أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَلَمَّا بَلَغَا مَجۡمَعَ بَيۡنِهِمَا نَسِيَا حُوۡتَهُمَا فَاتَّخَذَ سَبِيۡلَهٗ فِى الۡبَحۡرِ سَرَبًا‏۞

ترجمہ:

پس جب وہ دونوں دو سمندروں کے سنگم پر پہنچ گئے تو وہ دونوں اپنی مچھلی بھول گئے سو مچھلی نے سمندر میں سرگن بناتے ہوئے اپنا راستہ بنا لیا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پس جب وہ دونوں دو سمندروں کے سنگم پر پہنچ گئے تو وہ دونوں اپنی مچھلی بھول گئے سو مچھلی نے سمندر میں سرنگ بناتے ہوئے اپنا راستہ بنا لیا۔ (الکھف :61)

سرب کا معنی 

سرب کا معنی ہے سرنگ، اس کی جمع اسراب ہے۔ علامہ راغب اصفہانی نے لکھا ہے حدود میں جانے کو سرب کہتے ہیں اور سرب اس جگہ کو کہتے ہیں، جو ڈھلوان مقام میں ہو۔ سرب کا معنی گزرنا بھی ہے اور بہنا بھی ہے۔ سرب الدمع کا معنی ہے آنسو بہا اور سارب کا معنی ہے جو کسی طریقہ سے بھی جانے والا ہو۔ قرآن مجید میں ہے :

(الرعد 10) جو رات کو چھپا ہو اور دن میں چل رہا ہو۔ (المفردات ج ١ ص 302 مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز مکہ مکرمہ، 1418 ھ)

مجاہد نے کہا سرب کا معنی ہے راستہ، فتادہ نے کہا پانی جم کر سرنگ کی طرح بن گیا تھا اور جمہور مفسرین نے کہا مچھلی فارغ جگہ میں چل رہی تھی اور حضرت موسیٰ مچھلی کے پیچھے پیچھے چل رہے تھے، حتیٰ کہ وہ سمندر میں ایک جزیرہ کے راستہ کی طرف آپ کو لے گئی اور اس جزیرہ میں آپ نے حضرت خضر کو پایا اور ظاہر روایات اور ظاہر قرآن مجید کا تقاضا یہ ہے کہ حضرت موسیٰ نے حضرت خضر کو ساحل سمندر پر پایا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 18 الكهف آیت نمبر 61