أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ثُمَّ اَتۡبَعَ سَبَبًا۞

ترجمہ:

پھر وہ ایک اور مہم کی تیاری کرنے لگے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پھر وہ ایک اور مہم کی تیاری کرنے لگے حتیٰ کہ جب وہ طلوع آفتاب کی جگہ پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ سورج ایک ایسی قوم پر طلوع ہو رہا ہے جن کے لئے ہم نے سورج سے کوئی حجاب نہیں بنایا واقعہ اسی طرح ہے اور ہمارے علم نے ان کے تمام واقعات کا احاطہ کیا ہوا ہے (الکھف :89-91)

ذوالقرنین کا دوسرا سفر بہ جانب مشرق 

جانب مغرب کی فتوحات کرنے کے بعد ذوالقرنین مشرق کی جانب روانہ ہوا اور وہ ایسی جگہ پہنچ گیا جہاں سب سے پہلے سورج طلوع ہوتا ہے۔ وہاں اس نے ایسی قوم کو دیکھا جو برہنہ پائوں اور بہرنہ بدن تھی۔ وہ اپنے جسم کو کسی چیز سے نہیں چھپاتے تھے۔ سورج کی گرمی اور موسم کی سردی سے بچنے کے لئے ان کے پاس کوئی چیز نہ تھی۔ ان کے پاس لباس تھے نہ انہوں نے گھر بنائے ہوئے تھے وہ یونہی جانوروں کی طرح زندگی بسر کرتے تھے اور ان کا گزران مچھلی پر تھا۔

شیخ ابوالکلام احمد لکھتے ہیں :

دوسری لشکر کشی مشرق کی طرف تھی چناچہ ہیروڈوٹس اور ٹی سیاز دونوں اس کی مشرقی لشکر کشی کا ذکر کرتے ہیں۔ جو لیڈیا کی فتح کے بعد اور بابل کی تفتح سے پہلے پیش آئی تھی اور دونوں نے تصریح کی ہے کہ ’ دمشرق کے بعض وحشی اور صحرا نشین قبائل کی سرکشی اس کا باعث ہوئی تھی “ یہ ٹھیک ٹھیک قرآن کے اس اشارہ کی تصدیق ہے کہ حتی اذا بلغ مطلع الشمس وجدھا تطلع علی قوم لم نجعل لھم من دونھا سترا (90) جب وہ مشرق کی طرف پہنچا تو اسے ایسی قوم ملی جو سورج کے لئے کوئی آڑ نہیں رکھتی تھی یعنی خانہ بدوش قبائل تھے۔

یہ خانہ بندوش قبائل کون تھے ؟ ان مئورخین کی صراحت کے مطابق بکٹیریا یعنی بلخ کے لاقہ کے قبائل تھے۔ نقشہ پر اگر نظر ڈالو گے تو صاف نظر آجائے گا کہ بکٹریا ٹھیک ٹھیک ایران کے لئے مشرق اقصیٰ کا حکم رکھتا ہے کیونکہ اس کے آگے پہاڑ ہیں اور انہوں نے راہ روک دی ہے۔ اس کا بھی اشارہ ملتا ہے کہ گیڈر وسیا کے وحشی قبیلوں نے اس کی مشرقی سرحد میں بدامنی پھیلائی تھی اور ان کی شوشمالی کے لئے اسے نکلنا پڑا۔ گیڈروسیا سے مقصود وہی علاقہ ہے جو آج کل مکران کہلاتا ہے۔ اس سلسلہ میں ہندوستان کی طرف ہمیں کوئی اشارہ نہیں ملتا۔ اس لئے قیاس کہتا ہے کہ مگر ان سے نیچے اس کے قدم نہیں اترے ہوں گے اور اگر اترے ہوں گے تو دریائے سندھ سے آگے نہیں بڑھے ہوں گے۔ کیونکہ دارا کے زمانہ میں بھی اس کی جنوبی مشرقی سرحد دریائے سندھ ہی تک معلوم ہوتی ہے۔

(شیخ احمد نے اس جگہ کا مصداق مکران بتایا ہے لیکن یہ وہ جگہ نہیں ہے جہاں روئے زمین پر سب سے پہلے سورج طلوع ہوتا ہے وہ جگہ جزائر فجی میں) (ترجمان القرآن ج : ص 406-407 مطبوعہ اسلامی اکادمی لاہور، 1976 ء)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 18 الكهف آیت نمبر 89