حقوق میں عفت کا خیال

ہم یہ پہلے ہی بتا دیتے ہیں کہ اسلام نے جو حقوق عطا فرمائے ان میں عورتوں کے صنف نازک ہونے کا اور انکی عزت و پارسائی کا مکمل خیال رکھا گیاہے، جو ان کی شان کے عین مطابق ہیں،دور حاضر کے کافر عورتوں کو بازاری آزادی کا وسوسہ دینے لئے اسلام کے عزت اور پارسائی کے محافظ قانون کو تنقید کا نشانہ اس لئے بنا رہے ہیں کہ وہ انہیں عفت کے محفوظ قلعہ سے باہر لاکر اپنی آزاد شہوت رانی کا الو سیدھا کرنا چاہتے ہیں، انہیں ورغلہ کر اپنی بات بنانا چاہتے ہیں،اس کے لئے کہیں یہ کہا اسلام نے عورت کو قید خانہ میں بند کیا،کہیں یہ کہا اسلام نے مرد کو عورت سے بڑا مقام دیا،کہیں یہ کہا اسلام نے مرد کو عورت سے زیادہ حصہ دیا،کہیں یہ کھا اسلام نے عورت کو مرد کے تابع کیا،کہیں یہ کہا اسلام نے مرد کو عورتوںکا حاکم بنایا،غرضیکہ اس طرح کے انکے بہت سارے غلط سوالات ہیں،سوال کرنے والے حکمتوں سے نا واقف نہیں مگر انکا مقصد لوگوںکو بہکانہ اور ورغلانہ ہے ، اس لئے وہ اس طرح کی باتیں کر گزرتیں ہیں اور پھر خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں،اور بد قسمتی سے انہیںایسے نام نہاد مسلمان بھی مل جاتے ہیں جو نام کے مسلم مگر دیکھنے میں دشمن کے ہم شکل ہم کام،وہ اپنے غیر مسلم کرم فرماوٗں کو خوش کرنے کے لئے ضروری کو غیر ضروری قرار دے کر آزادی کی راہوں کو کشادہ کرتے ہیں،ایسے لوگ مولوی کا لیبل نہیں چاہتے انہیں پروفیسر کا لفظ بہت پسند آتاہے