مسلمانوں کی حقیقی اسلامی زندگی

تحریر: محمد شمیم احمد نوری
اگر موجودہ مسلمانوں کی صورت کا موازنہ پہلے زمانہ کے مسلمانوں کی صورت سے ,سیرت کا سیرت سے، اخلاق کا اخلاق سے، افعال کا افعال سے، اور اقوال کا اقوال سے کیا جائے تو ہم اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ “اسلامی ناموں اور کچھ اسلامی رسم و رواج” کے علاوہ آج کے مسلمانوں میں قرونِ ماضیہ کے مسلمانوں جیسی ایک بات بھی صحیح طورپر موجود نہیں ہے-
                ہم میں اپنے اسلاف کی ایک بھی نشانی باقاعدہ نہیں پائی جاتی، سوائے اس کے کہ ہمارے نام بھی مسلمانوں جیسے ہیں -آپ لوگ سوچیں کہ کیا میں اپنی اس بات میں غلطی پرہوں، ذرا آپ خودہی سمجھداری کے ساتھ فیصلہ کریں کہ آپ کے اندر اسلام کی نشانیاں اور ملت بیضا کی علامتیں کہاں تک اور کتنی پائی جاتی ہیں؟
        قارئین کرام: حقیقت یہ ہے کہ آپ نے اپنے سچے ہادی حضور نبئِ برحق صلّی اللّٰہ علیہ وسلم کا دامن چھوڑ دیا ہے، قرآن مجید کے نصائح حقّہ سے منہ موڑ لیا ہے، گمراہیت کو ہدایت، خطا کوثواب،اور گمراہی کوراہ راست کے حصول کا صحیح ذریعہ سمجھنے لگے ہیں، جس کی وجہ سے آج ہر طرف سے مصائب و آلام، کلفت و ذلّت کی ایسی گھنگھور گھٹائیں اُٹھ رہی ہیں جو مسلمانوں کی زندگی کو تیرہ و تاریک بنارہی ہیں، جن کے اندر سے دل ہلا دینے والی کڑک اور خرمن ہستی کو جلا دینے والی بجلی کی تڑک ہر وقت اپنا پُرہیبت سَماں دنیائےاسلام کے سامنے پیش کرتی ہے۔
                          قارئین: آپ سلف صالحین کے حالات کا مطالعہ کیجئے، ان کی روحانی طاقت و قوت اور کیفیت کا حال سیرت کی کتابوں میں ملاحظہ فرمائیے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ آپ کے سلف صالحین کیا تھے اور آج آپ کیا کر رہے ہیں؟
                     کیا آپ کو حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کا وہ واقعہ معلوم نہیں کہ ایک لڑائی میں اپنےماموں کا سر خدا اور خدا کے رسول صلّی اللّٰہ علیہ وسلم کی خوشنودی کے لئے تلوار سے اڑا دیا، قرابت اور خاندانی رشتے داری کا ذرّہ برابر بھی لحاظ نہ کیا،  کیا آپ اورہم میں سے کوئی ایسا ہے؟ جو سینہ پر ہاتھ رکھ کر یہ کہے کہ آج ہم اس جذبہ کو عملی جامہ پہنانے کے لیے تیار ہیں- اور خدا اور اس کے رسول کی اطاعت و فرماں برداری سے کوئی طاقت ہم کو نہیں روک سکتی۔
                جنگ بدر کے اس واقعہ کو یاد کیجئے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ  کے بڑے صاحبزادے حضرت عبدالرّحمٰن [جو اس وقت  تک مشرّف باسلام  نہ ہوئے تھے] کفّار کی جانب سے مبارز{ لڑنے کے لیے مقابل} طلب کرتے ہیں، تو ان کی آواز سن کر حضرت ابوبکر صدّیق رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم سے عرض کرتے ہیں کہ آپ مجھ کو اجازت عطا  عطا فرمائیے کہ عبدالرّحمٰن کا سر کاٹ کر آپ کے قدموں میں ڈال دوں، مگر رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلم ان کو میدان جنگ میں جانے کی اجازت نہیں دیتے، مشرّف بہ اسلام ہونے کے بعد حضرت عبدالرّحمٰن اپنے والد محترم حضرت ابوبکر صدّیق رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے عرض کرتے ہیں کہ جنگ بدر میں  ایک دفعہ آپ میری زَد پر آگئے تھے اگر اس وقت میں تلوار کا وار کرتا  تو آپ زندہ نہ بچتے مگر میں نے وارنہ کیا، جواب میں حضرت ابوبکر صدّیق رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: عبدالرّحمٰن! اگر تم میری زد پر آ جاتے تو میں تمہیں ہرگز نہ چھوڑتا فوراً قتل کر دیتا۔
               *سبحان اللّٰہ:* یہ حضرات تھے جنہوں نے مرضیات الٰہی کے سامنے تمام دنیاوی تعلقات کو ٹھکرا دیا اور پیاری سے پیاری چیزوں کو بھی رضائے الٰہی کی طلب میں نگاہ اٹھا کر نہیں دیکھا۔
                       آئیئے واقعۂ ہجرت کو ملاحظہ فرمائیں! ایک دن سخت گرمی کے وقت رسول کریم صلّی اللّٰہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر صدّیق کے مکان پر تشریف فرما ہوئے اور فرمایا: ابوبکر:”تخلیہ کرو” حضرت ابوبکر نے عرض کیا: یہاں آپ ہیں، میں ہوں، عائشہ ہیں، کوئی غیر اِس مکان میں نہیں ہے جو کچھ ارشاد فرماناہو فرمائیئے:تب رسول کریم صلّی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہجرت کا حکم ہو گیا ہے! حضرت ابوبکر صدّیق رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے دریافت کیا:  کہ میرے ہمرکاب ہونے کا حکم بھی ہوا ہے یا نہیں؟رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلم نے ہمرکابی کا مژدۂ جانفزا سنایا، حضرت ابوبکر اس بشارت کو سن کر رونے لگے ،{حضرت عائشہ صدّیقہ رضی اللّہ تعالیٰ عنہافرماتی ہیں کہ “اس روز مجھے معلوم ہوا کہ خوشی میں بھی انسان رونے لگتا ہے”} اور فورا جاکر دواونٹ جن کو پہلے ہی سے کھلا پلا کر تیار کر رکھا تھا لاکر حضورپرنور صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم کی خدمت میں حاضر کیے، رسول کریم صلّی اللّٰہ علیہ وسلم نے ان  میں سے ایک کو خرید کر خود سوار ہوئے دوسرے پر حضرت ابوبکر صدّیق رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہٗ سوارہوکر حضور صلّی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلّم کی ہم رکابی میں روانہ ہوئے اور چلتے وقت پورا نقد سرمایا رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلم پر قربان کرنے کے لیے ساتھ لے لیا، اور اپنے اہل و عیال کا ذرا بھی خیال نہیں فرمایا۔
               *قارئین کرام:* آپ کے اسلاف کی یہ زندہ نذیریں ہیں جو قیامت تک فلکِ  اسلام پر شمس وقمر سے زیادہ روشن اور درخشاں رہیں گی، یہ خدا اور اس کے رسول کی محبت کا کرشمہ ہے جس نے پوری دنیا کے تعلقات کو پامال کردیا۔
                           کیا ان واقعات کو معلوم کرنے کے بعد بھی ہم اورآپ اپنے حقیقی اسلامی زندگی کی طرف نہیں پلٹیں گے؟کیااب بھی خوابِ خرگوش میں پڑے رہیں گے؟  اور اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش نہیں کریں گے ؟
                      اللّٰہ وحدہ لاشریک ہم سبھی مسلمانوں کو حقیقی اسلامی زندگی جینے کی توفیق مرحمت فرمائے! آمین۔