أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَاَ تۡبَعَ سَبَبًا‏۞

ترجمہ:

سو وہ ایک مہم کی تیاری کرنے لگے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : سو وہ ایک مہم کی تیاری کرنے لگے حتیٰ کہ جب وہ غروب آفتاب کی جگہ پہنچے تو انہوں نے اسے سیاہ دلدل کے چشمے میں ڈوبتے ہوئے پایا اور انہوں نے اس کے پاس ایک قوم کو پایا، ہم نے کہا اے ذوالقرنینچ تم ان کو عذاب پہنچائو ان کے ساتھ حسن سلوک کرو اس نے کہا جس شخص نے (اپنی جان پر) ظلم کیا تو عنقریب ہم اس کو سزا دیں گے، پھر وہ اپنے رب کی طرف لوٹایا جائے گا تو وہ اس کو بدترین عذاب دے گا اور جو شخص ایمان لے آیا اور اس نے نیک عمل کئے تو ہم اس کو اچھا بدلہ دیں گے اور عنقریب ہم اس کو آسان کاموں کے احکام دیں گے (الکھف :85-88)

ذوالقرنین کا پہلا سفر بہ جانب مغرب 

ذوالقرنین نے مغرب کی جانب سفر اتخیار کیا حتیٰ کہ وہ ایسی جگہ پہنچ گیا جہاں پر زمین اور خشکی کی حد ختم ہوگئی اور اس کے بعد سمندر تھا وہ بحر الظلمات تھا وہ تیونس، الجزائر، مراکش اور مغربی ممالک کو فتح کرتا ہوا پہنچا تھا اور اس نے وہاں سورج کو ایک سیاہ دلدل میں غروب کھڑے ہوں اور دو جہاں آسمان اور سطح سمندر کے کنارے ملتے ہوئے نظر آئیں تو ایسا لگے گا جیسے سورج سمندر میں ڈوب رہا ورنہ حقیقت میں سورج زمین اور سمندر سے بہت بڑا ہے۔

ذوا القرنین نے وہاں ایک قوم کو پایا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے ذوالقرنین ! تم ان کو عذاب پہنچائو یا ان کے ساتھ حسن سلوک کرو۔ اس میں اختلاف ہے کہ ذوالقرنین نبی تھے یا ولی تھے اگر نبی تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان پر اس کلام کی وحی فرمائی اور اگر ولی تھے تو اللہ تعالیٰ نے اس زمانے کے نبی پر وحی نازل فرمائی اور اس نبی نے ذوالقرنین تک اللہ تعالیٰ کا یہ پیغام پہنچایا، یا پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں اس طرح بات ڈال دی جس طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کے دل میں بات ڈال دی تھی قرآن مجید میں ہے :

(طہ :38-39) جب نے ہم آپ کی ماں کی طرف وہ الہام کیا جس کی وحی (اب) کی جا رہی ہے کہ تم اس (موسیٰ ) کو صندوق میں بند کر کے دریا میں ڈال دو اور دریا اس صندوق کو ساحل پر ڈال دے گا اور اس کو میرا اور خود اس کا دشمن اٹھا لے گا۔

سو اس طریقہ سے ذوالقرنین کے دل میں یہ بات ڈالی گئی۔ ذوالقرنین کے اس سفر میں مغرب کی آخری جانب کافروں کی ایک قوم تھی یا نبی آدم کا ایک بہت بڑا گروہ تھا تو اللہ تعالیٰ نے ذوالقرنین کے دل میں یہ الہام کیا کہ اگر یہ لوگ کفر پر اصرار کریں تو ان کو قتل کردیا، یا تم صبر کرو اور ان کو حق اور سیدھے راستہ کی ہدایت دیتے رہو اور ان کو شرعی احکام کی تعلیم دیتے رہو اور ذوالقرنین نے ان لوگوں سے کہا جس شخص نے میری دعوت کو قبول نہیں کیا اور کفر اور شرک پر اصرار کیا تو ہم دنیا میں اس کو قتل کر کے سزا دیں گے اور جب وہ آخرت میں اپنے رب کی طرف لوٹے گا تو پھر اللہ تعالیٰ اس کو دوزخ میں بہت سخت عذاب دے گا اور جس نے میری دعوت کو قبول کرلیا اور وہ اللہ پر ایمان لے آیا اور اس نے نیک اعمال کئے تو اس کی جزا آخرت میں جنت ہے اور ہم اس کو مشکل اور سخت احکام کا مکلف نہیں کریں گے اور اس کو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کے آسان طریقے بتائیں گے۔

ذوالقرنین کے پہلے سفر کے متعلق شیخ ابوالکام احمد لکھتے ہیں :

ہیروڈوٹس نے اس جنگ کی سرگزشت پوری تفصیل کے ساتھ باین کی ہے اور اس کی بعض تفصیلات نہایت دلچسپ اور اہم ہیں لیکن یہ موقعہ اطناب کا نہیں۔ وہ کہتا ہے سائرس کی فتح مندی ایسی عجیب اور معجزانہ تھی کہ پیٹریا کے معرکہ کے بعد صرف چودہ دن کے اندر لیڈیا کا مستحکم دارالحکومت مسخر ہوگیا اور کروٹس ایک جنگی قیدی کی حیثیت میں سائرس کے آگے سرنگوں کھڑا تھا۔

اب تمام ایشیائے کو چک بحر شام سے لے کر بحر اسود تک اس کے زیر نگین تھا وہ برابر بڑھتا گیا یہاں تک وہ مغربی ساحل تک پہنچ گیا۔ قدرتی طور پر اس کے قدم یہاں پہنچ کر اسی طرح رک گئے جس طرح بارہ سو سال بعد طارق کے قدم افریقہ کے شمالی ساحل پر رک جانے والے تھے۔ اس کے فتح مند قدموں کے لئے صحرائوں کی وسعتیں اور پہاڑیوں کی بلندیاں روک نہ ہو سکیں۔ اس نے فارس سے لے کر لیڈیا تک چودہ سو میل کا فاصلہ طے کرلیا تھا لیکن سمندر کی موجوں پر چلنے کے لئے اس کے پاس کوئی سواری نہ تھی۔ اس نے نظر اٹھا کر دیکھا تو حد نظر تک پانی ہی پانی دکھائی دیتا تھا اور سورج اس کی لہروں میں ڈوب رہا تھا۔

یہ لشکر کشی جو اسے پیش آئی صریح مغرب کی لشکر کشی تھی کیونکہ وہ ایران سے مغرب کی طرف چلا اور خشکی کے مغربی کنارے تک پہنچ گیا۔ یہ اس کے لئے مغرب الشمس کی آخری حد تھی۔

ایشیائے کو چک کا مغربی ساحل نقشہ میں نکالو تم دیکھو گے کہ تمام ساحل اس طرح کا واقع ہوا ہے کہ چھوٹے چھوٹے خلیج پیدا ہوگئے ہیں اور سمرنا کے قریب اس طرح کے جزیرے نکل آئے ہیں جنہوں نے ساحل کو ایک جھیل یاح وض کی شکل دے دی ہے۔ لیڈیا کا دارالحکومت سارڈیس مغربی ساحل کے قریب تھا اور اس کا محل موجودہ سمرنا سے بہت زیادہ فاصلہ پر نہ تھا، پس جب سائرس سارڈیس کی تسخیر کے بعد آگے بڑھا ہوگا تو یقینا بحرایجین کے اسی ساحلی مقام پر پہنچا ہوگا جو سمرنا کے قرب و جوار میں واقع ہے۔ یہاں اس نے دیکھا ہوگا کہ سمندر نے ایک جھیل کی سی شکل اختیار کرلی ہے۔ ساحل کی کیچڑ سے پانی گدلا ہو رہا ہے اور شام کے وقت اسی میں سورج ڈوبتا دکھائی دیتا ہے۔ اسی صورت حال کو قرآن نے ان لفظوں میں بیان کیا ہے کہ وجدھاتخرب فی عین حمنۃ (86) اسے ایسا دکھائی دیا کہ سورج ایک گدلے حوض میں ڈوب رہا ہے۔ یہ ظاہر ہے کہ سورج کسی مقام میں بھی ڈوبتا نہیں لیکن ہم سمندر کے کنارے کھڑے ہو کر دیکھتے ہیں تو ایسا ہی دکھائی دیتا ہے کہ ایک سنہری تھالی آہستہ آہستہ سمندر میں ڈوب رہی ہے۔ (ترجمان القرآن ج ٢ ص 406، مطبوعہ اسلامی اکادمی لاہور، 1976 ء)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 18 الكهف آیت نمبر 85