أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالَ اَلَمۡ اَ قُلْ لَّكَ اِنَّكَ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِىَ صَبۡرًا۞

ترجمہ:

(خضر نے) کہا کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ بیشک تم میرے ساتھ ہرگز صبر نہیں کرسکو گے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (خضر نے کہا) کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ بیشک تم میرے ساتھ ہرگز صبر نہیں کرسکو گے موسیٰ نے کہا اگر اس کے بعد میں نے آپ سے کوئی سوال کیا تو آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھیں، بیشک آپ میری طرف سے (حد) عذر کو پہنچ چکے ہیں۔ (الکھف :75-76)

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی انصاف پسندی اور استاذ کا ادب اور احترام 

حضرت خضر (علیہ السلام) نے اپنے اس کلام میں اپنے پہلے کلام کی بہ نسبت لک کا اضافہ کیا ہے اور کلام میں الفاظ کی زیادتی معنی کی زیادتی پر دلالت کرتی ہے، گویا اس جملہ سے حضرت خضر نے حضرت موسیٰ کو نہایت سختی اور تاکید کے ساتھ تنبیہ کی ہے۔

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو خضر (علیہ السلام) کے اتھ رہنے کی بہت خواہش اور حصول علم کی بہت شدید حرص تھی لیکن انہوں نے جب یہ دیکھا کہ وہ دو بار حضرت خضر (علیہ السلام) کے مقرر کردہ ضابطہ اور ان کی نصیحت کی خلاف ورزی کرچکے ہیں تو وہ بہت نادم ہوئے اور انہوں نے خود یہ پیشکش کی اگر تیسری بار بھی انہوں نے حضرت خضر کے حکم کی خلاف ورزی کی تو بیشک حضرت خضر انہیں اپنے ساتھ نہ رکھیں اور اس معاملہ میں وہ حد عذر کو پہنچ چکے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بہت انصاف پسند تھے اور اساتذ کا بہت زیادہ ادب اور احترام کرنے والے تھے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 18 الكهف آیت نمبر 75