حکایت نمبر313: حضرتِ ابنِ مُبَارَک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اورسیاہ فام غلام

حضرتِ سیِّدُنا حسن رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے منقول ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مُبَارَک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا :”ایک مرتبہ جب میں مکہ مکرمہ زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّتَکْرِیْمًا گیا تو معلوم ہوا کہ اس سال وہاں بالکل بارش نہیں ہوئی۔ پورے شہر میں قحط کی سی کیفیت تھی، لوگ مسجد حرام میں جمع ہوکر بارش طلب کر رہے تھے ۔ میں ”بابِ بنی شَیبہ” کے قریب کھڑا تھا اتنے میں ایک سیاہ فام غلام آیااس کے جسم پردوموٹی کھردری چادریں تھیں ایک کاتہبندباندھاہوا تھا اور دوسری کندھے پر اوڑھی ہوئی تھی وہ ایک جگہ چھپ گیا،مجھے اس کی آواز سنائی دی وہ بارگاۂ خدواندی عَزَّوَجَلَّ میں اس طر ح مناجات کر رہا تھا :

”الٰہی عَزَّوَجَلَّ ! تو نے ہر طر ح کے لوگ پیدا فرمائے ،کچھ تو ایسے ہیں کہ گناہوں کا انبار ان کے سروں پر ہے اور وہ بُرے اعمال کے مرتکب ہیں۔ میرے رحیم وکریم پر وَردْگار عَزَّوَجَلَّ ! تو نے ہم سے بارش کوروک لیا تا کہ لوگو ں کو ان کے اعمال کی سزا ملے اور وہ راہ ِراست پر گامزن ہوں ۔اے حلیم ولطیف ! اے میرے پروردگار عَزَّوَجَلَّ! تیری ذات ایسی ہے کہ لوگ تجھی سے کرم کی امید رکھتے ہیں، میرے مولیٰ عَزَّوَجَلَّ ! اپنے بندوں کو بارانِ رحمت عطا فرما۔”

حضرتِ سیِّدُنا ابن مُبَارَک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:” اس غلام کی دعا مکمل بھی نہ ہونے پائی تھی کہ ہر طرف گھنگور گھٹائیں چھا گئیں ، ٹھنڈی ہوائیں بارانِ رحمت کا مژدہ سنانے لگیں اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے رحمت کی بر سات چھما چھم ہونے لگی مرجھائی کلیاں کھِل اُٹھیں اور ہر طرف خوشی کا سماں ہوگیا ۔وہ سیاہ فام غلام جو حقیقتاً مقبولِ بارگاہِ خداوندی تھا، اپنی جگہ بیٹھا ذکر الٰہی میں مشغول رہا۔ میرا دل بھر آیااور آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔پھر وہ نیک غلام اپنی جگہ سے اٹھا اور ایک جانب چل دیا۔ میں بھی اس کے پیچھے ہولیا بالآخر وہ ایک گھر میں داخل ہوگیا میں نے اس گھر کی پہچان کرلی اور حضرت سیِّدُنا فُضَیْل بن عِیَاض علیہ رحمۃ اللہ الوھّاب کے پاس چلاآیا۔”آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے مجھے دیکھا تو فرمایا:” اے ابن مُبَارَک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ! کیا بات ہے میں تمہارے چہر ے پر غم کے آثار دیکھ رہا ہوں ؟” میں نے کہا:” ہم لوگ پیچھے رہ گئے اور ہمارے علاوہ کوئی اور ہم پر سبقت لے گیا اور اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اسے اپنی ولایت کی دولتِ عظمیٰ عطا فرمادی ۔”حضرتِ سیِّدُنافُضَیْل بن عِیَاض علیہ رحمۃ اللہ الوھاب نے فرمایا: ”مجھے اصل بات بتاؤ کہ آخرمعاملہ کیا ہے ؟” میں نے اس صالح غلام کا سارا واقعہ کہہ سنایا۔ جیسے ہی آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے واقعہ سنا ایک زور دار چیخ ماری اور زمین پر گِر کر تڑ پنے لگے۔پھر فرمایا: ”اے ابنِ مُبَارَک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ! تمہارا بھلا ہو ، مجھے فوراََ اس صالح غلام کے پاس لے چلو۔” میں نے کہا:” اب تو وقت بہت کم ہے ، اِنْ شَاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ کل کچھ کریں گے ۔” اگلے دن صبح صبح میں اس گھر کی طر ف چل دیا جس میں نیک سیرت غلام داخل ہواتھا ۔ وہاں پہنچا تو ایک بوڑھے شخص کودروازے کے پاس بیٹھا پایا ، وہ مجھے دیکھتے ہی پہچان گیا اور خوش آمدید کہتے ہوئے بڑے پُرتباک انداز میں ملاقات کی اور کہا:” حضور! کوئی حکم ہو تو ارشاد فرمائیے؟” میں نے کہا:” مجھے ایک سیاہ فام غلام در کار ہے۔” اس نے کہا:” میرے پاس بہت سے سیاہ فام غلام ہیں میں سب کو بلالیتا ہوں، آپ جسے چاہیں پسند فرمالیں ۔” یہ کہہ کر اس نے ایک غلام کو آوازدی تو ایک طاقتور غلام باہر آیا، بوڑھے نے کہا:” حضور !یہ غلام آپ کے لئے بہت مناسب رہے گا۔” میں نے کہا:” مجھے یہ نہیں چاہے۔” پھر اس نے دوسرا غلام بلایا میں نے انکار کردیا ، اس طرح اس نے سب غلام بلائے لیکن میرا مطلوب کوئی اور تھا۔ سب سے آخر میں وہی نیک سیرت غلام آیا تو اسے دیکھتے ہی میری آنکھیں نَمناک ہوگئیں میں وہیں بیٹھ گیا بوڑھے نے مجھ سے پوچھا:”کیا آپ اسی غلام کے طالب تھے ؟”میں نے کہا:” ہاں! مجھے اسی ہیرے کی تلاش تھی۔” بوڑھے نے کہا:” حضور! میں اسے نہیں بیچ سکتا ، اس کے علاوہ آپ جس غلام کو چاہیں لے جائیں۔” میں نے کہا:” آخرآپ اس غلام کو کیوں نہیں بیچنا چاہتے ؟” کہا:” اس کا ہمارے گھر میں رہنا باعث بر کت ہے ، اس مردِ صالح سے ہم بر کت حاصل کرتے ہیں، اس نے مجھ سے کبھی بھی کوئی چیز نہیں مانگی۔” میں نے کہا: ”پھر یہ کھانا وغیرہ کہا ں سے کھاتا ہے ؟” کہا :”یہ روزانہ اتنی رسیاں بٹتا ہے کہ نصف درہم یا اس سے کچھ زیادہ کی فروخت ہو جائیں، انہیں بیچ کر یہ اپنا کھانا وغیرہ خریدتا ہے ،اگر اس دن فروخت ہوجائیں تو ٹھیک ورنہ دوسرے دن کے لئے انہیں لپیٹ رکھتا ہے ، مجھے میرے غلاموں نے بتایا کہ یہ ساری ساری رات عبادت میں گزار دیتا ہے ، نہ کسی سے میل جول رکھتااورنہ ہی فضول باتیں کرتاہے۔ اس کی اپنی ہی دنیاہے جس میں ہروقت مگن رہتا ہے۔جب سے میں نے اس کے ان پاکیزہ خصائل کے متعلق سنا اور اس کی یہ خوبیاں دیکھیں میں اسے دل کی گہرائیوں سے چاہنے لگا ہوں۔یہی وجہ ہے کہ میں اسے خود سے دور نہیں کرنا چاہتا۔” مَیں نے کہا:” مَیں حضرتِ سیِّدُنا سُفْیَان ثَوْرِی علیہ رحمۃ اللہ القوی اور حضرتِ سیِّدُنا فُضَیْل بن عِیَاض علیہ رحمۃ اللہ الوھاب کے حکم پر آیا تھا، کیا ان کا کام پورا کئے بغیر واپس چلا جاؤں ؟” یہ سن کر بوڑھے نے کہا :”آپ کے مجھ پر بہت احسانات ہیں آپ اسے لے جائیں۔” میں نے فوراً غلام کی قیمت ادا کی اور اسے لے کر حضر تِ سیِّدُنا فُضَیْل بن عِیَاض علیہ رحمۃ اللہ الوھاب کے گھر کی طرف چل دیا۔ ابھی ہم کچھ ہی دیر چلے تھے کہ اس نیک سیرت غلام نے مجھے پکارا: میرے آقا!”میں نے کہا:”لَبَّیْک(میں حاضر ہوں)”اس نے کہا:”حضور! یہ آپ کے شایانِ شان نہیں کہ مجھے لَبَّیْک کہیں، میں توآپ کا غلام ہوں اورغلام پر لازم ہے کہ وہ اپنے آقا کو لَبَّیْک کہے۔” میں نے کہا:” اے میرے دوست! بتاؤ،کیا چاہتے ہو ؟” کہا:” حضور! میں کمزور وضعیف ہوں ،مجھ میں اتنی طا قت نہیں کہ آپ کی خدمت کر سکوں، آپ میرے علاوہ کوئی اور غلام خریدلیتے، مجھ سے کہیں زیادہ طاقتور صحت مند غلام آپ کے سامنے لائے گئے، آپ نے ان میں سے کوئی غلام کیوں نہ خرید لیا تا کہ وہ آپ کی خوب خدمت کرتا ۔”میں نے کہا :”اللہ عَزَّوَجَلَّ جانتا ہے کہ میں نے تجھے اس لئے نہیں خریدا کہ تجھ سے خدمت کراؤں، میرے دوست میں تو تیرے لئے مکان خریدکرتیری شادی کراؤں گا اوردل وجان سے تیری خدمت کرو ں گا ۔”یہ سن کر وہ نیک سیرت غلام زار وقطار رونے لگا میں نے سببِ گریہ (یعنی رونے کا سبب )دریافت کیا تو کہا:” آپ نے مجھے اسی لئے خریدا ہے کہ آپ نے میرے اور میرے پر وَردْگارعَزَّوَجَلَّ کے درمیان جو پوشیدہ معاملات ہیں ان میں سے کسی معاملہ کو جان لیا اگر ایسا نہ ہو تا توبقیہ تمام غلاموں کو چھوڑ کر مجھے نہ خریدتے ۔ میں آپ کواللہ عَزَّوَجَلَّ کا واسطہ دے کر سوال کرتا ہوں، مجھے بتائیے کہ آپ میرے کون سے راز پر مُطَّلِعْ ہوئے ہیں ؟ ”میں نے کہا:” بارگاہِ خداوند ی میں تمہاری قبولیتِ دعا کو دیکھ کر۔” اس نے کہا: ”میرا حسن ظن ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں آپ کا مرتبہ بہت بلند ہے اور آپ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نیک بندے ہیں ، بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ کے کچھ بندے ایسے بھی ہیں کہ وہ ان کی شان صرف انہیں پر ظاہر فرماتا ہے جواس کے پسندیدہ اورمقبول بندے ہوتے ہیں۔”پھرکہا:میرے آقا!اگرآپ اجازت عطافرمائیں تومیں اشراق کی نمازاداکرلوں ۔”میں نے کہا:”حضرتِ سیِّدُنا فُضَیْل بن عِیَاض علیہ رحمۃ اللہ الوھاب کاگھرقریب ہی ہے وہیں چل کراداکرلینا۔” کہا : ”حضور!مجھے یہیں اداکرنے کی اجازت دے دیں ،میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت کومؤخَّرنہیں کرناچاہتا۔”پھروہ قریب ہی ایک مسجد میں داخل ہو کر نماز پڑھنے لگا،کافی دیر نمازمیں مشغول رہا اچانک اس پرعجیب کیفیت طاری ہوگئی،اس نے مجھ سے کہا:”اے ابو عبدالرحمن!کیاآپ کی کوئی حاجت ہے؟”میں نے کہا:”تم یہ کیوں پوچھ رہے ہو؟”کہا:”میراکُوچ کاارادہ ہے ۔”میں نے کہا: ”کہاں جارہے ہو؟ ” کہا: ”آخرت کی طرف روانگی ہے۔”میں نے کہا:”میرے دوست ایسی باتیں نہ کرمیں تیرارازپوشیدہ رکھوں گا۔” اس نے کہا:”اس وقت میری زندگی کتنی خوشگوارتھی جب معاملہ میرے اورمیرے پروردگارعَزَّوَجَلَّ کے درمیان تھا۔ اب جب آپ پرمیرامعاملہ ظاہرہوچکاعنقریب کسی اورپربھی میراحال ظاہرہوجائے گااورمیں اس حالت میں زندہ رہناپسند نہیں کرتا۔”اتناکہہ کروہ منہ کے بَل زمین پر تشریف لے آیااورتڑپتے ہوئے بڑے دردمندانہ اندازمیں یوں مناجات کرنے لگا: ”میرے مولیٰ عَزَّوَجَلَّ! مجھے ابھی ہی اپنے پاس بلالے ”پھراچانک وہ ساکت ہوگیا،میں قریب گیاتواس کی بے قرارروح قَفَسِ عُنْصُرِی سے پرواز کرکے خالقِ حقیقی عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں سجدہ ریزی کے لئے روانہ ہوچکی تھی ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم!جب بھی اس نیک سیرت غلام کاخیال آتاہے میں بہت غمگین ہوجاتاہوں اور دنیامیری نظرمیں انتہائی حقیرہوجاتی ہے۔(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم)(میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!کتنامخلص ومقبول تھاوہ نیک سیرت غلام!حقیقت میں وہ غلام نہیں بلکہ ہماراسردارتھا۔جوبھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کامقبول بندہ ہے وہ واقعی سرداری کے لائق ہے۔اورجوسرداروبادشاہ ،خدائے اَحْکَمُ الْحَاکِمِیْن کی اطاعت نہیں کرتے وہ اس لائق کہاں کہ انہیں عزت کی نظرسے دیکھاجائے ،ایسے بدبخت توقابلِ نفرت ومستحقِ عذاب ہیں۔اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں اخلاص عطافرمائے اوراس مقبول،مخلص وبے ریاکے صدقے ریاکاری کی تباہ کاری سے محفوظ فرمائے، ہرگھڑی عبادت کی توفیق عطافرمائے،نیکوکار اور مخلص وفرمانبرداربنائے۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم)