أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَا مَنَعَ النَّاسَ اَنۡ يُّؤۡمِنُوۡۤا اِذۡ جَآءَهُمُ الۡهُدٰى وَيَسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّهُمۡ اِلَّاۤ اَنۡ تَاۡتِيَهُمۡ سُنَّةُ الۡاَوَّلِيۡنَ اَوۡ يَاۡتِيَهُمُ الۡعَذَابُ قُبُلًا‏ ۞

ترجمہ:

اور لوگوں کو ایمان لانے اور اپنے رب سے استغفار کرنے سے کس چیز نے منع کیا جب کہ ان کے پاس ہدایت آچکی تھی، سوا اس کے کہ ان کے پاس پہلے لوگوں کا دستور آئے یا ان کے سامنے عذاب آجائے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور لوگوں کو ایمان لانے اور اپنے رب سے استغفار کرنے سے کسی چیز نے منع کیا جبکہ ان کے پاس ہدایت آچکی تھی سو اس کے کہ ان کے پاس پہلے لوگوں کا دستور آئے یا ان کے سامنے عذاب آجائے۔ اور ہم رسولوں کو صرف خوشخبری سنانے اور عذاب سے ڈرانے کے لئے بھیجتے ہیں اور کفار باطل کے سہارے جھگڑتے ہیں تاکہ حق کو زائل کریں اور انہوں نے میری آیتوں کو اور جن باتوں سے انہیں ڈرایا گیا ہے ان کو مذاق بنا لیا ہے۔ (الکھف :55-56)

گزشتہ کافر قوموں کے متعلق اللہ تعالیٰ کا دستور 

یعنی ان مشرکین کے پاس جب بھی اسلام کے صحیح اور دین برحق ہونے پر دلائل آتے اور ان کو ایمان لانے سے کوئی مانع اور رکاوٹ بھی نہ ہوتی پھر بھی یہ ایمان نہیں لاتے۔ اسی طرح اپنے گناہوں پر توبہ اور استغفار کرنے میں انہیں کوئی عذر نہ ہوتا پھر بھی یہ اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں پر توبہ اور استغفار نہیں کرتے تھے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ اپنے پیش رو کافروں کی روش پر چلنا چاہتے ہیں اس سے پہلے کافروں کا یہ طریقہ تھا کہ جب بھی انہیں ایمان لانے کی دعوت دی جاتی تو وہ اپنے زمانہ کے نبیوں سے کہتے تھے کہ آپ ہمیں ایمان نہ لانے کی بناء پر جس عذاب سے ڈراتے ہیں، آپ ہمیں وہ عذاب لا کردکھائیں۔ قرآن مجید میں ہے :

واذا قالوا اللھم ان کان ھذا ھو الحق من عندک فامطر علینا حجارۃ من السمآء او ائتنا یعذاب الیم (الانفال :32) اور جب کہ ان لوگوں نے کہا اے اللہ ! اگر یہ قرآن تیری طرف سے برحق ہے تو تو ہم پر آسمان سے پتھر برسایا ہم پر کوئی درج ناک عذابلے آ۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ہم رسرلوں کو صرف اس لئے بھیجتے ہیں کہ وہ ایمان لانے والوں کو جنت کی بشارت دیں اور جو کفر پر اصرار کریں ان کو دوزخ کے عذاب سے ڈرائیں۔ پھر فرمایا :

اور کفار باطل کے سہارے جھگڑتے ہیں تاکہ حق کو زائل کریں۔ یہ آیت ان لوگوں کے متعلق نازل ہوئی ہے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ضد اور عناد کے طور پر بحث کرتے تھے اور آپ کو ساحر، مجنون، کاہن اور شاعر وغیرہ کہتے تھے۔ اس آیت میں لید حضوا کا لفظ ہے، جس کا معنی ہم نے کیا ہے تاکہ زائل کریں اور الدحض کا اصل میں معنی پھسلنا ہے۔ کہا جاتا ہے دحضت رجلہ اس کا پیر پھسل گیا اور کہا جاتا ہے دحضت الشمس سورج نصف النہار سے زائل ہوگیا۔ حدیث شریف میں ہے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا گیا پل صراط کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : دحض مزلقۃ یعنی وہ جگہ جہاں سے پیر پھسل جائیں گے۔ یہ پوری حدیث صحیح مسلم میں مذکور ہے۔ (رقم الحدیث :182)

گزشتہ تباہ ہونے والی بستیاں 

اس آخری آیت میں فرمایا ہے یہ وہ بستیاں ہیں جن کو ہم نے ان کے ظلم کی وجہ سے ہلاک کردیا تھا۔ اس سے مراد عاد، ثمود اور حضرت شعیب (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوموں کی بستیاں ہیں۔ جو اہل حجاز کے قریب اور ان کے راستوں میں واقع تھیں، ان بستیوں کے رہنے والوں کو بھی ان کے ظلم کی وج ہ سے ہی ہلاک کیا گیا تھا لیکن ان پر عذاب نازل کرنے سے پہلے ان کو نبیوں کی دعوت قبول کرنے کا پورا پورا موقع دیا گیا تھا اور ان پر حجت پوری کردی گی تھی اور جب یہ واضح ہوگیا کہ ان کا ظلم اور ان کی ضد اور ان کی سرکشی اس حد پر پہنچ چکی ہے جہاں سے ہدایت کو قبول کرنے کے راستے مسدود ہوجاتے ہیں اور ان سے کسی انصاف اور خیر کی توقع بالکل نہیں رہتی تو پھر ان کے ایمان لانے اور ہدایت کو قبول کرنے کی مہلت ختم کردی گئی اور ان کی تباہی کا وقت شروع ہوگیا، پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب نازل فرمایا اور یہ قومیں صفحہ ہستی سے مٹا دی گئیں۔

ان قوموں کی تباہی کا ذکر کر کے اہل مکہ کو یہ باور کرایا جا رہا ہے کہ تم تم سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تکذیب کر کے یہ مت سمجھنا کہ تم پر جو ابھی تک عذاب نہیں آیا اور تم کو جو مسلسل مہلت دی جا رہی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ تم سے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کا دستور ہے کہ جب تک اللہ تعالیٰ کسی قوم پر اپنی حجت پوری نہیں کرلیتا اس وقت تک وہ اس قوم پر عذاب نہیں بھیجتا، سو اسی طرح جب تمہیں دی ہوئی عمل کی اور ایمان لانے کی مہلت ختم ہوجائے گی تو تمہارا انجام بھی پچھلی قوموں سے مختلف نہیں ہوگا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 18 الكهف آیت نمبر 55