أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَمَّا السَّفِيۡنَةُ فَكَانَتۡ لِمَسٰكِيۡنَ يَعۡمَلُوۡنَ فِى الۡبَحۡرِ فَاَرَدْتُّ اَنۡ اَعِيۡبَهَا وَكَانَ وَرَآءَهُمۡ مَّلِكٌ يَّاۡخُذُ كُلَّ سَفِيۡنَةٍ غَصۡبًا ۞

ترجمہ:

رہی وہ کشتی تو وہ چند مسکین لوگوں کی تھی جو سمندر میں کام کرتے تھے، اس لئے میں نے چاہا کہ اس میں عیب ڈال دوں (کیونکہ) ان کے آگے ایک (ظالم) بادشاہ تھا جو ہر (صحیح وسالم) کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : رہی وہ کشتی تو وہ چند مسکین لوگوں کی تھی جو سمندر میں کام کرتے تھے، اس لئے میں نے چاہا کہ اس میں عیب ڈال دوں (کیونکہ) اس کے آگے ایک (ظالم) بادشاہ تھا جو ہر (صحیح وسالم) کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا (الکھف :79)

سمندر میں کام کرنے والے مسکینوں کا بیان 

امام ابن جوزی متوفی 597 ھ لکھتے ہیں ان کی مسکینی کے متعلق دو قول ہیں ایک قول یہ ہے کہ وہ کام نہیں کرسکتے تھے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ ان کے بدنوں میں ضعف تھا۔ کعب نے کہا وہ دس بھائی تھے، پانچ اپاہج تھے اور پانچ سمندر میں کام کرتے تھے۔ (زاد المسیرج ٥ ص 178، مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت، 1407 ھ)

علامہ قرطبی متوفی 668 ھ نے ان دس بھائیوں کے ضعف اور امراض کی بہت تفصیل لکھی ہے لیکن ان کا ماخذ صرف اسرائیلی روایات ہیں، دیگر ذرائع سے ان روایتا کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

امام رازی متوفی 606 ھ نے لکھا ہے یہ کشتی چند محتاج لوگوں کی تھی جو سمندر میں کام کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو مساکین فرمایا ہے اور امام شافعی رحمتہ اللہ نے اسی آیت سے یہ استدلال فرمایا ہے کہ فقیر میں مسکین کی بہ نسبت زیادہ ضرر اور احتیاج ہوتی ہے، کیونکہ مسکینوں کے متعلق تو فرمایا ان کی کشتی تھی اور وہ سمندر میں کام کرتے تھے اور کشتی کے مالک تھے اور فقیر کسی مال کا مالک نہیں ہوتا۔ (تفسیر کبیرج ٧ ص 490، بیروت، 1415 ھ)

امام ابوحنیفہ کا استدلال اس آیت سے ہے : او مسکیناً اذا متربۃ (ابلد :16) یا خاک میں پڑے ہوئے مسکین کو 

زیادہ نقصان سے بچنے کے لئے کم نقصان کو برداشت کرنا 

حضرت خضر (علیہ السلام) کا اس کلام سے مقصود یہ تھا کہ اس کشتی کا تختہ اکھڑانے سے میری غرض یہ نہیں تھی کہ اس میں بیٹھنے والے سواروں کو میں غرق کر دوں بلکہ اس سے میرا یہ مقصد تھا کہ جس راستہ پر یہ جا رہے ہیں اس میں آگے چل کر ایک ظالم بادشاہ آتا ہے جو ہر اس کشتی کو چھین لیتا ہے جو بےعیب ہو اس لئے میں نے اس کشتی کو عیب دار بنادیا تاکہ یہ کشتی اس ظالم بادشاہ کے چھیننے سے محفوظ رہے۔

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ کیا کسی اجنبی شخص کے لئے یہ جائز ہے کہ وہ کسی شخص کا مال بچانے کے لئے اس میں اس قسم کا تصرف کرے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت خضر (علیہ السلام) نے تو یہ کام اللہ تعالیٰ کے حکم سے کیا تھا اور ہماری شریعت میں بھی یہ جائز ہے مثلاً ہمارے پاس کسی شخص کا مال یا زیور رکھا ہوا ہو اور ڈاکا پڑجائے تو ہم اس شخص کے مال کو ڈاکے سے بچانے کے لئے اس میں کوئی عیب ڈال دیں تاکہ وہ مال ڈاکے سے بچ جائے، اور اس مال کے مالک کے لئے بھی یہ بہتر ہوگا کہ سارا مال جانے کے بجائے کسی عیب کے ساتھ اس کا مال بچ جائے، جیسے انسان کسی بڑی مصیبت کے بجائے کسی چھوٹی مصیبت کو آسانی سے قبول کرلیتا ہے۔ حدیث میں ہے :

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ جب بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دو چیزوں کے درمیان اختیار دیا گیا تو آپ نے اسی پر عمل کیا جو زیادہ آسان تھی۔ بشرطیکہ وہ گناہ نہ ہو اور اگر وہ گناہ ہو تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کی بہ نسبت اس سے بہت زیادہ دور ہونے والے تھے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کبھی اپنی ذات کا اتنقام نہیں لیا ماسوا اس کے کہ اللہ کی حرمت کو پامال کیا جائے۔ ایسی صورت میں آپ اللہ کے لئے اس سے انتقام لیتے تھے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :6853، 6786، 6126، 3560 صحیح مسلم رقم الحدیث :2327، سنن ابو دائو دقرم الحدیث :4785 مسند احمد ج ٦ ص 85 مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث 17942 مسند ابویعلی رقم الحدیث 4375، صحیح ابن حبان رقم الحدیث :6410)

اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ جب کسی معاملہ میں دو امر جائز ہوں مشکل اور آسان تو مشکل کام کو ترک کر کے آسان کام کو اختیار کرنا چاہیے جیسے قسم کے کفارہ میں اختیار ہے دس مسکینوں کو کھانا کھلائے یا دس مسکینوں کو کپڑے پہنائے تو دس مسکینوں کو کھانا کھلانا دس مسکینوں کو کپیے پہنانے کی بہ نسبت آسان ہے۔ اسی طرح کفارہ ظہار میں اور روزے کے کفارے میں ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے یا ساٹھ دن کے مسلسل روزے رکھے اور ساٹھ دن مسلسل روزے رکھنے کی بہ نسبت ساتھ مسکینوں کو کھانا کھلانا آسان ہے تو آسان حکم پر عمل کرے۔ اسی طرح حیدث میں ہے :

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آسانی کرو اور مشکل میں نہ ڈالو، بشارت دو اور متنفر نہ کرو۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :69, 6125 صحیح مسلم رقم الحدیث 1734 السنن الکبری للنسائی رقم الحدیث، 8590)

خلاصہ یہ ہے کہ زیادہ نقصان سے بچنے یک لئے کم نقصان کو برداشت کرلینا بہتر ہے اور زیادہ تکلیف اور مشقت سے بیچنے کے لئے کم تکلیف اور مشقت کو برداشت کرا سہل ہے۔ جیسے شوگر اور بلڈ پریشر کی پیچیدگیوں سے بچنے کے لئے سوکھے اور پھیکے بےذائقہ کھانوں پر قناعت کرلینا بہتر ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 18 الكهف آیت نمبر 79