حدیث نمبر 281

روایت ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرماتی ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ نہ تو کھانے کی موجودگی میں نماز ہوتی ہے نہ اس حالت میں کہ نمازی کو پیشاب پاخانہ دفع کرنے ہوں ۱؎(مسلم)

شرح

۱؎ یہاں کمال نماز کی نفی ہے،یعنی جب بھوک کی تیزی یا پیشاب پاخانہ کی حاجت کی وجہ سے نماز میں دل نہ لگے تو نماز کامل نہیں،قے ،درد وغیرہ تمام عوارض کا یہی حکم ہے حتی کہ اگر دوران نماز یہ عارضے پیش آجائیں تو نماز توڑ دے بعد فراغت دوبارہ پڑھے۔

۱؎ آپ سلیمان ابن یسار ہیں،ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام، بڑے فقیہ،محدث ،عابد،و تارک الدنیا تابعی ہیں،آپ کے بھائی عطا ابن یسار ہیں،۷۳ عمر ہوئی، ۱۰۷ھ؁ میں وفات پائی رضی اللہ تعالٰی عنہ۔

۲؎ بلاط لغت میں وہ پتھر ہے جس کا مکانوں میں فرش لگایا جاتا ہے یہاں وہ جگہ مراد ہے جو حضرت عمر نے مسجد نبوی شریف کے متصل چبوترے کی شکل میں بنائی تھی تاکہ اگر کسی کو کوئی دنیاوی بات کرنا ہو تو مسجد سے نکل کر وہاں جا کر کرے۔

۳؎ یعنی مسجد نبوی میں جماعت اولیٰ ہورہی ہے اورآپ یہاں بیٹھے ہیں کیا وجہ ہے۔خیال رہے کہ آپ مسجد سے علیحدہ بیٹھے تھے لہذا جائز تھا۔

۴؎ حق یہ ہے کہ یہ نماز فجر یا عصر یا مغرب تھی جس کے بعد نفل درست نہیں۔ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ میں یہ نماز پڑھ چکا ہوں اور اس کے بعد نفل جائز نہیں تو لامحالہ دوبارہ فرض ہی کی نیت سے پڑھوں اور ایک دن میں ایک فرض دوبار ہو نہیں سکتے اسکے اور مطلب بھی بیان کیے گئے مگر یہ بہتر ہے اس صورت میں یہ حدیث گزشتہ احادیث کے خلاف بھی نہیں اور اس پر کچھ شبہ بھی نہیں اگلی حدیث اس کی شرح ہے۔اسی لیئے فقہاء فرماتے ہیں کہ شہر میں بعد نماز جمعہ احتیاطی نفل کی نیت سے نفل کے طریقہ پر پڑھے کیونکہ فرض تو پڑھ چکا اور گاؤں میں جمعہ نہ پڑھے کہ وہاں جمعہ ہوتا نہیں اگر پڑھا تو نفل ہوگا اور نفل جماعت و خطبہ و اذان سے پڑھنا، پھر فرض ظہر اکیلے پڑھنا بہت برا ہے لیکن اگر کسی نے پڑھ لیا تو بہت بعد میں ظہر فرض کی نیت سے پڑھے،ان مسائل کا ماخذ یہ حدیث ہے۔