردانتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان پر رد فرماتا ہے کہ جن چیزوں پر تم گھمنڈ کر رہے ہو یہ تو خس و خاشاک کی طرح ہوا میں اڑ جانے والی ہیں، یہ بےثبات اور ناپائیدار ہیں۔ اس لئے مال اور بیٹوں پر نہ اترائو اور ان کی وجہ سے کسی کو حقیر نہ جانو۔ قرآن مجید میں ہے :

(آیت التغابن 14-15)

اے ایمان والوچ تمہاری بعض بیویاں اور بعض بیٹے تمہارے دشمن ہیں ان سے خبردار ہو۔ تمہارے اموال اور تمہارے بیٹے محض فتنہ ہیں۔

الباقیات الصالحات کے بہت بہتر ہونے کی وضاحت 

اس کے بعد فرمایا، اور باقی رہنے والی نیکیاں آپ کے رب کے پاس ازروئے ثواب اور امید کے بہت بہتر ہیں۔ یعنی حضرت سلمان، حضرت صہیب اور حضرت بلال وغیر ہم (رض) جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور عبادت کرتے ہیں، وہ اللہ کے نزدیک ان لوگوں سے بہتر بہتر ہیں جن کے پاس مال اور بیٹے تو بہت ہیں لیکن ان کے پاس نیک اعمال نہیں ہیں۔

اس جگہ یہ سوال ہے کہ اس آیت میں یہ فرمایا ہے کہ باقی رہنے والی نیکیاں بہت بہتر ہیں۔ یعنی مال اور بیٹوں کی بہ نسبت عبادات بہت بہتر ہیں۔ اس کا معنی یہ ہے کہ مال اور بیٹوں میں بھی اچھائی ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور عبادات میں بہت اچھائی ہے، حالانکہ جو مال اور بیٹے اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور عبادت سے خالی ہوں ان میں کوئی خوبی اور اچھائی نہیں ہے۔ اس کا جو اب یہ ہے کہ دنیا داروں کے ذہنوں اور دماغوں میں جو ان میں اچھائی ہے اس کے مقابلہ میں اطاعت اور عبادات اور باقی رہنے والی نیکیوں میں بہت اچھائی ہے۔

الباقیات الصالحات کا مصداق 

(١) حضرت علی بن ابی طالب (رض) نے فرمایا الباقیات الصالحات یہ کلمات ہیں : لا الہ الا اللہ، واللہ اکبر، والحمد للہ، لاقوۃ الا باللہ۔

(٢) سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا کہ الباقیات الصالحات پانچوں وقت کی نمازیں ہیں۔

(٣) العونی نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا کہ الباقیات الصالحات لوگوں سے نیک اور اچھی باتیں کرنا ہے۔

(٤) ابن ابی طلحہ نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا کہ تمام نیک اعمال الباقیات الصالحات ہیں۔

حدیث میں جن کلمات کو الباقیات الصالحات فرمایا ہے، وہ یہ ہیں :

حضرت ابوسعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : الباقیات الصالحات کو بہ کثرت پڑھو اور وہ یہ ہیں سبحان اللہ، لا الہ اللہ، الحمد للہ، اللہ اکبر اور لاحول ولاقوۃ الا باللہ (مسند احمد ج ٣ ص 75 المستدرک ج ١ ص 513، صحیح ابن حبان رقم الحدیث، 2332، جمع الجوامع رقم الحدیث :2929، جامع البیان رقم الحدیث :17412

ابو صحر کہتے ہیں کہ مجھ سے عبداللہ بن عبدالرحمٰن نے کہا کہ ان کو سالم بن محمد نے بھیجا ہے اور یہ کہا ہے کہ آپ مجھ سے قبرستان کے ایک گوشہ میں ملاقات کریں، مجھے آپ سے کام ہے، پھر ان دونوں کی ملاقات ہوئی اور ان دونوں نے ایک دوسرے کو سلام کیا پھر سالم نے کہا آپ کن کلمات کو الباقیات الصالحات شمار کرتے ہیں ؟ انہوں نے کہا لا الہ الا اللہ، الحمد للہ، سبحان اللہ، اللہ اکبر اور لاحول ولاقوۃ الاباللہ سالم نے کہا آپ نے ان کلمات میں لاحول ولاقوۃ الا باللہ کو کب شامل کیا ؟ انہوں نے کہا مجھے حضرت ابوایوب انصاری نے یہ حدیث بیان کی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ فرمایا مجھے آسمانوں پر معراج کرائی گئی اور مجھے حضرت ابراہیم کو دکھایا گیا، انہوں نے کہا اے جبریل یہ تمہارے ساتھ کون ہیں ؟ انہوں نے کہا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انہوں نے مجھے مرحبا کہا اور کہا اپنی امت کو یہ حکم دیں کہ جنت میں یہ کثرت پودے اگائیں کیونکہ جنت کی زمین پاک ہے اور اس کی زمین بہت وسیع ہے۔ میں نے پوچھا جنت کے پودے کیا ہیں ؟ تو انہوں نے کہا لاحول ولا قوۃ الا باللہ (جامع البیان رقم الحدیث :17410، مسند احمد رقم الحدیث 23611، دارالفکر) حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سبحان اللہ، والحمد للہ ولا اللہ الا اللہ واللہ اکبر پڑھنا لباقیات الصالحات میں سے ہے۔ (جامع البیان رقم الحدیث :1741، مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1415 ھ)

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک درخت کے پاس سے گزرے جس کے پتے سوکھے ہوئے تھے۔ آپ نے اس درخت پر اپنی لاٹھی ماری تو اس کے پتے جھڑنے لگے۔ آپ نے فرمایا : الحمد اللہ، سبحان اللہ اور اللہ اکبر پڑھنے سے بندے کے گناہ اس طرح جھڑنے لگتے ہیں جس طرح اس درخت کے پتے جھڑ رہے ہیں۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث :3533، حلیۃ الاولیاء ج ٥ ص ٥٥ )

احادیث میں ان کلمات کی ترتیب مختلف ہے لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور اس کی تعظیم کے کلمات مطلقاً الباقیات الصالحات ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 18 الكهف آیت نمبر 46