أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَانْطَلَقَا حَتّٰۤى اِذَا لَقِيَا غُلٰمًا فَقَتَلَهٗ ۙ قَالَ اَقَتَلۡتَ نَـفۡسًا زَكِيَّةً ۢ بِغَيۡرِ نَـفۡسٍ ؕ لَـقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـئًـا نُّـكۡرًا‏ ۞

ترجمہ:

پھر وہ دونوں چل پڑے حتیٰ کہ جب ان کی ملاقات ایک لڑکے سے ہوئی پس اس (خضر) نے اس لڑکے کو قتل کردیا، (موسیٰ نے) کہا کیا آپ نے ایک بےقصور شخص کو بغیر کسی شخص کے بدلہ کے قتل کردیا آپ نے یہ بہت معیوب کام کیا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پھر وہ دونوں چل پڑے حتیٰ کہ جب ان کی ملاقات ایک لڑکے سے ہوئی پس اس (خضر) نے اس لڑکے کو قتل کردیا (موسیٰ نے) کہا کیا آپ نے ایک بےقوصر شخص کو بغیر کسی شخص کے بدلہ کے قتل کردیا آپ نے یہ بہت معیوب کام کیا ہے (الکھف :74)

حضرت خضر نے جس لڑکے کو قتل کیا تھا وہ بالغ تھا یا نابالغ اور اس کے قتل کی کیفیت 

سعید نے کہا وہ لڑکا لڑکوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، وہ کافر تھا۔ حضرت خضر نے اس کو پکڑ کر زمین پر گرا دیا پھر اس کو چھری سے ذبح کردیا، وہ لڑکا ابھی بالغ نہیں ہوا تھا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :4725، صحیح مسلم رقم الحدیث :2380)

امام ترمذی نے روایت کیا ہے کہ وہ دونوں کشتی سے اترے جس وقت دونوں سمندر کے کنارے کنارے جا رہے تھے تو حضرت خضر نے دیکھا کہ ایک لڑکا لڑکوں کے ساتھ کھیل رہا ہے۔ حضرت خضر نے اس کو سر کو اپنے ہاتھ سے پکڑا اور اپنے ہاتھ سے اس کی گردن اکھاڑ کر اس کو قتل کر ڈالا۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث :3149)

بعض علماء نے کہا ہے کہ وہ لڑکا بالغ تھا اور وہ دو بستیوں کے درمیان ڈاکے ڈالتا تھا اور اس کا باپ ان میں سے ایک بستی کا رئیس تھا اور اس کی ماں دوسری بستی کی رئیسہ تھی۔ حضرت خضر نے اس کو پکڑ کر زمین پر گرا دیا اور اس کا سر دھڑ سے الگ کردیا۔ کلبی نے کہا اس لڑکے کا نام شمعون تھا، ضحاک نے کہا اس کا نام حیسون تھا، سہیلی نے کہا اس کے باپ کا نام ازیر تھا اور اس کی ماں کا نام سھوی تھا۔ وھب نے کہا اس کے باپ کا نام سل اس تھا اور اس کی ماں کا نام رحمی تھا۔ جمہور نے کہا وہ نابالغ تھا اسی وجہ سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا وہ بےقصور شخص تھا۔ قرآن مجید میں اس کے لئے غلام کا لفظ ہے اور غلام کا معنی ہے لڑکا۔ کیونکہ عرب مردوں میں غلام اسی کو کہتے ہیں جو نابالغ ہو اور حضرت خضر (علیہ السلام) کو شکف سے معلوم ہوگیا تھا کہ اس کے دل پر کفر کی مہر لگ چکی ہے، اسی وجہ سے حدیث صحیح میں ہے اگر وہ زندہ رہتا تو اپنے ماں باپ کو کفر میں مبتلا کردیتا اور اللہ تعالیٰ کے اذن اور اس کے حکم کے بغیر نابالغ لڑکے کو قتل کرنا جائز نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے اور وہ جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے۔

ابن جبیر نے یہ کہا کہ وہ لڑکا سن تکلیف کو پہنچ کا تھا کیونکہ حضرت ابی بن کعب اور حضرت ابن عباس (رض) کی قرأت میں ہے، رہا لڑکا تو وہ کافر تھا اور اس کے ماں باپ مومن تھے اور کفر اور ایمان مکلفین بالغین کی صفات میں سے ہے اور غیر مکلف پر کافر یا مومن کا اطلطاق اس کے ماں باپ کے اعتبار سے کیا جاتا ہے۔ (الجامع لاحکام القرآن جز 10 ص 296، مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1415 ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 18 الكهف آیت نمبر 74