حدیث نمبر 274

روایت ہے حضرت معاویہ سے فرماتے ہیں تم ایسی نماز پڑھتے ہو کہ ہم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہتے لیکن ہم نے آپ کو وہ پڑھتے نہ دیکھا ۱؎ بے شک اس سے منع کیا یعنی عصر کے بعد دو رکعتیں ۲؎(بخاری)

شرح

۱؎ نماز سے مراد دو رکعتیں ہیں کیونکہ یہ کم سے کم نماز ہے،حنفیوں کے ہاں ایک رکعت کو نماز ہی نہیں کہتے۔مطلب یہ ہے کہ اے تابعین تم عصر کے بعد دو نفل پڑھنے لگے ہم نے یہ نفل پڑھتے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی نہ دیکھا۔خیال رہے کہ یہاں دیکھنے کی نفی ہے،نہ کہ حضور کے پڑھنے کی۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم بعد عصر تنہائی میں دو رکعتیں پڑھتے تھے تاکہ صحابہ نہ دیکھیں نہ آپ کی اس میں اقتداء کریں۱۲

۲؎ طحاوی شریف میں ہے کہ اس نماز کی ممانعت میں متواتر المعنی حدیثیں آئیں۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صحابہ رضی اللہ عنھم نے اس پر ہی عمل کیا کہ نہ خود پڑھیں نہ کسی کو پڑھنے کی اجازت دی۔حتی کہ حضرت عمر اس پر سزا دیتے تھے۔فتح القدیر میں ہے کہ عمر فاروق نے اس نفل پڑھنے والوں کو صحابہ رضی اللہ عنھم کی موجودگی میں سزا دی اور کسی نے اس کا انکار نہ کیا لہذا اس کی ممانعت پر اجماع ہوگیا۱۲