حدیث نمبر 275

روایت ہے حضرت ابوذر سے کہ انہوں نے کعبے کے زینے پر چڑھ کر فرمایا جو مجھے پہچانتا ہے وہ پہچانتا ہے اور جو نہیں پہچانتا تو میں جندب ۱؎ ہوں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ فجر کے بعد آفتاب نکلنے تک اور عصر کے بعد سورج ڈوبنے تک نماز نہیں مگر مکہ میں،مگر مکہ میں مگر مکہ میں ۲؎(احمد،رزین)

شرح

۱؎ کیونکہ آپ صداقت میں مشہور تھے۔اس لیے آپ نے پہلے اپنا نام بتایا تاکہ اس حدیث میں شک و شبہ نہ رہے۔

۲؎ یعنی مکہ معظمہ میں ہر وقت نفل جائز،امام ابن ھمام اور ملا علی قاری نے فرمایا کہ یہ حدیث چار وجہ سے مجروح ہے: ایک یہ کہ اس کی اسناد میں حضرت مجاہد اور ابو ذر رضی اللہ عنہا کے درمیان کوئی راوی چھوٹ گیا لہذا یہ حدیث منقطع ہے۔دوسرے یہ کہ ابن موئل راوی ضعیف ہیں۔تیسرے یہ کہ اس میں حمید مولا عفراء ہیں یہ بھی ضعیف ہیں۔چوتھے یہ کہ اس کی اسناد میں اضطراب ہے حتی کہ حضرت ابن حجر شافعی نے بھی تسلیم کیا کہ اس حدیث کی اسناد ضعیف ہے قابل حجت نہیں مگر فرمایا کہ چونکہ اس حدیث کو اس حدیث سے قوت پہنچتی ہے کہ اے عبد مناف کی اولاد حرم میں لوگوں کو کسی وقت نماز و طواف سے منع نہ کرو لہذا یہ حدیث قابل عمل ہوگئی مگر ہم اس حدیث کی شرح میں عرض کرچکے ہیں کہ وہ لوگ دنیاوی اغراض کی خاطربعض وقت حرم شریف کو بند کردیتے ہیں اس لیے انہیں اس بند کرنے سے منع فرمایا اور فرمایا کہ تم لوگوں کو نہ منع کرو،یہ نہ فرمایا کہ انہیں شریعت منع نہیں کرتی۱۲