أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَانْطَلَقَا حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَيَاۤ اَهۡلَ قَرۡيَةِ ۨاسۡتَطۡعَمَاۤ اَهۡلَهَا فَاَبَوۡا اَنۡ يُّضَيِّفُوۡهُمَا فَوَجَدَا فِيۡهَا جِدَارًا يُّرِيۡدُ اَنۡ يَّـنۡقَضَّ فَاَقَامَهٗ‌ ؕ قَالَ لَوۡ شِئۡتَ لَـتَّخَذۡتَ عَلَيۡهِ اَجۡرًا‏۞

ترجمہ:

پھر وہ دونوں چل پڑے حتی کہ وہ دونوں ایک بستی والوں کے پاس آئے اور ان دونوں نے ان بستی والوں سے کھانا مانگا، بستی والوں نے ان کی مہمان نوازی سے انکار کردیا پھر ان دونوں نے اس بستی میں ایک دیوار کو دیکھا جو گرا ہی چاہتی تھی، تو اس نے اس دیوار کو سیدھا کردیا موسیٰ نے کہا کہ اگر آپ چاہتے تو اس پر کچھ اجرت لے لیتے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پھر دونوں چل پڑے حتی کہ وہ دونوں ایک بستی والوں کے پاس آئے اور ان دنوں نے اس بستی والوں سے کھانا مانگا، بستی والوں نے ان کی مہمان نوازی سے انکار کردیا۔ پھر ان دونوں نے اس بستی میں ایک دیوار کو دیکھا جو گراہی چاہتی تھی تو اس نے اس دیوار کو سیدھا کردیا، موسیٰ نے کہا اگر آپ چاہتے تو اس پر کچھ اجرت لے لیتے خضر نے کہا اب میرے اور آپ کے درمیان جدائی ہے، اب میں آپ کو ان کاموں کی حقیقت بتاتا ہوں جن پر آپ صبر نہ کرسکے تھے (الکھف :77-78)

کھانا مانگنے کے سوال کا ضابطہ 

اس بستی کے متعلق کئی قول ہیں زیادہ مشہور یہ ہیں کہ بستی انطاکیہ یا ایلہ تھی۔

اس جگہ پر اعتراض ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ اور حضرت خضر نے اس بستی والوں سے کھانا مانگا، حالانکہ شرفا اور معززین کسی سے کھانے کا سوال نہیں کرتے تو حضرت موسیٰ  اور حضرت خضر اتنے عظیم پیغمبر تھے پھر بھی انہوں نے کھانے کا سوال کیا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جس شخص کو شدید بھوک لگی ہو اس کے لئے کھانے کا سوال کرنا جائز ہے اور اگر اس کی بھوک اضطرار تک پہنچ جائے تو اس پر واجب ہے کہ وہ کھانے کا سوال کرے۔

حضر قبیصہ بن مخارق ہالی (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں ایک بڑی رقم کا مقروض ہوگیا تھا۔ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا تاکہ آپ سے اس کے متعلق سوال کروں۔ آپ نے فرمایا : جب تک صدقہ کا مال آئے اس وقت تک ہمارے پاس ٹھہرو ہم اس میں سے تمہیں مال دینے کا حکم کریں گے۔ پھر فرمایا : اے قبیصہ تین شخصوں کے علاوہ اور کسی شخص کے لئے سوال کرنا جائز نہیں ہے۔ ایک وہ شخص جو مقروص ہو اس کے لئے اتنی مقدار کا سوال کرنا جائز ہے جس سے اس کا قرض ادا ہوجائے، اس کے بعد وہ سوال کرنے سے رک جائے۔ دوسرا وہ شخص ہے جس کے مال پر کوئی ناگہانی آفت آئی ہو جس سے اس کا مال تباہ ہوجائے اس کے لئے اتنا سوال کرنا جائز ہے جس سے اس کا گزارہ ہوجائے۔ تیسرا وہ شخص ہے جو فاقہ زدہ ہو اور اس کے قبیلہ کے تین عقلمند آدمی یہ گواہی دیں کہ وہ فاقہ زدہ ہے تو اس کے لئے بھی اتنی مقدار کا سوال کرنا جائز ہے۔ جس سے اس کا گزارہ ہوجائے اور اسے قبیصہ ان تینوں شخصوں کے علاوہ سوال کرنا حرام ہے اور جو صان تین صورتوں کے علاوہ کسی اور صورت میں) سوال کر کے کھاتا ہے وہ حرام کھاتا ہے۔ (العیاذ باللہ) (صحیح مسلم رقم الحدیث :1044، سنن ابودائود رقم الحدیث :640، سنن النسائی رقم الحدیث :2579، 2591)

مقروض کے لئے قرض کی ادائیگی کے واسطے سوال کرنا اس وقت جائز ہے جب اس نے کسی جائز ضرورت کے لئے قرض لیا ہو اور اگر اس نے کسی گناہ کا کام کرنے کے لئے قرض لیا ہے مثلاً سودی کا کاروبار کرنے کے لئے یا سینما بنانے کے لئے تو اس قرض کی ادائیگی کے لئے لوگوں سے سوال کرنا جائز نہیں ہے۔ فاقہ زدہ شخص کے لئے تین گواہوں کی شرط بہ طور استحباب ہے ورنہ دو گواہ بھی کافی ہیں اور یہ شرط بھی اس سائل کے لئے ہے جو اپنے علاقے میں مال دار ہونے کی شہرت رکھتا ہو، اور جس شخص کا مال دار ہونا معروف اور مشہور نہیں ہے اس کو کوئی گواہ پیش کرنے کی ضرورت نہیں، اس کا اپنا کہہ دینا کافی ہے کہ اس کے پاس مال نہیں ہے اور وہ فاقہ زدہ ہے۔ 

اکثر احادیث میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سوال کرنے کی مذمت فرمائی ہے اور مسلمانوں کو اس بات کی ترغیب دی ہے کہ وہ حتی الامکان سوال کرنے سے گریز کریں۔ علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ بلا ضرورت سوال کرنا حرام ہے اور جو شخص صحت مند ہو اور کمانے پر قادر ہو اس کے متعقل دو قول ہیں : ایک قول یہ ہے کہ اس کا سوال کرنا حرام ہے اور دوسرا قول یہ ہے کہ اس کا سوال کرنا مکروہ ہے، بشرطیکہ اس میں تین شرطیں پائی جائیں (١) وہ سوال کرتے وقت اپنے آپ کو ذلیل نہ کرے (٢) گڑ گڑا کر سوال نہ کرے (٣) مسئول کو ایذا نہ دے۔ اور جو شخص بیمار ہو یا مسافر ہو اور سفر میں اس کے پاس کھانے پینے کی چیزوں یا خریدنے کی قوت نہ ہو تو پھر اس کے لئے مطلقاً سوال کرنا جائز ہے۔ شدید بھوک میں اس کے لئے سوال کرنا پسندیدہ ہے اور حضرت موسیٰ اور حضرت خضر نے اسی صورت میں سوال کیا تھا اور اگر وہ اضطرار سے دوچار ہوتے تو پھر ان پر واجب تھا کہ وہ سوال کرتے اور لوگوں کے نہ دینے کی صورت میں ان پر واجب تھا کہ وہ ان سے چھین کر کھالیتے۔

بعض احادیث میں ہے : حضرت حسین بن علی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سائل کا تم پر حق ہے، خواہ وہ گھوڑے پر سوار ہو کر آئے۔ (سنن ابودائود رقم الحدیث :1666, 1665 مسند احمد ج ١ شبیہ ج ٣ ص 113 مجمع الزوائد ج ٣ ص 101)

اس حدیث سے بہ ظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ خوشحال اور سرمایہ دار شخص بھی سوال کرسکتا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ محض گھوڑے پر سوار ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ شخص خوش حال اور مالدار ہو۔ ہوسکتا ہے کہ اس شخص پر اتنا زیادہ قرض ہو کہ وہ گھوڑا بھی قرض میں ڈوبا ہوا ہو، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ اس کا اپنا گھوڑا نہ ہو، اس نے وہ گھوڑا کس سے عاریتہ مانگ کرلیا ہو یا وہ کسی عذر کی وجہ سے گھوڑے پر سوار ہو۔ اس حدیث کا منشا یہ ہے کہ دینے والے کو سائل کی تفتیش اور چھان بین نہیں کرنی چاہیے اور اس کے ظاہری حال سے یہ تجس نہیں کرنا چاہیے کہ آیا وہ سوال کرنے کا اہل ہے یا نہیں ہے، بلکہ اس سے جو شخص بھی سوال کرے تو وہ اس کو اپنی حیثیت کے مطابق ضرور کچھ نہ کچھ دے دے۔ حیدث میں ہے :

حضرت ام بجید (رض) بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک مسکین میرے دروازے پر کھڑا ہو اور میرے پاس اس کو دینے کے لئے کچھ نہ ہو ! تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر تمہارے پاس اسے دینے کے بکری کے ایک بھنے ہوئے پائے کے سوا اور کچھ نہ ہو تو وہی اس کے ہاتھ پر رکھ دو ۔ (سنن ابو دائود رقم الحدیث : 1667، سنن الترذی رقم الحدیث :665 سنن النسائی رقم الحدیث :2573, 2564)

اگر انسان کے پاس سائل کو دینے کے لئے کچھ بھی نہ ہو تو اس سے اچھی طرح معذرت کرلے۔ بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہمیں سائل کے متعلق کچھ نہیں معلوم کہ سوال کرنے کا مستحق ہے یا نہیں ہے ہمیں معلوکم نہیں کہ وہ سوال کر کے اس رقم سے کھانا کھائے گا یا افیون کھائے گا، یا چرس اور ہیروئن تقسیم کرے گا، اور آج کل تو ہر چورا ہے پر پیشہ ور گدا گروں کا ہجوم ہوتا ہے اس لئے بہتر یہ ہے کہ ان ماگن نے والوں کو دینے کے بجائے آپ اپنے محلہ کے کسی غریب اور مستحق شخص کو کچھ دے دیں ہم کہتے ہیں کہ یہ درست طریقہ نہیں ہے اگر ہم یہ معمول بنالیں کہ ہم اسی سائل کو دیں گے جو سوال کا مستحق ہوگا اور اسی کی جزا میں اللہ بھی ہمارے ساتھ یہی معاملہ کرے کہ وہ اسی شخص کی دعا قبول کرے گا جو دعا کرنے کا مستحق ہوگا اور اسی کے سوال پر عطا کرے گا جو سوال کا مستحق ہوگا، تو ہم سے جس نے سوال کیا ہے اسے تو کوئی اور دینے والا مل جائے گا لیکن ہمارے مستحق نہ ہونے کی وجہ سے اگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں نہ دیا تو پھر ہمارے لئے سوال کرنے کا کوئی سا دروازہ ہے اور اللہ کے مسترد کرنے کے بعد اس کے سوا ہمیں کون دینے والا ہے۔

تاویل کا معنی 

حضرت خضر اور حضرت موسیٰ (علیہما السلام) دونوں نے کھانا مانگا اس میں یہ دلیل ہے کہ حضرت خضر بھی انسان تھے اور فرشتے نہ تھے، جیسا کہ سید ابوالاعلیٰ مودودی نے لکھا ہے اور ان کے انسان ہونے کی نفی کی ہے۔

حضرت خضر (علیہ السلام) نے کہا یہ میرے اور آپ کے درمیان فراق ہے، حضرت خضر نے ھذا سے کس چیز کی طرف اشارہ کیا تھا اس کا جواب یہ ہے کہ یہ اشارہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اس قول کی طرف تھا اگر اس کے بعد میں آپ سے کسی چیز کے متعلق سوال کروں تو پھر آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھیں، حضرت خضر نے ھذا کے لظ سے اس فراق کی طرف اشارہ کیا تھا جس کا حضرت موسیٰ نے وعدہ کیا تھا، دوسرا جواب یہ ہے کہ ھذا کا اشارہ اس تیسرے سوال کی طرف ہے کیونکہ یہ تیرسا سوال ہی ان کے اور حضرت خضر کے درمیان فراق کا سبب بنا تھا۔

حضرت خضر نے کہا اب میں آپ کو ان کاموں کی حقیقت بتاتا ہوں جن پر آپ صبر نہ کرسکے تھے۔ قرآن مجید میں تاویل کا لفظ ہے۔ تاویل کا لفظ اول سے بنا ہے، جس کا معنی ہے لوٹنا، کسی لفظ کی تاویل کا مطلب یہ ہے کہ وہ لفظ اس معنی کی طرف رجوع کرتا ہے۔ حضرت خضر نے جو کام کئے تھے ان کاموں کی تاویل کا معنی ہے ان کاموں کی حکمت 

بہ قدر ضرورت مال دنیا جمع کرنے کا جواب اور استحباب 

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حضرت خضر (علیہ السلام) سے کہا اگر آپ چاہتے تو اس پر اجرت لے لیتے۔

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اس ارشاد میں یہ دلیل ہے کہ محنت مزدوری کی اجرت لینا جائز ہے، اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ حدیث میں ہے :

حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جائیداد نہ بنائو ورنہ دنیا میں تم رغبت کرو گے۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث :2331، مسند حمیدی رقم الحدیث :122، مصنف ابن ابی شیبہ ج ١٣ ص 241، مسند احمد ج ١ ص 377، مسند احمد ج ١ ص 377 مسند ابویعلی رقم الحدیث 5500 صحیح ابن حبان رقم الحدیث :710، المستدرک ج ٤ ص 322، شرح السنتہ رقم الحدیث :4035)

اس حدیث سے بہ ظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ مال دنیا جمع کرنا جائز نہیں ہے اور کسی کام کی اجرت لینا بھی مال دنیا جمع کرنے کا سبب ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ حدیث ان لوگوں پر محمول ہے جو دنیا کا مال عیشی کے لئے جمع کرتے ہیں یا دنیا کی رنگینی اور چمک دمک کی وجہ سے مال دنیا جمع کرتے ہیں یا گناہوں سے لذت اندوزی کے لئے مال دنیا جمع کرتے ہیں لیکن جو آدمی باعزت اور باوقار طریقہ سے روزی حاصل کرنے کے لئے مال جمع کرے یا اپنی اولاد کی تعلیم، ان کی شادی اور ان کی دیگر ضروریات کے لئے مال جمع کرے اور اس مال میں اللہ کے حقوق نہ بھولے۔ زکوۃ اور فطرہ ادا کرے، قربانی کیر اس کا مال جمع کرنا جائز ہے اسی طرح جو شخص حج اور عمرہ ادا کرنے کے لئے مال جمع کرے اس کا مال جمع کرنا پسندیدہ ہے۔

حضرت ایوب بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے اصحاب نے ٹیلہ کی چوٹی سے قریش کے ایک آدمی کو آتے دیکھا۔ صحابہ نے کہا یہ شخص کتنا طاقتور ہے کاش اس کی طاقت اللہ کے راستہ میں خرچ ہوتی۔ اس پر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا صرف وہی شخص اللہ کے راستہ میں ہے جو قتل کردیا جائے ؟ پھر فرمایا جو شخص اپنے اہل کو سوال سے روکنے کے لئے (رزق) حلال کی طلب میں نکلے وہ بھی اللہ کے راستہ میں ہے اور جو شخص اپنے آپ کو سوال سے روکنے کے لئے (رزق) حلال کی طلب میں نکلے وہ بھی اللہ کے راستے میں ہے، جو شخص (صرف) مال کی کثرت کی طلب میں نکلے وہ شیطان کے راستہ میں ہے۔ (مصنف عبدالرزاق ج ٥ ص 271-272 مطبوعہ مکتبہ اسلامی بیروت، 1390 ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 18 الكهف آیت نمبر 77