أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَيَوۡمَ نُسَيِّرُ الۡجِبَالَ و تَرَى الۡاَرۡضَ بَارِزَةً ۙ وَّحَشَرۡنٰهُمۡ فَلَمۡ نُغَادِرۡ مِنۡهُمۡ اَحَدًا‌ ۞

ترجمہ:

اور جس دن ہم پہاڑوں کو جلائیں گے اور آپ زمین کو صاف میدان دیکھیں گے اور ہم ان سب کو جمع کریں گے سو ہم ان میں سے کسی کو نہیں چھوڑیں گے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گے اور آپ زمین کو صاف میدان دیکھیں گے اور ہم ان سب کو جمع کریں گے سو ان میں سے کسی کو نہیں چھوڑیں گے۔ (الکھف :47)

احوال آخرت میں سے پہاڑوں کو چلانے کا معنی 

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے بتایا تھا کہ دنیا بہت خسیس اور رذیل ہے اور آخرت بہت عمدہ اور اشرف ہے اور چونکہ آخرت قیامت کے بعد آئے گی، اس لئے اب قیامت کے احوال بیان فرما رہا ہے۔

اس آیت میں فرمایا ہے اور جس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گے، لیکن یہ نہیں فرمایا کہ پہاڑوں کو چلا کر کہاں لے جائیں گے۔ ظاہر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان پہاڑوں کو چلا کر عدم کی طرف لے جائے گا یعنی ان پہاڑوں کو ان کی عظیم جسامت کے باوجود معدوم کر دے گا۔ جیسا کہ قرآن مجید کی ان آیتوں میں ہے :

ویسئلونک عن الجبال فقل ینسفھا ربی نسفا فیذرھا فاعاً صفصفا لاتری فیھا عوجاً ولا آمنا (طحہ 105-107) وہ آپ سے پہاڑوں کے متعلق سوال کرتے ہیں سو آپ ان سے کہیے کہ میرا رب انہیں ریزہ ریزہ کر کے اڑا دے گا پس وہ زمین کو ہموار اور صاف میدان کر کے چھوڑ دے گا آپ اس زمین میں نہ کوئی کجی دیکھیں گے نہ اونچ نیچ۔

وبست الجبال بساً فکانت ھبآء منبئاً (الواقعہ :5-6) اور پہاڑ ریزہ ریزہ کردیئے جائیں گے، سو وہ بکھرے ہوئے غبار کی طرف ہوجائیں گے۔

احوال آخرت میں سے زمین کے صاف میدان ہونے کا معنی 

نیز فرمایا : اور آپ زمین کو صاف میدان دیکھیں گے، زمین کے صاف میدان ہونے کی حسب ذیل وجوہ ہیں۔

(١) زمین پر بنی ہوئی کوئی عمارت باقی نہیں رہے گی نہ پہاڑ، نہ درخت اور اس میں کوئی اونچی اور نیچی چیزیں نہیں رہے گی۔

(٢) بارزۃ سے مراد یہ ہے کہ زمین کے بطن میں جو کچھ ہے اس کو ظاہر کردیا جائے گا۔ سو قبروں میں جو مردے دفن ہیں، ان کو نکال کر باہر کردیا جائے گا۔ جیسا کہ قرآن مجید کی ان آیات سے ظاہر ہے :

واذا الارض مدت والفت مافیھا وتخلت (الانشقاق :3-4) اور جب زمین (کھینچ کر) پھیلا دی جائے گی اور جو کچھ اس میں ہے وہ اس کو نکال کر ڈال دے گی اور خالی ہوجائے گی۔

اذا زلزلت الارض زلزالھا واخرجت الارض اثقالھا (الزلزال :1-2) جب پوری زمین زلزلہ سے لرز جائے گی، اور جب زمین اپنے تمام بوجھ باہر نکال دے گی۔

پھر سب لوگ اللہ کے سامنے کھڑے کردیئے جائیں گے کیونکہ زمین کا چہرہ پہاڑوں، سمندروں اور دریائوں سے مستور تھا، پس جب اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں اور دریائوں کو فنا کردیا تو زمین کے جو حصے ان سے چھپے ہوئے تھے، وہ ظاہر ہوگئے اور اس طرح زمین صاف میدان ہوجائے گی۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور ہم ان سب کو جمع کریں گے سو ان میں سے کسی کو نہیں چھوڑیں گے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ ہم سب لوگوں کو حساب کے لئے جمع کریں گے اور اس دن اولین اور آخرین میں سے کسی کو نہیں چھوڑیں گے۔ قرآن مجید میں ہے :

قل ان الاولین والاخرین، لمجموعون الی میقات یوم معلوم (الواقعہ :49-50) آپ کہیے بیشک تمام پہلے اور تمام پچھلے (لوگ) ایک مقرر دن میں ضرور جمع کئے جائیں گے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 18 الكهف آیت نمبر 47