أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالَ لَهٗ مُوۡسٰى هَلۡ اَتَّبِعُكَ عَلٰٓى اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا ۞

ترجمہ:

موسیٰ نے کہا آیا میں آپ کی اس شرط پر پیروی کروں کہ آپ کو جو رشد و ہدایت کا علم دیا گیا ہے آپ اس میں سے مجھے بھی (کچھ) تعلیم دیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : موسیٰ نے کہا آیا میں اس شرط پر آپ کی پیروی کروں کہ آپ کو جو رشد و ہدایت کا علم دیا گیا ہے آپ اس علم میں سے مجھے بھی (کچھ) تعلیم دیں اس بندہ نے کہا آپ میرے ساتھ ہرگز صبر نہ کرسکیں گے اور آپ اس چیز پر کیسے صبر کرسکتے ہیں جس کا آپ کے علم نے احاطہ نہیں کیا موسیٰ نے کہا آپ انشاء اللہ عنقریب مجھے صبر کرنے والا پائیں گے اور میں آپ کے حکم کی نافرمانی نہیں کروں گا اس بندے نے کہا پس اگر تم میری پیروی کر رہے ہو تو مجھ سے کسی چیز کے متعلق اس وقت تک سوال نہ کرنا جب تک کہ میں خود اس کا تم سے ذکر نہ کرو (الکھف :66-70)

حضرت موسیٰ کا حضرت خضر سے حصول تعلیم کے لئے ادب سے درخواست کرنا 

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اتنہائی لطیف پیرائے میں کہا آیا میں آپ کی پیروی کروں۔ اس طریقہ سے سوال کرنے میں انتہائی ادب و احترام ہے اور مخاطب کو اپنے سے بہت بلند مقام پر فائز کرنا ہے، جیسا کہ اس حدیث میں ہے :

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ یحییٰ نے حضرت عبداللہ بن زید (رض) نے کہا کہ آپ مجھے دکھا سکتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کس طرح وضو کرتے تھے، الحدیث (صحیح البخاری رقم الحدیث :185، صحیح مسلم رقم الحدیث :235، سنن ابو دائود رقم الحدیث :118 سنن الترمذی رقم الحدیث :32، سنن النسائی رقم الحدیث 97-98 سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :434 صحیح ابن خزیمہ رقم الحدیث :155 شرح السنتہ رقم الحدیث 224)

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی درخواست میں ادب کی وجوہ 

حضرت موسیٰ نے جو یہ کہا تھا آیا میں اس شرط پر آپ کی پیروی کروں کہ آپ کو جو رشد و ہدایت کا علم دیا گیا ہے آپ اس علم سے مجھے بھی تعلیم دیں۔ اس قول میں ادب کی حسب ذیل وجوہ ہیں :

(١) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے آپ کو حضرت خضر (علیہ السلام) کا تابع قرار دیا، کیونکہ انہوں نے کہا آیا میں آپ کی اتباع کروں ؟

(٣) حضرت خضر (علیہ السلام) کا تابع قرار دیا، کیونکہ انہوں نے یوں کہا کیا آپ مجھے اس کی اجازت دیتے ہیں کہ میں آپ کی اتباع کروں اور اس میں بہت زیادہ تواضح ہے۔

(٣) کیا میں حصول تعلیم کے لئے آپ کی اتباع کرو، اس قول میں اپنے لئے عدم علم کا اور اپنے استاذ کے لئے علم کا اعتراف ہے۔

(٤) انہوں نے کہا آپ کو جو رشد و ہدایت کا علم دیا گیا ہے آپ اس میں سے مجھے بھی (کچھ) تعلیم دیں۔ یہ من تبعیض کے لئے ہے یعنی انہوں نے یہ طلب کیا آپ کو جو علم دیا گیا ہے آپ اس میں سے مجھے بعض کی تعلیم دیں، گویا کہ انہوں نے کہا میرا یہ سوال نہیں ہے کہ آپ مجھے علم میں اپنے برابر کردیں بلکہ میرا مطالبہ یہ ہے کہ آپ اپنے علم کے اجزاء میں سے چند اجزاء مجھے بھی عطا کردیں جیسا کہ فقیر غنی سے کہتا ہے کہ تم اپنے مال کے اجزاء میں سے چند اجزاء مجھے عطا کردو۔

(٥) انہوں نے کہا آپ کو جو رشد کا علم دیا گیا ہے اس میں سے مجھے بھی عطا کردیں گویا کہ وہ رشد کے طلبگار تھے۔

(٦) حضرت موسیٰ نے کہا آپ کو جو رشد کا علم دیا گیا ہے، اس میں یہ اعتراف ہے کہ آپ کو اللہ نے علم عطا کیا ہے۔

(٧) انہوں نے یہ کہا آپ کو جو علم دیا گیا ہے آپ اس میں سے مجھجے علم دیں یعنی آپ میرے ساتھ وہ معاملہ کریں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ کیا ہے۔ اس میں یہ اشارہ ہے کہ مجھے تعلیم دینے سے آپ کا مجھ پر اس طرح انعام ہوگا جس طرح اللہ تعالیٰ نے آپ پر انعام کیا ہے۔ اس وجہ سے کہا گیا ہے ج کہ جس شخص نے مجھ کو ایک حرف کی بھی تعلیم دی میں اس کا بندہ اور غلام ہوں۔

(٨) متابعت کا معنی یہ ہے کہ تابع اس وجہ سے وہ کام کرے کہ متبوع نے وہ کام کیا ہے اگر متبوع وہ کام نہ کرتا تو وہ اس کام کو نہ کرتا، جیسے ہم کعبہ کی طرف منہ کر کے صرف اس لئے نما زپڑھتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی ہے اگر آپ اس کی طرف منہ کر کے نماز نہ پڑھتے تو ہم بھی اس کی طرف منہ کر کے نماز نہ پڑھتے۔ اسی طرح استاذ کی اتباع کرنے کا معنی یہ ہے کہ تلمیذ استاذ کے کئے ہوئے کام کو صرف اس وجہ سے کرے گا کہ وہ کام اس کے استاذ نے کیا ہے۔ اس طرح اتباع کرنے میں اول امر سے اس بات کا اقرار ہے کہ وہ استاذ کے کسی کام پر اعتراض نہیں کرے گا۔

(٩) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے مطلقاً کہا آیا میں آپ کی پیروی کروں اس کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے تمام کاموں میں حضرت خضر کی اتباع کرنے کی درخواست کی اور کسی خاص کام کے ساتھ اتباع کو مقید نہیں کیا۔

(١٠) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حضرت خضر نے ابتداء پہچان لیا تھا کیونکہ انہوں نے کہا آپ بنی اسرائیل کے موسیٰ ہیں ! گویا انہوں نے جان لیا تھا یہ وہی نبی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے بلا واسطہ شرف کلام سے نوازا ہے اور ان کو کثیر معجزات عطا فرمائے اس کے باوجود حضرت موسیٰ نے اتنی وجوہ سے تواضح کی اس سے معلوم ہوا کہ جس کا رتبہ جتنا زیادہ ہوتا ہے وہ اہل علم کے سامنے اتنی زیادہ تواضح کرتا ہے اور ان کا اتنا زیادہ ادب اور احترام کرتا ہے۔

(١١) حضرت موسیٰ نے کہا آیا میں آپ کی اتباع کروں کہ آپ مجھے تعلیم دیں۔ پہلے انہوں نے اپنی اتابع پیش کی اس کے بعد انہوں نے ان سے حصول تعلیم کو طلب کیا۔ گویا ادب کا تقاضا یہ ہے کہ پہلے اساتذ کی خدمت کرو پھر اس سے علم طلب کرو۔

(١٢) انہوں نے کہا آیا میں اس بنا پر آپ کی اتباع کروں کہ آپ مجھے تعلیم دیں۔ یعنی انہوں نے اس اتباع کا کوئی معاوضہ طلب نہیں کیا جبز اس کے کہ وہ ان کو تعلیم دیں۔

حضرت خضر کے تعلیم دینے سے احتراز کی توجیہ 

اس کے بعد فرمایا : اس بندہ نے کہا آپ میرے ساتھ ہرگز صبر نہ کرسکیں گے آپ اس چیز پر کیسے صبر کرسکتے ہیں جس کا آپ کے علم نے احاطہ نہیں کیا متعلم کی دو قسمیں ہیں ایک وہ ہے جس نے پہلے بالکل کچھ بھی نہ پڑھا ہو۔ ظاہر ہے اساتذ اس کے سامنے مسئلہ کی جو بھی تقریر کرے گا اس کا شاگرد اس کو بلاچون چرا تسلیم کرے گا۔ دوسری قسم وہ ہے جس نے پہلے کچھ پڑھا ہوا ہے اور اس کو اپنے پڑھے ہوئے پر مکمل اعتماد اور یقین ہو۔ یہ شخص استاذ کی اس بات کو تسلیم کرے گا جو اس کے پڑھے ہوئے کے مطابق ہوگا اور جو اس کے مخلاف ہوگا اس کے قبول کرنے میں اس کو تامل ہوگا اور اس پر وہ اعتراض کرے گا۔ حضرت خضر (علیہ السلام) کو علم تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تشریع کے نبی ہیں اور جو بات ظاہر شرع کے مخالف ہوگی اس پر وہ اعتراض کریں گے جب کہ حضرت خضر (علیہ السلام) تکوین کے نبی تھے اور ان کو معلوم تھا ان کے کئی کام ظاہر شریعت کے خلاف ہوں گے اور ان پر حضرت موسیٰ اعتراض کریں گے اور اس طرح تعلیم اور تعلم کا یہ سلسلہ زیادہ دیر نہیں چل سکے گا۔ اس لئے انہوں نے پیش بندی کے طور پر پہلے ہی کہہ دیا کہ آپ میرے ساتھ ہرگز صبر نہ کرسکیں گے اور آپ اس چیز پر کیسے صبر کرسکتے ہیں جس کا آپ کے علم نے احاطہ نہیں کیا۔

حضرت موسیٰ نے کہا آپ انشاء اللہ عنقریب مجھے صبر کرنے والا پائیں گے اور میں آپ کے حکم کی نافرمانی نہیں کروں گا۔ 

اس پر یہ اعتراض ہے کہ صبر کا تعلق تو مستقبل کے ساتھ ہے اور ان کو معلوم نہیں تھا کہ مستقبل میں صبر ہو سکے گا یا نہیں اس لئے اس کے ساتھ انشاء اللہ کہنا صحیح ہے لیکن حضرت خضر کی نافرمانی نہ کرنے کا عزم تو انہوں نے اسی وقت کرلیا تھا اس کے ساتھ انشاء اللہ کہنا صحیح نہ تھا، کیونکہ اس چیز کے ساتھ انشاء اللہ کہا جاتا ہے جس کا حصول غیر یقینی ہوتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ان کا اس وقت معصیت نہ کرنے کا عزم نہیں تھا ورنہ وہ اس کے ساتھ انشاء اللہ نہ ملاتے، اس کا جواب یہ ہے کہ اس وقت بھی ان کا عزم تھا کہ وہ معصیت نہیں کریں گے یعنی اپنے قصد اور ارادہ سے ان کی معصیت نہیں کریں گے، لیکن ہوسکتا ہے کہ وہ بھول جائیں یا ان سے خطا سر زد ہوجائے اور اس پر وہ قادر نہیں تھے کہ وہ نسیان اور خطاکو روک لیں اور انہوں نے حضرت خضر پر جو اعتراضات بھی کئے تھے وہ نسیان ہی کی وجہ سے کئے تھے۔

اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ امر کا تقاضا وجوب ہے کیونہ حضرت موسیٰ نے فرمایا میں آپ کے امر کی معصیت نہیں کروں گا۔

قرآن مجید میں ہے : ومن یعص اللہ ورسولہ فان لہ نار جھنم (الجن :23) اور جو اللہ اور اس کے رسول کی حکم عدولی کرے تو اس لئے جہنم کی آگ ہے۔ اور یہ حضرت موسیٰ کی طرف سے بہت زیادہ تواضح ہے اور بہت بڑے تحمل اور حوصلہ کا اظہار ہے۔

تعلیم اور تعلم کے آداب 

یہ تمام آیات اس پر دلالت کرتی ہیں کہ تلمیذ اور متعلم پر واجب ہے کہ استاذ کے سامنے انتہائی ادب اور احترام کا اظہار کرے اور اگر استاذ کو یہ اندازہ ہو کہ متعلم پر تشدید اور سختی کرنا اس کے حق میں مفید ہوگا تو وہ ضرور اس کے اوپر شدید اور سختی کرے ورنہ ہوسکتا ہے کہ تشدید نہ کرنے کی وجہ سے متعلم غرور اور تکبر میں مبتلا ہوجائے اور یہ اس کے حق میں مضر ہے۔

اس کے بعد حضرت خضر نے کہا پس اگر تم میری پیروی کر رہے ہو تو مجھ سے کسی چیز کے متعلق اس وقت تک سوال نہ کرنا جب تک کہ میں خود اس کا تم سے ذکر نہ کروں۔

یعنی جب آپ کے نزدیک میرا کوئی کام قابل اعتراض ہو تو جب تک میں خود اس کی توجیہ نہ کروں آپ اس کے اوپر اعتراض نہ کریں اور یہی تعلیم اور تعلم کا ادب ہے۔ سبق میں بعض چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن کی آگے چل کر خود بہ خود وضاحت ہوجاتی ہے اس لئے متعلم پر لازم ہے کہ وہ صبر سے کام لے اور جو بات بہ ظاہر غلط معلوم ہو اس پر نہ ٹوکے حتی کہ آگے چل کر استاذ خود اس کی وضاحت کر دے گا۔ اگر حضرت موسیٰ حضرت خضر کی نصیحت پر کار بند رہتے تو ان کی صحبت طویل ہوتی اور بھی کئی عجیب و غریب واقعات پیش آتے لیکن وہ اپنے شرعی منصب پر فائز ہونے کی وجہ سے خاموش نہ رہ سکے اور جب بھی کوئی بات بہ ظاہر خلاف شرع ہوتی تو اس پر ضرور ٹوکتے اور یوں یہ سلسلہ تعلیم ختم ہوگیا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 18 الكهف آیت نمبر 66