زکوۃ کس کو دیجائے ؟

اللہ ربُّ العزت نے مالِ صدقہ کے مستحقین کی تفصیل قرآن عظیم میں یوں بیان فرمایاہے ـ:

چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

اِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَائِ وَالمَسَاکِیْنَ وَالعَامِلِیْنَ عَلَیْھَاوَالمُؤَلَّفَۃِ قُلُوْبُھُمْ وَ فِیْ الرِّقَابِ وَالغَارِمِیْنَ وَفِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ

(سورئہ توبہ۶۰)

زکوٰۃ تو ان ہی لوگوں کے لئے ہے محتاج اور نرے نادار اور جو اسے تحصیل کر کے لائیں اور جن کے دلوں کو اسلام سے الفت دی جائے اور گردنیں چھڑانے میں اور قرضداروں کو اور اللہ کی راہ میں اور مسافروں کو یہ ٹھہرایا ہوا ہے اللہ کا اور اللہ علم و حکمت والاہے

مذکورہ بالا آیت میں زکوٰۃ و صدقات کے مستحق لوگوں کا ذکر فرمایا گیا ہے، یہ وہ لوگ ہیں جو زکوٰۃ و صدقات کے صحیح حقدار ہیں، قرآنی آیت میںمذکور ہ صدقات کے حقداروں کی تفصیل یہ ہے۔

فقیر: وہ ہے جس کے پاس کچھ مال ہو لیکن اتنے روپئے پیسے نہیں جو نصاب کے قابل ہو نہ گھر میں اتنی چیزیں ہیں کہ جن کی قیمت بقدر نصاب ہو یا قیمت بقدر نصاب ہے مگر سب چیزیں حاجتِ اصلیہ میںداخل ہیں مثلاًً ضروری کتابیں، پہننے کے کپڑے، رہنے کا مکان، کام کاج کے ضروری آلات وغیرہ ہیں، کوئی چیز زائد اسکے پاس نہیں جس کی قیمت نصاب کو پہونچے ایسا شخص فقیر کہلاتا ہے، زکوۃ کا مستحق ہے، اگر ایسا شخص عالم بھی ہو تو اس کی خدمت اور بھی ذیادہ افضل ہے۔

٭ فقیر اگر عالم ہو تو اسے دینا جاہل کو دینے سے افضل ہے(عالمگیری)

٭ اگر عالم کو دے تو اس کا لحاظ رکھے کہ اس کا اعزاز مدِّ نظر ہو ادب کے ساتھ دے جیسے چھوٹے بڑے کو نذر دیتے ہیں اور معاذاللہ عالم دین کی حقارت اگر دل میں آئی تو یہ ہلاکت اور بہت سخت ہلاکت۔ (بہار شریعت)

مسکین : وہ شخص ہے جس کے پاس کچھ بھی مال نہ ہو۔ قرآن مقدس میں ارشاد خداوندی ہے : اَوْ مِسْکِیْنًا ذَا مَتْرَبَۃٍ یاخاک نشین مسکین کو۔

یعنی مٹی جو اس پر پڑی ہے وہی اس کی چادر ہے اور وہی اس کا بستر ہے۔ ایسے شخص کو زکوۃ دے کر ثواب حاصل کرو۔ اُس شخص کو سوال کرنابھی جائز ہے اور فقیر کو نہیں کیونکہ اس کے پاس کچھ مال ہے اگر چہ نصاب کے قابل نہیں مگر جس کے پاس اتنا بھی مال ہے کہ ایک دن کے خوراک کے قابل ہے تو اس کو سوال کرنا حلال نہیں ہے۔ (عالمگیری)

عامل : عامل کو بھی زکوۃ دی جاسکتی ہے اگر چہ وہ غنی ہو۔ عامل وہ شخص ہے جس کو بادشاہ اسلام نے عُشر اور زکوۃ وصول کرنے پر مقررکیاہے چونکہ یہ اپنا وقت اس کام میں لگاتاہے لہٰذا اس عامل کو اپنے عمل کی اجرت بھی ملناضروری ہے تاکہ اس کے اخراجات کے لئے بدرجہ متوسط کافی ہومگر اجرت جمع کردہ رقم سے زائد نہ ہو اگر مال عامل کے ہاتھ سے ضائع ہو جائے تو زکوۃ ادا کرنے والوں کی زکوۃ ادا ہوگئی۔ اگر عامل سید ہے تو زکوۃکے مال سے اس کو اجرت نہ دی جائے گی ہاں اجرت غیرِ سید فقیر کو دے کر اس کو دیجائے تو جائز ہے مگر غنی عامل کو اسی زکوۃ سے اجرت دینا جائز ہے اس لئے کہ ہاشمی کا شرف غنی کے رُتبہ سے زائد ہے۔

مؤلفۃ القلوب : مؤ لفۃ القلوب کا مطلب دلجوئی کرنا ہے، ایک عام اصول ہے کہ جس کسی حاجت مند کی مالی امداد کی جائے تو وہ دینے والوں کی طرف متوجہ ہوتاہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو دین اسلام کی طرف مائل کرنے کے لئے مؤلفۃ القلوب کی مدد رکھی ہے تاکہ اسلام میں ہر نئے داخل ہونے والے کی دلجوئی ہو اور وہ آسانی سے مسلمانو ں کے ضابطۂ حیات کے مطابق عمل پیرا ہو سکے۔ لیکن جب اسلام کو غلبہ ہوا تو زکوٰۃ کے ان آٹھ مصارف میں سے مؤلفۃ القلوب باجماع صحابہ ساقط ہو گیا

رقاب مکاتب : وہ غلام جو مال معین ادا کرنے کی شرط پر آ زاد کیا گیا ہو اگر چہ وہ غنی کا غلام ہو یاخود اس کے پاس نصاب سے زائد ہو تو ایسے غلام کو زکوٰۃ دینا جائز ہے مگر یہ غلام کسی سیّد کا نہ ہو کہ اس کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں کیوں کہ ایک لحاظ سے یہ مالک کی ملک میں ہے اور مالک سیّد ہے تو یہ سید ہی کو زکوٰۃ پہونچے گی اور اس کو جائز نہیں ہے۔

غارم یعنی قر ضدار کو:قرضدار کو زکوٰ ۃ دینا بھی جائز ہے بشرطیکہ قرض سے زائد کوئی رقم بقدر نصاب اس کے پاس نہ ہو یا کوئی مال حاجت اصلیہ سے اس کے پاس فاضل نہ ہو کہ جس کی قیمت نصاب کو پہونچے تو ایسے قرضدار کو زکوٰۃ دینا جائز ہے۔

فی سبیل اللہ : اس سے مراد ایسے مجاہدین پر مال زکوٰ ۃ کا صرف کرنا ہے جو کہ اللہ کی راہ میں جہاد کے لئے نکلے ہوں کہ ان کی سواری، اسلحہ، راستے کے خرچ اور آلات کی فراہمی کے لئے مال زکوٰۃ کا دینا جائز ہے اور یا تو اس سے مراد وہ حجاج کرام ہیں جو کہ راستے میں کسی حادثہ کے شکار ہو کر مالی تعاون کے محتاج ہوں یا وہ طلبہ مراد ہیں جو کہ علم دین کے حصول کے لئے اللہ کی راہ میں نکلے ہوں کہ ان کو بھی زکوٰۃ کا مال لینا جائز ہے۔

ابن السبیل یعنی مسافر : ابن السبیل سے مراد مسافر ہے جس کا زاد راہ ختم ہو چکا ہو اگر چہ وہ گھر پر مالی اعتبار سے خوش حال ہو پھر بھی اس کو زکوٰۃ لینا جائز ہے۔

زکوٰۃادا کرنے میں یہ ضروری ہے کہ جس کو بھی دیں اس کو مالک بنا دیں لہذا زکوٰۃ کا مال مسجد میں صرف کرنا، میت کوکفن دینا، پل بنانا، سڑک بنانا، کنواںکھودوانا، کتاب و غیرہ خرید کر وقف کر دیناکافی نہیں ہے۔

اگر کسی کی ماں ہاشمی بلکہ سیدہ ہو اور اس کا باپ ہاشمی نہ ہو تو وہ ہاشمی نہیں ہے کیوں کہ شرع میں نسب باپ سے جوڑا جاتا ہے۔

شوہر اپنی بیوی کو اور بیوی اپنے شوہر کو زکوٰۃ نہیں دے سکتی، ہاں اگر شوہر نے اپنی بیوی کو طلاق مغلّظہ دے دیا اور اس کی عدت گزر گئی تو اب وہ دونوں ایک دوسرے کو زکوٰۃ دے سکتے ہیں۔