أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مَّاۤ اَشۡهَدْتُّهُمۡ خَلۡقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَلَا خَلۡقَ اَنۡفُسِهِمۡۖ وَمَا كُنۡتُ مُتَّخِذَ الۡمُضِلِّيۡنَ عَضُدًا‏۞

ترجمہ:

میں نے آسمانوں اور زمینوں کی پیدائش کے وقت انہیں اپنے سامنے حاضر نہیں کیا تھا اور نہ خود ان کی پیدائش کے وقت اور نہ میں گمراہ کرنے والوں کو اپنا مددگار بنانے والا ہوں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : میں نے آسمانوں اور زمینوں کی پیدائش کے وقت انہیں اپنے سامنے حاضر نہیں کیا تھا اور نہ خود ان کی پیدائش کے وقت اور نہ میں گمراہ کرنے والوں کو اپنا مددگار بنانے والا ہوں جس دن وہ فرمائے گا ان کو پکارو جو تمہارے زعم میں میرے شریک تھے، سو وہ ان کو پکاریں گے اور وہ ان کی پکار کا جواب نہیں دے سکیں گے  اور ہم ان کے درمیان ہلاکت کی ایک جگہ بنادیں گے اور مجرم دوزخ کو دیکھ کر سمجھ لیں گے کہ وہ اسی میں جھونکے جانے والے ہیں اور وہ اس سے نجات کی کوئی جگہ نہیں پائیں گے۔ (الکھف :51-53)

ان لوگوں کا رد جو حقائق شناسی کا دعویٰ کرتے ہیں 

اس آیت میں جو فرمایا ہے میں نے آسمانوں اور زمینوں کی پیدائش کے وقت انہیں اپنے سامنے حاضر نہیں کیا تھا۔ اس میں ” انہیں “ سے مراد کون ہے ؟ اس میں دو قول ہیں ایک قول جمہور مفسرین کا اور دوسرا امام رازی کا قول ہے۔ جمہور مفسرین کا قول ہے کہ اے مشرکو ! جن لوگوں کو تم نے اپنا ولی اور کار ساز بنا لیا ہے، میں نے ان کو آسمانوں اور زمینوں کی پیدائش کے وقت حاضر نہیں کیا تھا۔ اس سے مقصود ان لوگوں پر رد کرنا ہے جو آسمانوں اور زمینوں کے حقائق جاننے کا دعویٰ کرتے ہیں اور ستارہ شناسی کا دعویٰ کرتے ہیں، جو منجمین اور ستارہ شناسی کے مدعی ہیں جو کہتے ہیں کہ فلاں ستارہ اگر فلاں برج میں ہو تو اس کی یہ تاثیر شناسی کا دعویٰ کرتے ہیں، جو منجمین اور ستارہ شناسی کے مدعی ہیں جو کہتے ہیں کہ فلاں ستارہ اگر فلاں برج میں ہو تو اس کی یہ تاثیر ہے اور اگر فلاں برج میں ہو تو اس کی یہ تاثیر ہے۔ جو کہتے ہیں کہ آسمان اور زمین گول ہے اور ایک دوسرے کو اس طرح محیط ہیں جس طرح پیاز کے چھلکے ایک دوسرے کو محیط ہوتے ہیں اور یہ کہ آسمان نو ہیں اور آسمان اور زمین گردش کر رہے ہیں اور ان میں مرکوز سیارے بھی گردش کر رہے ہیں، پہلے کہتے تھے کہ زمین ساکن ہے اور افلاک گردش کرتے ہیں پھر کہنے لگے افلاک ساکن ہیں اور زمین میں گردش کرتی ہے۔ پہلے کہتے تھے کہ یہ سیارے سات آسمانوں میں مرکوز ہیں، اب کہتے ہیں کہ خلاء میں ہیں۔ اسی طرح زمین کی تاثیرات کے متعلق بھی یہ دعوے کرتے ہیں اور زلزلوں اور طوفانوں کے اسباب بیان کرتے ہیں، اسی طرح انسان کے نفس اور بدن کے متعلق بھی دعوے کرتے ہیں اور اس کے بارے میں مختلف ادوار میں یہ مختلف باتیں کرتے رہے۔ اللہ تعالیٰ ان کا رد فرماتا ہے : میں نے آسمانوں اور زمینوں کی پیدائش کے وقت انہیں اپنے سامنے حاضر نہیں کیا تھا اور نہ خود ان کی پیدائش کے وقت۔ تو انہوں نے کیسے جان لیا کہ فلاں چیز کی کیا حقیقت ہے اور وہ کس چیز سے بنائی گئی ہے اور اس کی کیا تاثیرات ہیں اور دوسری چیز کی کیا حقیقت ہے اور اس کی کیا تاثیرات ہیں ؟

امام رازی نے کہا یہ ضمیر ان کافروں کی طرف لوٹتی ہے جنہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ کہا تھا کہ اگر آپ نے ان فقراء کو اپنی مجلس سے نہ اٹھایا تو ہم آپ پر ایمان نہیں لائیں گے۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا جن لوگوں نے آپ سے یہ باطل اور فاسد مطالبہ کیا ہے اور تکبر کا اظہار کیا ہے وہ اس جہان کو بنانے میں میرے شریک نہیں تھے اور نہ میں نے دنیا اور آخرت کی تدبیر میں ان سے کوئی مدد لی تھی، بلکہ وہ لوگ اور مخلوقات کی طرح ایک مخلوق ہیں پھر انہوں نے اس متکبرانہ مطالبہ کی کس لئے جرأت کی۔

عضد کا معنی ہے اعوکان، انصار اور مددگارخ اصل میں اس کا معنی ہے بازو پھر اس کا اسعتمال مدد میں کیا گیا۔ قرآن میں ہے :

سنشد عضدک باخیک۔ (القصص :35) عنقریب ہم تمہارے بھائی سے تمہارے بازو کو مضبوط کریں گے۔ یعنی تمہارے بھائی کے ذریعہ تمہاری مدد کریں گے۔

موبق کا معنی 

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور جس دن وہ فرمائے گا ان کو پکارو جو تمہارے زعم میں میرے شریک تھے۔ 

یعنی یاد کرو جس دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا میرے شریک کہاں ہیں ؟ یعنی جن کو تم نے دنیا میں میرا شریک بنا لیا تھا، اب ان کو چاہیے کہ وہ تم کو میرے عذاب سے چھڑائیں گے۔ اللہ تعالیٰ یہ بات بت پرستوں سے فرمائے گا۔ پھر وہ مشرک ان بتوں کو پکاریں گے اور وہ ان کی پکار سن کر ان کی مدد کو نہیں پہنچیں گے اور ان کو عذاب سے بالکل نہیں چھڑا سکیں گے۔ فرمایا اور ہم نے ان کے درمیان ہلاکت کی ایک جگہ بنادی ہے۔ قرآن مجید میں اس کے لئے موبق کا لفظ ہے اور موبق کا معنی ہلاکت کی جگہ ہے، اور جن مشرکوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا فرشتوں کو اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو معبود بنا لیا تھا، جب قیامت کے دن مشرکین ان کو پکاریں گے تو وہ ان کی پکار کو نہیں سنیں گے پھر مشرکوں اور ان کے درمیان حجاب حائل کردیا جائے گا، پھر اللہ تعالیٰ ان مشرکوں کو جہنم میں داخل فرما دے گا اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو جنت میں داخل کر دے گا اور فرشتوں کو دار کرامت میں داخل کر دے گا اور ان مشرکوں اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ملائکہ کے درمیان موبق کو حائل کردیا جائے گا اور یہ جہنم کی ایک وادی ہے۔ حسن نے کہا موبق سے مراد یہ ہے کہ وہ شدت عداوت سے ہلاک ہوجائیں گے اور اس سے یہ بھی مراد ہے کہ ان کے درمیان بعد بعید کردیا جائے گا کیونکہ وہ جہنم کے سب سے نچلے طبقہ میں ہوں گے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) جنت کے سب سے بلند درجے میں ہوں گے۔

اس آیت کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور مجرم دوزخ کو دیکھ کر سمجھ لیں گے کہ وہ اسی میں جھونکے جانے والے ہیں۔

اس آیت میں ظن کا لفظ ہے۔ ظن کا یہاں پر معنی علم اور یقین ہے۔ یعنی مجرم دوزخ کو دیکھ کر یقین کرلیں گے کہ وہ اسی میں جھونکے جانے والے ہیں اور اس کا دوسرا معنی یہ ہے کہ کفار بہت دور سے دوزخ کی آگ کو دیکھیں گے اور دوزخ کے طیش اور اس کے غیظ و غضب اور اس کے چیخنے اور چلانے کو سن کر وہ یہ گمان کرلیں گے کہ ان کو ابھی فوراً دوزخ میں ڈال دیا جائے گا۔

قرآن مجید میں ہے :

اذا راتھم من مکان بعید سمعوا لھا تغیظا و زقیراً (الفرقان :12) اور جب دوزخ انہیں دور سے دیکھے گی تو یہ اس کا غصہ سے بپھرنا اور دہاڑنا سنیں گے اور فرمایا اور وہ اس سے نجات کی کوئی جگہ نہیں پائیں گے کیونکہ وہ کہیں بھی جائیں، فرشتے ان کو ہانک کر دوزخ کی طرف لے جائیں گے۔

حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کافر کے لئے قیامت کے دن پچاس ہزار سال مقرر کئے جائیں گے کیونکہ اس نے دنیا میں عمل نہیں کیا تھا اور کافر ضرور جہنم کو دیکھے گا اور یہ گمان کرے گا کہ اس کو چالیس سال کی مسافت تک جہنم میں جھونک دیا جائے گا۔ (اور مئومن پر یہ دن اتنی دیر میں گزرے گا جتنی دیر میں وہ فرض نماز پڑھتا تھا۔ (مسند احمد رقم الحدیث :11737، مطبوعہ عالم الکتب بیروت، المسند الجامع ج ٦ رقم الحدیث :4722)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 18 الكهف آیت نمبر 51