وَ دَخَلَ مَعَهُ السِّجْنَ فَتَیٰنِؕ-قَالَ اَحَدُهُمَاۤ اِنِّیْۤ اَرٰىنِیْۤ اَعْصِرُ خَمْرًاۚ-وَ قَالَ الْاٰخَرُ اِنِّیْۤ اَرٰىنِیْۤ اَحْمِلُ فَوْقَ رَاْسِیْ خُبْزًا تَاْكُلُ الطَّیْرُ مِنْهُؕ-نَبِّئْنَا بِتَاْوِیْلِهٖۚ-اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ(۳۶)

اور اس کے ساتھ قیدخانہ میں دو جوان داخل ہوئے (ف۹۵) ان میں ایک (ف۹۶) بولا میں نے خواب دیکھا کہ (ف۹۷) شراب نچوڑتا ہوں اور دوسرا بولا (ف۹۸) میں نے خواب دیکھا کہ میرے سر پر کچھ روٹیاں ہیں جن میں سے پرند کھاتے ہیں ہمیں اس کی تعبیر بتائیے بےشک ہم آپ کو نیکوکار دیکھتے ہیں (ف۹۹)

(ف95)

ان میں سے ایک تو مِصر کے شاہِ اعظم ولید بن نروان عملیقی کا مہتمم مطنج تھا اور دوسرا اس کا ساقی ، ان دونوں پر یہ الزام تھا کہ انہوں نے بادشاہ کو زہر دینا چاہا اس جرم میں دونوں قید کئے گئے ، حضرت یوسف علیہ السلام جب قید خانے میں داخل ہوئے تو آپ نے اپنے علم کا اظہار شروع کر دیا اور فرمایا کہ میں خوابوں کی تعبیر کا علم رکھتا ہوں ۔

(ف96)

جو بادشاہ کا ساقی تھا ۔

(ف97)

میں ایک باغ میں ہوں وہاں ایک انگور کے درخت میں تین خوشے رسیدہ لگے ہوئے ہیں ، بادشاہ کا کاسہ میرے ہاتھ میں ہے میں ان خوشوں سے ۔

(ف98)

یعنی مہتمم مطنج ۔

(ف99)

کہ آپ دن میں روزہ دار رہتے ہیں ، رات تمام نماز میں گزارتے ہیں جب کوئی جیل میں بیمار ہوتا ہے اس کی عیادت کرتے ہیں ، اس کی خبر گیری رکھتے ہیں ، جب کسی پر تنگی ہوتی ہے اس کے لئے کشائش کی راہ نکالتے ہیں ۔ حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام نے ان کے تعبیر دینے سے پہلے اپنے معجزے کا اظہار اور توحید کی دعوت شروع کر دی اور یہ ظاہر فرما دیا کہ علم میں آپ کا درجہ اس سے زیادہ ہے جتنا وہ لوگ آپ کی نسبت اعتقاد رکھتے ہیں کیونکہ علمِ تعبیر ظن پر مبنی ہے اس لئے آپ نے چاہا کہ انہیں ظاہر فرما دیں کہ آپ غیب کی یقینی خبریں دینے پر قدرت رکھتے ہیں اور اس سے مخلوق عاجز ہے ۔ جس کو اللہ نے غیبی علوم عطا فرمائے ہوں اس کے نزدیک خواب کی تعبیر کیا بڑی بات ہے ! اس وقت معجزے کا اظہار آپ نے اس لئے فرمایا کہ آپ جانتے تھے کہ ان دونوں میں ایک عنقریب سولی دیا جائے گا تو آپ نے چاہا اس کو کُفر سے نکال کر اسلام میں داخل کریں اور جہنّم سے بچاویں ۔

مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ اگر عالِم اپنی علمی منزِلت کا اس لئے اظہار کرے کہ لوگ اس سے نفع اٹھائیں تو یہ جائز ہے ۔ (مدارک و خازن)

قَالَ لَا یَاْتِیْكُمَا طَعَامٌ تُرْزَقٰنِهٖۤ اِلَّا نَبَّاْتُكُمَا بِتَاْوِیْلِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّاْتِیَكُمَاؕ-ذٰلِكُمَا مِمَّا عَلَّمَنِیْ رَبِّیْؕ-اِنِّیْ تَرَكْتُ مِلَّةَ قَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ(۳۷)

یوسف نے کہا جو کھانا تمہیں ملا کرتا ہے وہ تمہارے پاس نہ آنے پائے گا کہ میں اس کی تعبیر اس کے آنے سے پہلے تمہیں بتادوں گا (ف۱۰۰) یہ ان علموں میں سے ہے جو مجھے میرے رب نے سکھایا ہے بےشک میں نے ان لوگوں کا دین نہ مانا جو اللہ پر ایمان نہیں لاتے اور وہ آخرت سے منکر ہیں

(ف100)

اس کی مقدار اور اس کا رنگ اور اس کے آنے کا وقت اور یہ کہ تم نے کیا کھایا یا کتنا کھایا یا کب کھایا ۔

وَ اتَّبَعْتُ مِلَّةَ اٰبَآءِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَؕ-مَا كَانَ لَنَاۤ اَنْ نُّشْرِكَ بِاللّٰهِ مِنْ شَیْءٍؕ-ذٰلِكَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ عَلَیْنَا وَ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ(۳۸)

اور میں نے اپنے باپ دادا ابراہیم اور اسحٰق اور یعقوب کا دین اختیار کیا (ف۱۰۱) ہمیں نہیں پہنچتا کہ کسی چیز کو اللہ کا شریک ٹھہرائیں یہ (ف۱۰۲) اللہ کا ایک فضل ہے ہم پر اور لوگوں پر مگر اکثر لوگ شکر نہیں کرتے (ف۱۰۳)

(ف101)

حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام نے اپنے معجِزہ کا اظہار فرمانے کے بعد یہ بھی ظاہر فرما دیا کہ آپ خاندانِ نبوّت سے ہیں اور آپ کے آباؤ اجداد انبیاء ہیں جن کا مرتبۂ عُلیا دنیا میں مشہور ہے ۔ اس سے آپ کا مقصد یہ تھا کہ سننے والے آپ کی دعوت قبول کریں اور آپ کی ہدایت کو مانیں ۔

(ف102)

توحید اختیار کرنا اور شرک سے بچنا ۔

(ف103)

اس کی عبادت بجا نہیں لاتے اور مخلوق پرستی کرتے ہیں ۔

یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ ءَاَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَیْرٌ اَمِ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُؕ(۳۹)

اے میرے قیدخانہ کے دونوں ساتھیو کیا جدا جدا رب (۱۰۴) اچھے یا ایک اللہ جو سب پر غالب (ف۱۰۵)

(ف104)

جیسے کہ بُت پرستوں نے بنا رکھے ہیں کوئی سونے کا ، کوئی چاندی کا ، کوئی تانبے کا ، کوئی لوہے کا ، کوئی لکڑی کا ، کوئی پتھر کا ، کوئی اور کسی چیز کا ، کوئی چھوٹا کوئی بڑا مگر سب کے سب نکمے بے کار نہ نفع دے سکیں نہ ضَرر پہنچا سکیں ، ایسے جھوٹے معبود ۔

(ف105)

کہ نہ کوئی اس کا مقابل ہو سکتا ہے نہ اس کے حکم میں دخل دے سکتا ہے ، نہ اس کا کوئی شریک ہے نہ نظیر ، سب پر اس کا حکم جاری اور سب اس کے مملوک ۔

مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلَّاۤ اَسْمَآءً سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍؕ-اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِؕ-اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُؕ-ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ(۴۰)

تم اس کے سوا نہیں پوجتے مگر نِرے نام جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے تراش لیے ہیں (ف۱۰۶) اللہ نے ان کی کوئی سند نہ اتاری حکم نہیں مگر اللہ کا اس نے فرمایا ہے کہ اس کے سوا کسی کو نہ پوجو (ف۱۰۷) یہ سیدھا دین ہے (ف۱۰۸) لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے (ف۱۰۹)

(ف106)

اور ان کا نام معبود رکھ لیا ہے باوجود یکہ وہ بے حقیقت پتھر ہیں ۔

(ف107)

کیونکہ صر ف وہی مستحقِ عبادت ہے ۔

(ف108)

جس پر دلائل و براہین قائم ہیں ۔

(ف109)

توحید و عبادتِ الٰہی کی دعوت دینے کے بعد حضرت یوسف علیہ السلام نے تعبیرِ خواب کی طرف توجہ فرمائی اور ارشاد کیا ۔

یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ اَمَّاۤ اَحَدُكُمَا فَیَسْقِیْ رَبَّهٗ خَمْرًاۚ-وَ اَمَّا الْاٰخَرُ فَیُصْلَبُ فَتَاْكُلُ الطَّیْرُ مِنْ رَّاْسِهٖؕ-قُضِیَ الْاَمْرُ الَّذِیْ فِیْهِ تَسْتَفْتِیٰنِؕ(۴۱)

اے قید خانہ کے دونوں ساتھیو تم میں ایک تو اپنے رب (بادشاہ)کو شراب پلائے گا (ف۱۱۰) رہا دوسرا(ف۱۱۱) وہ سو لی دیا جائے گا تو پرندے اس کا سر کھائیں گے (ف۱۱۲) حکم ہوچکا اس بات کا جس کا تم سوال کرتے تھے (ف۱۱۳)

(ف110)

یعنی بادشاہ کا ساقی تو اپنے عہدہ پر بحال کیا جائے گا اور پہلے کی طرح بادشاہ کو شراب پلائے گا اور تین خوشے جو خواب میں بیان کئے گئے ہیں یہ تین دن ہیں ، اتنے ہی ایام قید خانے میں رہے گا پھر بادشاہ اس کو بلا لے گا ۔

(ف111)

یعنی مہتمم مطنج و طعام ۔

(ف112)

حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ تعبیر سن کر ان دونوں نے حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام سے کہا کہ خواب تو ہم نے کچھ بھی نہیں دیکھا ہم تو ہنسی کر رہے تھے ۔ حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام نے فرمایا ۔

(ف113)

جو میں نے کہہ دیا یہ ضرور واقع ہوگا ، تم نے خواب دیکھا ہو یا نہ دیکھا ہو اب یہ حکم ٹل نہیں سکتا ۔

وَ قَالَ لِلَّذِیْ ظَنَّ اَنَّهٗ نَاجٍ مِّنْهُمَا اذْكُرْنِیْ عِنْدَ رَبِّكَ٘-فَاَنْسٰىهُ الشَّیْطٰنُ ذِكْرَ رَبِّهٖ فَلَبِثَ فِی السِّجْنِ بِضْعَ سِنِیْنَؕ۠(۴۲)

اور یوسف نے ان دونوں میں سے جسے بچتا سمجھا (ف۱۱۴) اس سے کہا اپنے رب (بادشاہ) کے پاس میرا ذکر کرنا (ف۱۱۵) تو شیطان نے اسے بھلا دیا کہ اپنے رب (بادشاہ) کے سامنے یوسف کا ذکر کرے تو یوسف کئی برس اور جیل خانہ میں رہا (ف۱۱۶)

(ف114)

یعنی ساقی کو ۔

(ف115)

اور میرا حال بیان کرنا کہ قید خانے میں ایک مظلوم بے گناہ قید ہے اور اس کی قید کو ایک زمانہ گزر چکا ہے ۔

(ف116)

اکثر مفسِّرین اس طرف ہیں کہ اس واقعہ کے بعد حضرت یوسف علیہ السلام سات برس اور قید میں رہے اور پانچ برس پہلے رہ چکے تھے اور اس مدت کے گزرنے کے بعد جب اللہ تعالٰی کو حضرت یوسف کا قید سے نکالنا منظور ہوا تو مِصر کے شاہِ اعظم ریان بن ولید نے ایک عجیب خواب دیکھا جس سے اس کو بہت پریشانی ہوئی اور اس نے مُلک کے ساحِروں اور کاہِنوں اور تعبیر دینے والوں کو جمع کر کے ان سے اپنا خواب بیان کیا ۔