حدیث نمبر 277

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے میں چاہتا ہوں کہ لکڑیاں جمع کرنے کا حکم دوں تو جمع کی جائیں پھر نماز کا حکم دوں کہ اس کی اذان دی جائے پھر کسی کوحکم دوں وہ لوگوں کی امامت کرے پھر میں ان لوگوں کی طرف جاؤں ۱؎ جو نماز میں حاضر نہیں ہوتے ۲؎ ان کے گھر جلادوں ۳؎ اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ اگر ان میں سے کوئی جانتا کہ وہ چکنی ہڈی یا دو اچھے کُھر پائے گا تو عشاء میں ضرور آتا ۴؎(بخاری)اور مسلم کی روایت اس کی مثل ہے۔

شرح

۱؎ یعنی نماز کی جماعت قائم کرا کر خود تحقیقات کے لیے محلے میں جاؤں۔ اس سے معلوم ہوا کہ امام اور سلطان دینی ضرورت کے وقت جماعت چھوڑ سکتا ہے کہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کا یہ تشریف لے جانا تبلیغ کے لیے ہوتا۔

۲؎ یعنی بلاعذر،لہذا اس سے چھوٹے بچے،عورتیں معذور بیمار علیٰحدہ ہیں۔ یہاں روئے سخن منافقین کی طرف ہے کیونکہ کوئی صحابی بلاوجہ جماعت اور مسجد کی حاضری نہیں چھوڑتے تھے۔ لہذا روافض کا یہ کہنا کہ صحابہ فاسق یا تارک جماعت تھے غلط ہے، رب نے ان کے تقویٰ اور جنتی ہوئے کی گواہی دی اگر یہاں صحابہ مراد ہوں تو حدیث قرآن کے خلاف ہوگی ۱۲

۳؎ اس سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں پر جماعت کی نماز بھی واجب ہے اور مسجد کی حاضری بھی،کیونکہ نور مجسم رحمت عالم سراپا اخلاق تارکین جماعت کے گھر جلانے کا ارادہ فرمارہے ہیں۔ مرقاۃ نے فرمایا کہ علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ کسی کو گھر بار جلانے کی سزا نہ دی جائے سوائے تارک جماعت کے کہ سلطان اس کو یہ سزا دے سکتا ہے معلوم ہوا کہ یہ دونوں بڑے اہم ہیں۱۲

۴؎ یعنی ان لوگوں کے نزدیک جماعت اور مسجد کی حاضری دنیوی معمولی نفع کے برابر بھی نہیں کہ تھوڑے نفع کے لیے جاگ بھی لیں سفر بھی کرلیں مشقتیں بھی اٹھالیں مگر جماعت کے لیے مسجد میں آتے جان نکلتی ہے۔ اس حدیث سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو امام بن کر پیسوں اور روٹیوں کے لیے تو نمازی ہوجائیں اور امامت سے الگ ہوکر جماعت تو کیا نماز بھی چھوڑ دیں۱۲