أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذۡ قُلۡنَا لِلۡمَلٰۤئِكَةِ اسۡجُدُوۡا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوۡۤا اِلَّاۤ اِبۡلِيۡسَؕ كَانَ مِنَ الۡجِنِّ فَفَسَقَ عَنۡ اَمۡرِ رَبِّهٖؕ اَفَتَـتَّخِذُوۡنَهٗ وَذُرِّيَّتَهٗۤ اَوۡلِيَآءَ مِنۡ دُوۡنِىۡ وَهُمۡ لَـكُمۡ عَدُوٌّ ؕ بِئۡسَ لِلظّٰلِمِيۡنَ بَدَلًا ۞

ترجمہ:

اور جب ہم نے فرشتوں سے فرمایا کہ تم آدم کو سجدہ کر، تو ابلیس کے سوا سب نے سجدہ کیا، وہ جنات میں سے تھا، پس اس نے اپنے رب کے حکم سے نافرمانی کی، کیا تم پھر بھی مجھے چھوڑ کر اس کو اور اس کی اولاد کو دوست بناتے ہو ! حالانکہ وہ تمہارے دشمن ہیں، ظالموں کا کیسا برا بدلہ ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جب ہم نے فرشتوں سے فرمایا کہ تم آدم کو سجدہ کرو تو ابلیس کے سوا سب نے سجدہ کیا، وہ جنات میں سے تھا پس اس نے اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کی، کیا تم پھر بھی مجھے چھوڑ کر اس کو اور اس کی اولاد کو دوست بناتے ہو ؟ حالانکہ وہ تمہارے دشمن ہیں، ظالموں کا کیسا برا بدلہ ہے (آیت 50)

ربط آیات، ذریت کا معنی اور شیطان کی ذریت کا بیان 

سابقہ آیات کے ذکر سے یہ مقصود تھا کہ ان لوگوں پر رد کیا جائے جو اپنے مال و دولت اور اپنے اعوان اور انصار پر فخر کرتے تھے اور فقراء مسلمین کو حقیر جانتے تھے اور اس آی سے بھی بعینہ اس معنی کا ذکر کرنا مقصود ہے کیونکہ ابلیس نے حضرت آدم (علیہ السلام) پر تکبر کیا تھا اس نے اپنے مادہ خلقت پر تکبر کیا تھا، اس نے ہا تھا کیونکہ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور اس کو مٹی سے پیدا کیا ہے تو میں اپنی اصل کے اعتبار سے آدم سے افضل ہوں، پس میں کس لئے آدم کو سجدہ کروں اور کیوں تواضح کروں اور اسی طرح کا معاملہ متکبر، مشرکوں نے فقراء مسلمین کے ساتھ کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ہم ان فقراء کے ساتھ کیوں بیٹھیں جبکہ ہم مال و دولت اور جاہ و حشم کے اعتبار سے ان سے افضل ہیں۔ اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے سابقہ آیات کے بعد حضرت آدم (علیہ السلام) اور ابلیس کا قصہ بیان فرمایا۔

یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے وہ جنات میں سے تھا پس اس نے اپنے رب کی نافرمانی کی۔ اس میں عملاء کا اختلاف ہے کہ ابلیس جن تھا یا فرشتہ تھا۔ اس آیت میں یہ تصریح ہے کہ ابلیس جنات میں سے تھا، اس مسئلہ کی پوری تحقیق ہم نے البقرہ :34 میں کی ہے۔ (تبیان القرآن ج ١ ص 358)

اس کے بعد فرمایا : کیا تم پھر بھی مجھے چھوڑ کر اس کو اور اس کی ذریت (اولاد) کو دوست بناتے ہو ؟ اس آیت میں ذریت کا لفظ ہے۔ علامہ ابو الحسن ابن سیدہ المتوفی 458 ھ ذریت کا معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

ذرا کا معنی ہے پیدا کرنا اور الذریۃ کا معنی ہے، اخلق، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بعض غزوات میں ایک قتل کی ہوئی عورت دیکھی تو فرمایا لاتقتلن ذریۃ ولاعسیفا نہ عورت کو قتل کرو اور نہ مزدور کو۔ آپ نے عورت کو ذریت فرمایا۔ (المحکم و المحیط الاعظم ج 10 ص 113 مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت 1421 ھ)

ذریت اصل میں چھوٹے بچوں کو کہتے ہیں پھر عرب میں چھوٹے اور بڑے اور واحد اور کثیر تمام اولاد کو ذریت کہتے ہیں اور مجازاً متبعین کو ذریت کہتے ہیں۔ تفسیر منیر ج ٣ ص 310، قاضی بیضاوی نے لکھا ہے ذریۃ کا معنی ہے الولدیہ لفظ ذرء سے بنا ہے، جس کا معنی ہے خلق یا ذر سے بنا ہے جس کا معنی ہے پھیلا دیا۔ (عنایۃ القاضی ج ٣ ص 35-36)

ابلیس کی ذریت کے متعلق حسب ذیل اقوال ہیں :

حسن اور قتادہ نے کہا اس کی ذریت اس کی اولاد ہے، اور شیطانوں کی بھی اس طرح اولاد ہوتی ہے جس طرح بنو آدم کی اولاد ہوتی ہے اور مجاہد نے کہا اس کی ذریت سے مراد شیاطین ہیں، اس کی ذریت میں ذلنبور ہے جو ہر بازار میں شیطان کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہوتا ہے اور شر ہے جو مصائب کا سبب ہے اور اعور ہے جو ریا کاری کا سبب ہے اور مسوط ہے جو لوگوں میں جھوٹی باتیں پھیلاتا ہے اور داسم ہے جو اس آدمی کا ساتھی ہے جو گھر میں بغیر سلام کئے داخل ہو اور جو بسم اللہ پڑھے بغیر کھانا کھائے، وہ اس کے ساتھ کھانے میں شریک ہوجاتا ہے۔ (زاد المسیر ج ٥ ص 154، مطبوعہ دارالمکتب الاسلامی بیروت، 1407 ھ)

بعض شیطانوں کے خصوصی نام احادیث میں بھی ہیں :

حضرت ابی بن کعب (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وضو کے شیطان کو ولہان کہا جاتا ہے، تم پانی کے وسوسوں سے بچو۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : 57، مسند احمد ج ٥ ص 136 سنن ابن ماجہ رقم الحدیث 421، المسند الجامع ج ١ ص 20)

حضرت عثمان بن ابی العاص (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا یا رسول اللہ میرے اور میری نماز اور میری قرأت کے درمیان شیطان حائل ہوجاتا ہے اور وہ مجھ پر قرأت مشتبہ کردیتا ہے تو رسول اللہ 

نے فرمایا : یہ شیطان ہے جس کو خنزب کہا جاتا ہے، جب تم اس کو محسوس کرو تو اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم پڑھو اور اپنی بائیں جانب تین بار تھوک دو ۔ انہوں نے کہا میں نے اس طرح کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس شیطان کو مجھ سے دور کردیا۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : 2203، مسند احمد ج ٤ ص 216، مسند عبد بن حمید رقم الحدیث 381)

حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ابلیس اپنا تخت پانی پر بچھاتا ہے پھر اپنے لشکر کو بھیجتا ہے اس کے نزدیک وہ شیطان سب سے بڑے درجہ کا ہوتا ہے جو سب سے زیادہ فتنہ ڈالتا ہے۔ ان میں سے ایک آ کر کہتا ہے میں نے فلاں فلاں کام کیا ہے۔ وہ کہتا ہے تم نے کچھ نہیں کیا، پھر ان میں سے ایک اور آ کر کہتا ہے میں نے فلاں شخص کو اس وقت چھوڑا جب اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان تفرقہ کرا دیا تو وہ اس کو اپنے قریب کرتا ہے اور کہتا ہے ہاں تو نے کام کیا ہے۔ اعمش نے کہا وہ اس سے بغل گیر ہوتا ہے۔ (صحیح مسلم رقم احلدیث :2813 رقم المسلسل، 6973 مسند احمد ج ٣ ص 314، مسند عبد بن حمید رقم الحدیث :1033)

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے ہر شخص کے ساتھ ایک شیطان کو مقرر کیا گیا ہے۔ صحابہ نے پوچھا یا رسول اللہ ! آپ کے ساتھ بھی ؟ فرمایا ہاں ! میرے ساتھ بھی مگر اللہ نے اس کے خلاف میری مدد فرمائی وہ مسلمان ہوگیا اور مجھ کو نیک کام کے سوا کوئی مشورہ نہیں دیتا۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث :2814، مسند احمد ج ١ ص 385، سنن الداری رقم الحدیث :2737، صحیح ابن خزیمہ رقم الحدیث :658)

ابن زید نے اس آیت کی تفسیر میں کہا ابلیس ابوالجن ہے جیسا کہ حضرت آدم ابو الانس ہیں اور کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ابلیس سے فرمایا میں جتنی آدم کی ذریت بنائوں گا، اتنی ہی تمہاری ذریت بنائوں گا۔ اسی وجہ سے آدم کی ہر اولاد کے ساتھ ایک شیطان مقرر ہوتا ہے۔ (جامع البیان رقم الحدیث :7437، مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1415 ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 18 الكهف آیت نمبر 50