حدیث نمبر 279

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ انہوں نے ایک ٹھنڈی اور ہوا والی رات میں نماز کی اذان کہی پھر فرمایا کہ گھروں میں نماز پڑھ لو پھر فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب ٹھنڈی اور بارش والی رات ہوتی تو مؤذن کو حکم دیتے تھے کہ یوں کہے کہ نماز گھروں میں پڑھ لو ۱؎(مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ ظاہر یہ ہے کہ یہ لفظ اذان کے بعد کہلوایا جاتا تھا نہ کہ دوران اذان اور یہ امر اباحت کا ہے یعنی گھر میں نماز پڑھنے کی اجازت ہے بارش کی رات میں گھر میں نماز پڑھ سکتے ہو اجازت ہے مگر مسجد کی حاضری اور جماعت کی شرکت بہت ثواب کا باعث، اسی لیے سرکار صلی اللہ علیہ وسلم اور مؤذن اور جلیل القدر صحابہ خود تو مسجد میں آجاتے تھے اور اعلان یہ کراتے تھے۔ عزیمت پر عمل ہے اور رخصت کا اعلان۔