دین کی بنیاد عقل پر نہیں

موٗمن مان جانے والے کو کہتے ہیں جسنے دل کی اتاہ گہرائی سے اللہ اور اسکے رسول اور انکی طرف سے پنہچائی ہوئی تعلیمات کو تسلیم کر لیا ہے جس میں کوئی شک و شبہ کا گزر نہیں ہو سکتا ہے،اس لئے کہ یقین کے دائرہ میں لاکر مان لیا گیا ہے،اور ہمیں بھی یقین ہے کہ مسلمانوں کے دماغ میں ایسی کوئی شبہ کی بات آبھی نہیں سکتی ہے،مگر لوگوں کے دماغ کو بنائے رکھنے کے لئے اور دشمنو ں کی باتوں کا منھ توڑ جواب دینے کی صلاحیت پیدا کرنے کے لئے عقلی باتوں کے عرض کرنے کی بھی زحمت گوارا کر لیں گے ورنہ اللہ اور رسول کا فرمان مل جانے کے بعد ہمارے نزیک عقلی بات کی کوئی حیثیت نہیں ہے،عقل سے کسی بات کا سمجھ میں نہ آنا قانون کا قصور نہیں اپنی عقل کے ناقص ہونے کا قصور ہے،علاج قانون کا نہیں عقل کا کرنا چاہیئے،اور عقل ہی پر بنیاد رکھنی ہے تو پھر دیں اور دھرم کے ماننے کا کیا مطلب؟عقل میں آیا اس لئے مانا گیا کہ اللہ اور رسول کا فرمان ہے اسلئے اسے تسلیم کر لیا گیا ؟عقل میں آنے پر مانا گیا تو دین کے نام سے کیا مانا؟اس لئے دین کی بنیاد عقل پر کھبی نہیں رکھی جا سکتی ہے اور نہ لوگوں اس کی اجازت دی جاسکتی ہے،جیسا کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے فرمایا کہ دین کی بنیاد عقل پر ہوتی تو میں خف کے اوپر نہیں نیچے مسح کرتا،حالانکہ اسلام میں خف کے اوپر کا مسح فرض کیا گیا ہے،حاصل یہ کہ بنیاد عقل پر نہیں اللہ اور رسول کے فرمان پر ہے،عقل سے سمجھ میں آجائے تو خیر،اور سمجھ میں نہ آئے تو عقل کا قصور قانون کا نہیں اس لئے کہ وہ اللہ اور رسول کا فرمان ہے