أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَانْطَلَقَا حَتّٰۤى اِذَا رَكِبَا فِى السَّفِيۡنَةِ خَرَقَهَا‌ ؕ قَالَ اَخَرَقۡتَهَا لِتُغۡرِقَ اَهۡلَهَا‌ ۚ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـئًـا اِمۡرًا ۞

ترجمہ:

پھر وہ دونوں چل پڑے حتی کہ جب وہ دونوں کشتی میں سوار ہوئے تو اس (خضر) نے کشتی (کے تختے) کو توڑ دیا، (موسیٰ نے) کہا کیا آپ نے اس کو اس لئے توڑا ہے کہ اس میں سوار لوگ ڈوب جائیں، یہ تو آپ نے بہت خطرناک کام کیا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پھر وہ دونوں چل پڑے حتی کہ جب وہ دونوں کشتی میں سوار ہوئے تو اس صخضر) نے کشتی (کے تختے) کو توڑ دیا۔ (موسیٰ نے) کہا کیا آپ نے اس کو اس لئے توڑا ہے کہ اس میں سوار لوگ ڈوب جائیں یہ تو آپ نے بہت خطرناک کام کیا ہے (خضر نے) کہا کیا میں نے تم سے یہ نہیں کہا تھا کہ بیشک تم میرے ساتھ ہرگز صبر نہ کرسکو گے (موسیٰ نے) کہا جو چیز میں بھول گیا اس پر میری گرفت نہ کیجیے اور میرے مشن کو مجھ پر دشوار نہ کیجیے (الکھف :71-73)

کشتی کا تختہ توڑنے کی تفصیل 

اس سے پہلے صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے حوالوں سے گزر چکا ہے کہ حضرت موسیٰ اور حضرت خضر سمندر کے کنارے جا رہے تھے ان کے پاس سے ایک کشتی گزری انہوں نے کشتی والے سے بات کی کہ وہ ان کو سوار کرے۔ انہوں نے حضرت خضر (علیہ السلام) کو پہچان لیا اور ان کو بغیر معاوضہ کے سوار کرلیا۔ جب وہ دونوں کشتی میں سوار ہوگئے تو اس وقت حضرت موسیٰ چونکہ پڑے جب حضرت خضر نے کلہاڑی سے کشتی کا ایک تختہ توڑ دیا۔ حضرت موسیٰ نے کہا ان لوگوں نے ہم کو بغیر معاوضہ کے سوار کر یا اور آپ نے ان کی کشتی کا تختہ توڑ دیا تاکہ ان کے سواروں کو غرق کردیں، یہ تو آپ نے بہت خطرناک کام کیا۔ حضرت خضر نے کہا کیا میں نے آپ سے یہ نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ ہرگز صبر نہیں کرسکیں گے۔ حضرت موسیٰ نے کہا جو چیز میں بھول گیا اس پر میری گرفت نہ کیجیے اور میرے مشن کو مجھ پر دشوار نہ کیجیے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، پہلی بار حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے بھول ہوئی تھی۔ ایک چڑیا آ کر کشتی کے تختے کے کنارے پر بیٹھ گئی اور اس نے سمندر کے پانی میں ایک یا دو متربہ چونچ ماری۔ پس حضرت خضر نے حضرت موسیٰ سے کہا میرا علم اور تمہارا علم اللہ کے علم میں اتنی ہی کمی کرسکتا ہے جتنی کہ اس چڑیا کے چونچ میں پانی لینے سے سمندر میں کمی ہوئی ہے۔ حضرت خضر نے یہ ایک مثال دی تھی کہ میری معلومات اور تمہاری معلومات سے اللہ کی معلومات میں کوئی اثر نہیں پڑتا جیسا چڑیا کے چونچ میں پانی لینے سے سمندر کے پانی میں کوئی کمی نہیں ہوتی اور یہ مثال صرف سمجھانے کے لئے ہے ورنہ ہمارے سامنے جو سمندر ہے یہ متناہی ہے اور اللہ تعالیٰ کی معلومات غیر متناہی ہیں، اسی طرح تمام مخلوق کے علم میں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علم میں وہ نسبت ہے جو قطرہ اور سمندر میں ہے اور آپ کے علم میں اور اللہ تعالیٰ کے علم میں وہ نسبت بھی نہیں ہے کیونکہ قطرہ اور سمندر میں متناہی کی نسبت متناہی کی طرف ہے اور آپ کے اور اللہ تعالیٰ کے علم میں متناہی کی نسبت غیر متناہی کی طرف ہے۔

امام ابوالعالیہ نے اپنی تفسیر میں کہا ہے کہ جس وقت حضرت خضر نے کشتی کا تختہ توڑا تھا تو ان کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے سوا اور کسی نے نہیں دیکھا تھا اور اگر لوگ ان کو دیکھ لیتے تو ان کی کشتی کے توڑنے سے منع کرتے اور ایک قول یہ ہے کہ کشتی والے ایک جزیرہ کی طرف چلے گئے تھے اور حضرت خضر کشتی میں تنہا رہ گئے تھے اس وقت انہوں نے کشتی کا تختہ اکھاڑ دیا۔ 

بھول کی وجہ سے مواخذہ نہ ہونے میں حقوق اللہ اور حقوق العباد کا فرق اور دیگر فقہی مسائل 

حضرت خضر (علیہ السلام) نے جو کشتی کا تختہ توا تھا اس میں یہ دلیل ہے کہ جب یتیم کا ولی یہ سمجھے کہ یتیم کے مال میں کوئی نقص پیدا کرنے میں یتیم کا فائدہ ہے تو یتیم کا ولی اس کے مال میں نقص ڈال سکتا ہے۔ مثلاً اس کو یہ خدشہ ہے کہ ظالم اس کا مال چھین کرلے جائیں گے تو اس کے لئے اس مال میں عیب ڈالنا جائز ہے۔ امام ابو یوسف نے کہا کہ ظالم بادشاہ کو یتیم کے مال سے کچھ حصہ دے کر بای مال اس سے بچا لینا جائز ہے۔

حضرت موسیٰ نے فرمایا جو چیز میں بھول گیا اس پر میری گرفت نہ کیجیے اس سے معلوم ہوا کہ بھولے سے کوئی کام کرنے سے اس پر مواخذہ نہیں ہوتا، لیکن یہ حکم حقوق اللہ میں ہے حقوق العباد میں نہیں ہے۔ جیسے بھولے سے روزے میں کچھ کھا پی لیا تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹے گا لیکن حقوق العباد میں یہ حکم نہیں ہے مثلاً کسی سے رقم قرض لے کر بھول گیا تو بھول کی وجہ سے اس رقم کی ادائیگی اس سے ساقط نہیں ہوگی یا بیوی کو طلاق دے کر بھول گیا تو اس بھول کی وجہ سے وہ طلاق ساقط نہیں ہوگی یا کسی کی امانت رکھ کر بھول گیا تو اس امانت کی ادائیگی ساقط نہیں ہوگی۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 18 الكهف آیت نمبر 71