خلافت عثمانیہ کے دور میں پانچوں وقت کی اذان کے لئے مختلف لہجہ استعمال کرنے کا منفرد طریقہ رائج تھا،

٭ فجر کى اذان کی طرز جگانے کے لئے تھی۔

٭ ظہر کى اذان کی طرز میں حجاز کی موسیقی کا رنگ غالب تھا۔

٭ نمازِعصر کى اذان میں مصری طرز نمایاں تھی۔

٭ مغرب کى نماز کا وقت چونکہ مختصر ہوتا ہے لہذا اذان مغرب کی طرز ذرا جلدى اور مختصر رکھی جاتی

٭ جبکہ نماز عشاء کى اذان کی طرز اداسی سے بھری ہوتی کیونکہ یہ دن کى آخرى اذان ہوتی ہے۔

ملاحظہ فرمائیے یہ ویڈیو کلپ(👇) ، جو کہ ماضی کی سلطنت عثمانیہ کے مرکزی ملک ترکی میں تیار کی گئی۔ اتنی خوبصورت آواز میں منفرد انداز اور آہنگ کے ساتھ اذان کے اولین کلمات سماعت کر کے ہماری تو روح تک ترو تازہ ہو گئی اور ایسا لگا جیسے کائنات کا ذرہ ذرہ اللہ جی کی کبریائی بیان کر رہا ہو۔ سبحان اللہ۔

👇👇👇👇👇👇👇👇