أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنۡ ذُكِّرَ بِاٰيٰتِ رَبِّهٖ فَاَعۡرَضَ عَنۡهَا وَنَسِىَ مَا قَدَّمَتۡ يَدٰهُ‌ ؕ اِنَّا جَعَلۡنَا عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ اَكِنَّةً اَنۡ يَّفۡقَهُوۡهُ وَفِىۡۤ اٰذَانِهِمۡ وَقۡرًا‌ ؕ وَاِنۡ تَدۡعُهُمۡ اِلَى الۡهُدٰى فَلَنۡ يَّهۡتَدُوۡۤا اِذًا اَبَدًا ۞

ترجمہ:

اور اس شخص سے بڑا ظالم اور کون ہوگا جس کو اپنے رب کی آیات سے نصیحت کی گئی تو اس نے ان سے منہ پھیرلیا اور ان کاموں کو بھول گیا جن کو اس کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں بیشک ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیئے ہیں تاکہ وہ اس کو نہ سمجھ سکیں اور ان کے کانوں میں گرانی ہے، اور اگر آپ انہیں صحیح راستہ کی طرف بلائیں تو وہ کبھی ہرگز اس راستہ پر نہیں آئیں گے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اس شخص سے بڑا ظالم اور کون ہوگا جس کو اپنے رب کی آیات سے نصیحت کی گئی تو اس نے ان سے منہ پھیرلیا اور ان کاموں کو بھول گیا جن کو اس کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں، بیشک ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیئے ہیں تاکہ وہ اس کو نہ سمجھ سکیں اور ان کے کانوں میں گرانی ہے اور اگر آپ انہیں صحیح راستہ کی طرف بلائیں تو وہ کبھی ہرگز اس راستہ پر نہیں آئیں گے اور آپ کا رب بہت بخشنے والا، رحمت والا ہے، اگر وہ ان کے کرتوتوں پر ان کا مواخذہ کرتا تو ضرور ان پر جلدی عذاب بھیج دیتا بلکہ ان کے لئے وعدہ کا ایک وقت مقرر ہے، وہ اس سے سر موٹلنے کا وقت نہیں پائیں گے اور یہ بستیاں ہیں جب ان بستیوں والوں نے ظلم کیا تو ہم نے ان کو ہلاک کردیا اور ہم نے ان کی ہلاکت کے لئے ایک میعاد مقرر کردی تھی (الکھف :57-59)

جن برے کاموں کی وجہ سے کفار پر عذاب نازل کیا گیا 

اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا تھا کہ کفار محض ضد اور عناد سے بحث کرتے ہیں۔ اب اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کے وہ اوصاف بیان کئے جو ذلت اور رسوائی کے موجب ہیں۔ ان صفات میں سے پہلی صفت یہ ہے کہ اس سے بڑا اور کون ظالم ہے جس شخص پر اللہ تعالیٰ کی آیات اور اس کے دلائل پیش کئے جائیں تو وہ ان سے اعراض کرے، اور ان آیات اور دلائل سے اعراض کرنے کے ساتھ ساتھ وہ اپنے ان برے کاموں کو بھول جائے جو وہ پہلے کرچکا ہے۔ ان برے کاموں سے مراد اس کا کفر اور شرک ہے۔ دوسری صفت یہ ہے کہ ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈل دیئے ہیں تاکہ وہ اس کو نہ سمجھ سکیں اور ان کے کانوں میں گرانی ہے اور اگر آپ انہیں صحیح راستہ کی طرف بلائیں تو وہ کبھی ہرگز اس راستہ پر نہیں آئیں گے۔

کفار کی اس صفت پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے خود ہی ان کے دلوں پر پردے ڈال دیئے اور ان کے کانوں میں گرانی پیدا کردی تو پھر وہ ایمان نہ لانے میں معذور ہوئے تو اب ان کی مذمت کیوں کی جا رہی ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایسی شدید گستاخی کی کہ اس کی سزا کے طور پر ان کے دلوں پر پردے ڈال دیئے گئے اور ان کے کانوں میں گرانی پیدا کردی گئی۔ جیسا کہ اس آیت میں فرمایا ہے۔

بل طبع اللہ علیھا بکفرھم (النساء :155) بلکہ ان کے کفر کی وجہ سے اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی۔

ان کے کانوں میں ڈاٹ لگانے اور ان کے دلوں پر پردے ڈالنے سے یہ مراد نہیں ہے کہ حسی طور پر ان کے کانوں میں ڈاٹ لگا دی گئی تھی اور ان کے کانوں پر پردے ڈال دیئے گئے تھے، بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ کفر اور معصیت کو اچھا جاننے اور ایمان اور اطاعت کو برا سمجھنے کے خوگر ہوچکے تھے اور اللہ کی آیات سے مسلسل اعراض کرنے کی وجہ سے ان کی گمراہی اس قدر پختہ ہوچکی تھی کہ ان پر کوئی بات اثر نہیں کرتی تھی اور ان کی اس کیفیت کو اللہ تعالیٰ نے دلوں پر پردے ڈالنے اور کانوں میں گرانی پیدا کرنے سے تعبیر فرمایا ہے۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور آپ کا رب بہت بخشنے والا، رحمت والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بخشش کو مبالغہ کے صیغے کے ساتھ فرمایا ہے یعنی بہت بخشنے والا اور رحمت کو مبالغہ کے ساتھ نہیں تعبیر فرمایا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بخشنے کا معنی یہ ہے کہ کسی سزا اور عذاب کو ترک کردینا اور سزا اور عذاب دینے کی غیر متناہی صورتیں ہیں اور غیر متناہی چیزوں کو ترک کرنا ممکن ہے اور رحم فرمانے کا معنی ہے انعام اور اکرام دینا اور کسی ایک چیز کو عطا کرنے سے یہ معنی حاصل ہوجاتا ہے اس معنی کے صول کے لئے غیر متناعی چیزوں کا دینا ضروری نہیں ہے اور جب کسی کو بخش دیا تو اس کا معنی یہ ہے کہ اس کو جتنی سزائیں دی جاسکتی ہیں ان سب کو ترک کردیا۔ اس لئے بخشنے کو مبالغہ کے صیغے کے ساتھ تعبیر فرمایا اور رحمت کو مبالغہ کے ساتھ نہیں تعبیر فرمایا۔

اللہ تعالیٰ کے بہت بخشنے کی دلیل یہ ہے کہ اہل مکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بہت عناد رکھتے تھے، اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ان سے مواخذہ کرنے میں جلدی نہیں کی بلکہ فرمایا ان سے مواخذہ کرنے کا ایک وقت مقرر ہے، اس سے مراد یا تو آخرت ہے اور یا دنیا میں غزوہ بدر کے موقع پر اور مسلمانوں کی فتح کے دیگر مواقع پر جب اللہ تعالیٰ نے ان کو شکست کی ذلت سے دوچار کیا۔ 

اس کے بعد فرمایا : یہ بستیاں ہیں جب ان بستیوں والوں نے ظلم کیا تو ہم نے ان کو ہلاک کردیا۔

اس سے مراد پہلے لوگوں کی بستیاں ہیں یعنی ثمود اور قوم لوط کی بستیاں۔ اس سے مراد بستیوں والے ہیں جب ان لوگوں نے اہل مکہ کی طرح ظلم کیا تو ہم نے ان کو ایک وقت معین کی مہلت دی اور جب وہ ایک وقت معین تک اپنے کفر اور ظلم سے تائب نہیں ہوئے تو پھر ہمارے عذاب نے ان کو اپنی گرفت میں لے لیا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 18 الكهف آیت نمبر 57