أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاَمَّا الۡجِدَارُ فَكَانَ لِغُلٰمَيۡنِ يَتِيۡمَيۡنِ فِى الۡمَدِيۡنَةِ وَكَانَ تَحۡتَهٗ كَنۡزٌ لَّهُمَا وَكَانَ اَبُوۡهُمَا صَالِحًـا ۚ فَاَرَادَ رَبُّكَ اَنۡ يَّبۡلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَيَسۡتَخۡرِجَا كَنۡزَهُمَا ۖ رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ‌‌ ۚ وَمَا فَعَلۡتُهٗ عَنۡ اَمۡرِىۡ‌ ؕ ذٰ لِكَ تَاۡوِيۡلُ مَا لَمۡ تَسۡطِعْ عَّلَيۡهِ صَبۡرًا۞

ترجمہ:

اور رہی وہ دیوار تو وہ شہر میں رہنے والے دو یتیم لڑکوں کی تھی اور اس دیوار کے نیچے ان کا خزانہ تھا اور ان کا باپ ایک نیک آدمی تھا تو آپ کے رب نے یہ ارادہ کیا کہ وہ دونوں لڑکے اپنی جوانی کو پہنچ جائیں اور آپ کے رب کی رحمت سے اپنا خزانہ نکال لیں اور میں نے یہ کام اپنی رائے سے نہیں کئے، یہ ان کاموں کی حقیقت ہے جن پر آپ صبر نہ کرسکے تھے ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ہی وہ دیوار تو وہ شہر میں رہنے والے دو یتیم لڑکوں کی تھی اور اس دیوار کے نیچے ان کا خزانہ تھا اور ان کا باپ ایک نیک آدمی تھا تو آپ کے رب نے یہ ارادہ کیا کہ وہ دونوں لڑکے اپنی جوانی کو پہنچ جائیں اور آپ کے رب کی رحمت سے اپنا خزانہ نکال لیں اور میں نے یہ کام اپنی رئاے سے نہیں کئے یہ ان کاموں کی حقیقت ہے جن پر آپ صبر نہ کرسکے تھے (الکھف :82)

یتیم کا معنی اور اس کے شرعی احکام 

اس آیت میں فرمایا ہے وہ دیوار دو یتیم لڑکوں کی تھی اس کا معنی ہے وہ لڑکے چھوٹے اور نابالغ تھے کیونکہ حدیث میں ہے :

حضرت علی بن ابی طالب (رض) بیان کرتے ہیں میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ حدیث یاد رکھی ہے کہ احتلام ہونے کے بعد کوئی یتیم نہیں رہتا اور صبح سے رات تک چپ رہنا کوئی عبادت نہیں ہے۔ (سنن ابودائود رقم الحدیث :2873، المسند الجامع رقم الحدیث :10160)

اس حدیث کا ظاہر معنی ہے کہ جب کسی لڑکے کو احتلاف ہوجاتا ہے تو پھر وہ مرفوع القلم نہیں رہتا اور اس پر بالغوں کے احکام نافذ ہوجاتے ہیں اب وہ خریدو فروخت کرسکتا ہے اور اپنے مال میں تصرف کرسکتا ہے اور اپنا خود نکاح کرسکتا ہے اور اگر وہ لڑکی ہو تو اس کی اجازت کے بغیر اس کا نکاح نہیں ہوسکتا، لیکن اگر بالغ ہونے کے بعد بھی وہ سمجھدار اور ہوشیار نہ ہو تو اس کے تصرفات پر پابندی برقرار رہے گی اور کبھی ایک چیز دو سببوں سے ممنوع ہوتی ہے اور ایک مانع کے اٹھ جانے سے وہ ممانعت ساقط نہیں ہوتی، اور اللہ تعالیٰ نے بےعقل کے تصرفات پر بھی پابندی لگانے کا حکم دیا ہے فرمایا :

(النساء : ٥) بےعقل لوگوں کو اپنے وہ اموال نہ دو جن کو اللہ نے تمہاری گزر اوقات قائم رکھنے کا ذریعہ بنایا ہے۔

(البقرہ :282) ہاں جس کے ذمہ حق ہے اگر وہ بےعقل ہو یا کمزور ہو یا وہ لکھنے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اس کا ولی عدل کے ساتھ لکھوا دے۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے جس طرح کم عقل کے لئے ولایت ثابت کی ہے اسی طرح کمزور کے لئے ولایت ثابت کی ہے اور اس آیت میں ضعیف اور کمزور سے مراد ہے کم عمر لڑکا، اور سفیہ سے مراد ہے وہ بالغ جو بےعقل یا کم عقل ہو، نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

(النساء : ٦) اور یتیموں کی آزمائش کرتے رہو حتیٰ کہ جب وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائیں پس اگر تم ان میں ہوشیاری اور سمجھداری پائو تو پھر ان کے اموال ان کی طرف سونپ دو ۔ لہٰذا یتیموں کی طرف ان کے اموال سونپنے کی دو شرطیں ہیں ایک یہ کہ وہ بالغ ہوجائیں اور دوسری یہ ہے کہ ان میں ہوشیاری اور سمجھ داری آجائے اور جب اس حکم کا وجوب دو چیزوں پر معلق ہے تو ان دونوں چیزوں کے بغیر اس کا وجوب متحقق نہیں ہوگا۔

اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کہ صبح سے رات تک چپ رہنا کوئی عبادت نہیں ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ زمانہ جاہلیت میں چپ رہنے کو بھی عبادت سمجھا جاتا تھا اور ان میں سے کوئی شخص پورا دن اور رات بھر چپ رہتا تھا اور اس کو وہ چپ کا روز کہتے تھے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے منع فرمایا اور انہیں ذکر کرنے اور نیکی کی باتیں کرنے کا حکم دیا۔

یتیم کے ساتھ نیکی کرنے والے کے اجر وثواب کے متعلق احادیث 

حضرت سہل بن سعد الساعدی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے آپ نے انگشت شہادت اور درمیانی انگ لی کی طرف اشارہ کیا اور ان کے درمیان کشادگی رکھی۔ (کشادگی رکھنے میں یہ اشارہ ہے کہ دونوں درجوں میں فرق ہوا۔ ) 

(صحیح البخاری رقم الحدیث 6005 صحیح مسلم رقم الحدیث :2983، سنن ابو دائو درقم الحدیث :5150 سنن الترمذی رقم الحدیث :1918، مسند احمد ج ٥ ص 333، جامع الاصول رقم الحدیث :221, 222)

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مسلمانوں میں سے جس شخص نے یتیم کو اپنے پاس رکھا اور اس کو کھلایا اور پلایا، اللہ تعالیٰ اس کو یقینا جنت میں داخل کر دے گا الآیہ کہ اس نے کوئی ایسا گناہ کیا ہو جس کی بخشش نہ ہو۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث 1917، جامع الاصول رقم الحدیث :223)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شکایت کی کہ اس کے دل میں سختی ہے آپ نے فرمایا : تم یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرو اور اس کو کھانا کھلائو، اس حدیث کی سند تصحیح ہے۔ (مسند احمد ج ٢ ص 263، المسند الجامع رقم الحدیث :14057 مجمع الزوائد رقم الحدیث :13508)

حضرت ابو الدرداء (رض) بیان کرتے ہیں کہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے اپنے دل کی سختی کی شکایت کی۔ آپ نے فرمایا : کیا تم یہ پسند کرتے ہو کہ تمہارا دل نرم ہوجائے اور تمہاری حاجت پوری ہوجائے ؟ تم یتیم پر رحم کرو، اس کے سر پر ہاتھ پھیرو اور اس کو اپنے طعام سے کھلائو، تمہارا دل نرم ہوجائے گا اور تمہاری حاجت پوری ہوگی۔ (اس حدیث کو طبرانی نے روایت کیا ہے اور اس کی سند ضعیف ہے۔ مجمع الزوائد رقم الحدیث :13509)

حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ گھر وہ ہے جس میں یتیم کی عزت کی جاتی ہو۔ (المعجم الکبیر رقم الحدیث :13434، اس کی سند میں ایک راوی ضعیف ہے، مجمع الزوائد رقم الحدیث :13513) 

حضرت ابوامامہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرا تو اس کا ہاتھ جتنے بالوں کے اوپر سے گزرے تو ہر بال کے عوض اس کو اللہ کے لئے ایک نیکی کا اجر ملے گا، اور جس شخص کے پاس کوئی یتیم لڑکا یا لڑکی تھی اور اس نے اس کے ساتھ اچھا سلوک کیا تو میں اور وہ جنت میں ان دو انگلیوں کی طرح ہوں گے آپ نے انگشت شہادت اور درمیانی انگلی کی طرف اشارہ کیا۔ (مسند احمد ج ٥ ص 265، 250، المعجم الکبیر رقم الحدیث 7821، الزھد لابن المبارک رقم الحدیث :655، امام طبرانی کی سند میں علی بن یزید الالہانی ضعیف راوی ہے۔ )

حضرت عبداللہ بن ابی اوفی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے ایک لکڑا ٹاھ کر گیا۔ حضرت معاذ بن جبل (رض) اس کے پاس گئے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا اللہ تمہاری یتیمی کے نقصان کو پورا کر دے اور اپنے باپ کا جانشین بنائے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے معاذ ! میں نے دیکھ لیا تم نے جو کچھ اس لڑکے کے ساتھ کیا۔ انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! مجھے اس لڑکے پر رحم آیا ! تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں محمد کی جان ہے مسلمانوں میں سے جو شخص بھی کسی یتیم کی سرپرستی کرے گا اللہ تبارک و تعالیٰ اس کو ہر بال کے بدلہ میں ایک درجہ عطا فرمائے گا اور اس کو ہر بال کے بدلہ میں ایک نیکی عطا فرمائے گا اور ہر بال کے بدلہ میں اس کا ایک گناہ مٹا دے گا۔ (مسند الجزار رقم الحدیث :1911، اس حدیث کا ایک ابوالورقاء متروک ہے، مجمع الزوائد رقم الحدیث :13518)

ہم نے اس عنوان کے تحت آخر میں چار ایسی احادیث ذکر کی ہیں جو ضعیف الاسناد ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ فضائل اعمال میں احادیث ضعیفہ بھی معتبر ہوتی ہیں۔ نیز ان میں سے بعض احادیث متعدد اسانید سے مروی ہیں اور تعداد اسانید سے ضعیف حدیث حسن لغیرہ ہوجاتی ہے۔

حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی 852 ھ لکھتے ہیں :

امام ابویعلی حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں سب سے پہلے جنت کا دروازہ کھولوں گا تو ایک عوتر بھی میرے ساتھ داخل ہونا چاہے گی۔ میں پوچھوں گا تم کون ہو وہ کہے گی میں وہ عورت ہوں جس نے اپنے یتیم بچوں کی پرورش کی تھی۔ اس حدیث کے راویوں میں کوئی حرج نہیں ہے۔

امام ابودائود نے حضرت عوف بن مالک (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں اور سیاہ رخساروں والی عورت جنت میں ان دو (انگلیوں) کی طرح ہوں گے اور جو عورت بڑے عہدہ پر ہو اور خوبصورت ہو اور اس نے اپنے آپ کو اپنے یتیم بچوں کی پرورش پر وقف کر رکھا ہو حتی کہ وہ بچے فوت ہوگئے یا اس سے الگ ہوگئے۔

امام طبرانی نے معجم صغیر میں حضرت جابر (رض) سے روایت کیا ہے کہ ایک شخص نے پوچھا یا رسول اللہ ! میں یتیم بچوں کو کس وجہ سے مار سکتا ہوں، آپ نے فرمایا : جس وجہ سے تم اپنے بچوں کو مارتے ہو سوا اس کے کہ تم اپنے مال کو اس کے مال کے ذریعے بچانا چاہتے ہو حتیٰ کہ اس کے مال سے استغناء ہوجائے۔

ہمارے شیخ نے ترمذی کی شرح میں کہا یتیم کی پرورش کرنے والا جنت میں آپ کے درجہ کے ساتھ یا قریب اس لئے ہوگا کہ یتیم بچہ بھی کم فہم ہوتا ہے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بھی یہ شان ہے کہ آپ ان لوگوں کی طرف مبعوث کئے گئے جن کو اپنے دین کے معاملات کی فہم اور عقل نہیں تھی تو آپ ان لوگوں کے کفیل، معلم اور مرشد تھے، اور یتیم کا کفیل بھی ان بچوں کی کفالت کرتا ہے جن کو اپنے دین کے معاملات کی فہم نہیں ہوتی بلکہ دنیا کے معاملات کی بھی فہم نہیں ہوتی تو وہ ان کو رشد و ہدایت دیتا ہے اور ان کو تعلیم دیتا ہے اور ان کو حسن ادب سکھاتا ہے، سو اس کی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ یہ مناسبت ہوتی ہے اس وجہ سے اس کا جنت میں درجہ آپ کے درجہ کے ساتھ ہوگا۔ (فتح الباری ج ١٢ ص 48-49 مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1420 ھ)

یتیم کے مزید احکام ہم نےالنساء :6میں بیان کئے ہیں وہاں مطالعہ فرمائیں۔

یتیم لڑکوں اور ان کے شہر کا نام 

علامہ ابوعبداللہ مالکی قرطبی نے لکھا ہے ان دو یتیم لڑکوں کا نام صریم اور اصرم تھا، انسانوں میں یتیم وہ ہوتا ہے جس کا باپ نہ ہو اور حیوانوں میں یتیم وہ ہوتا ہے جس کی ماں نہ ہو۔ اس آیت میں ہے رہی وہ دیوار تو وہ مدینہ میں رہنے والے دو یتیم لڑکوں کی تھی۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس شہر کا نام مدینہ تھا۔ 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے اس شہر کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دیا گیا ہے جو دوسرے شہروں کو کھاجائے گا (دوسرے شہروں پر غالب ہوگا) لوگ اس کو یثرب کہتے ہیں اور وہ مدینہ ہے وہ (برے) لوگوں کو اس طرح نکال دے گا جس طرح بھٹی لوہے کے زنگ کو نکال دیتی ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :1871، صحیح مسلم رقم الحدیث :1382، السنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث :4241)

خزانہ کے مصداق میں اقوال 

امام عبدالرحمٰن بن علی بن محمد جوزی متوفی 597 ھ لکھتے ہیں۔ اس خزانے کے متعلق تین قول ہیں :

-1 حضرت ابوالدرداء (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا : وہ خزانہ سونے اور چاندی کا تھا۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث :3152، الکامل لابن عدی ج ٧ ص 2823، المسند الجامع رقم الحدیث :11049)

-2 عطاء نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے وہ سونے کی ایک تختی تھی جس پر لکھا ہوا تھا اس شخص پر تعجب ہے جو تقدیر پر یقین رکھتا ہے پھر وہ رنج و غم کرتا ہے، اس شخص پر تعجب ہے جو دوزخ پر یقین رکھتا ہے پھر وہ ہنستا ہے، اس شخص پر تعجب ہے جو موت پر ایمان رکھتا ہے وہ کیسے خوش ہوتا ہے، اس شخص پر تعجب ہے جو رزق پر یقین رکھتا ہے وہ کیوں خود کو تھکاتا ہے، اس شخص پر تعجب ہے جو حساب پر یقین رکھتا ہے وہ کیوں غفلت کرتا ہے، اس شخص پر تعجب ہے جو دنیا کو الٹنے پلٹتے دیکھتا ہے دوسری طرف کلھا ہوا تھا میں اللہ ہوں میرے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے میں واحد ہوں میرا کوئی شریک نہیں ہے میں نے خیر اور شر کو پیدا کیا ہے، اس کے لئے خوشی ہو جس کو میں نے خیر کے لئے پیدا کیا اور اس خیر کو اس کے ہاتھوں سے جاری کیا اور اس کے لئے تابہی ہو جس کو میں نے شر کے لئے پیدا کیا اور اس شر کو اس کے ہاتھوں سے جاری کیا۔

-3 العوفی نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے اس سے مراد علم کا خزانہ ہے۔ مجاہد اور سعید بن جبیر نے کہا اس سے مراد وہ صحائف ہیں جن میں علم ہو، ابن النباری نے کہا اس تقدیر پر معنی یہ ہے اس دیوار کے نیچے خزانہ کثل تھی کیونکہ اموال کی بہ نسبت علم زیادہ نفع آور ہے۔

زجاج نے کہا لغت میں معروف یہ ہے کہ جب صرف خزانے کا ذکر کیا جائے تو اس سے مراد ہوتا ہے وہ مال جس کا ذخیرہ کر کے اس کو دفن کیا جاتا ہو اور جب مال نہ ہو تو کہا جاتا ہے فلاں شخص کے پاس علم کا خزانہ ہے اور اس کے پاس علم کا خزانہ بنے اور کنز کا لفظ مال کے زیادہ مشابہ ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ خزانہ مال ہو اور اس کے ساتھ علم بھی لکھا ہوا ہو، پس وہ مال ہو اور علم عظیم ہ۔ (زاد المسیرج ٥ ص 181-182 مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت، 1412 ھ)

میرے نزدیک کنز (خزانہ) کی وہی صحیح تفسیر ہے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمائی ہے یعنی کنز سے مراد وہ سونا چاندی ہے جو مدفون تھا اور میرے نزدیک رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تفسیر کے بعد اور کسی کی تفسیر دیکھنے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔

یتیم بچوں کے باپ کا تعارف اور مرنے کے بعد بھی مرد صالح کا فیضان 

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (خضر نے کہا) اور ان کا باپ ایک نیک آدمی تھا۔ 

امام عبدالرحمٰن بن محمد ابن ابی حاتم رازی متوفی 327 ھ لکھتے ہیں :

سعید بن جبیر نے کہا ان کا باپ لوگوں کی امانتوں کی حفاظت کرتا تھا اور ان کو ادا کرتا تھا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا ان کے باپ کی نیکیوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان لڑکوں کے مال کی حفاظت کرائی کیونکہ ان کی کوئی نیکی ذکر نہیں فرمائی نیز حضرت ابن عباس نے فرمایا اللہ تعالیٰ باپ کی نیکی کی وجہ سے اس کے بیٹے اور بیٹے کے بیٹے کے ساتھ نیکی فرماتا ہے اور اس کی ذریت کی حفاظت فرماتا ہے اور وہ ہمیشہ اللہ کے ستر اور اس کی حفاظت میں رہتے ہیں۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث :12882، 12883، جامع البیان رقم الحدیث :17543

امام ابو الحسن علی بن احمد واحدی متوفی 468 ھ لکھتے ہیں :

جعفر بن محمد نے کہا ان لڑکوں کے درمیان اور اس نیک باپ کے درمیان سات آباء تھے اور محمد بن منکدر نے کہا کہ اللہ عزہ جل کسی ایک بندے کی نیکی کی وجہ سے اس کی اولاد، اس کی اولاد کی اولاد اور اس کے محلہ والوں کی حفاظت فرماتا ہے۔ (الوسیط ج ٣ ص 163، معالم التنزیل ج ٣ ص 147، النکت والعیون ج ٣ ص 336، زادالمسیر ج ٥ ص 182، تفسیر ابن کثیر ج ٣ ص 110 تفسیر کبیر ج ٧ ص 492، روح المعانی جز 16 ص 19-20)

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی لکھتے ہیں :

وہ ان کی پشت کے اعتبار سے ساتویں باپ تھے۔ ایک قول یہ ہے کہ وہ دسویں باپ تھے، ان کے والد کا نام شح تھا اور ان کی والدہ کا نام دنیا تھا۔ اس آیت میں یہ دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی نیک شخص کی حفاظت بھی فرماتا ہے اور اس کی اولاد کی بھی حفاظت فرماتا ہے خواہ وہ اس سے نسبت میں بعید ہوں اور یہ بھی روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نیک آدمی کی اولاد کی سات پشتوں کی حفاظت فرماتا ہے اور اس پر قرآن مجید کی یہ آیت دلالت کرتی ہے :

ان ولی اللہ الذی نزل الکتب وھو الی یتولی الصالحین (الاعراف :196) (آپ کہئے) بیشک میرا مددگار اللہ ہے جس نے مجھ پر کتاب نازل کی اور وہ صالحین کا ولی ہے۔ (الجامع لاحکام القرآن جز 10 ص 411، مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1415 ھ)

اگر یہ سوال کیا جائے کہ ان لڑکوں کے نیک باپ کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس دیوار کو بنوا دیا لیکن وہ لڑکے اس دیوار کے نیچے سے خزانہ کیسے حاصل کرسکیں گے تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہوسکتا ہے ان لڑکوں کو یا ان کے وصی کو معلوم ہو کہ اس دیوار کے نیچے ان کا خزانہ فون ہے۔

حضرت خضر کے نبی ہونے پر دلیل 

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (خضر نے) کہا میں نے یہ کام اپنی رائے سے نہیں کئے۔ 

یعنی آپ نے جو دیکھا ہے کہ میں نے کشتی کا تختہ توڑ دیا اور ایک لڑکے کو قتل کردیا اور ان کنجوس لوگوں کی بستی میں جو دیوار گرا چاہتی تھی اس کی مرمت کر کے اس کو سیدھا کردیا تو یہ تمام کام میں نے اپنی رائے اور اپنے اجتہاد سے نہیں کئے بلکہ میں نے یہ تمام کام اللہ تعالیٰ کے حکم سے اور اس کی وحی سے کئے ہیں۔ کیونکہ لوگوں کے اموال کو نقصان پہنچانا اور ان میں عیب ڈالنا اور لوگوں کو قتل کرنا اللہ تعالیٰ کی وحی اور نص قطعی کے بغیر جائز نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کسی کو ناحق قتل کرنا اور کسی کا ناحق مال کھانا حرام فرا دیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔

ولاتقتلوالنفس التی حرم اللہ الا بالحق (الانعام :151) اور جس کا خون اللہ تعالیٰ نے حرام کردیا ہے اس کو ناحق قتل مت کرو۔

اسی طرح مال کے متعلق فرمایا :

ولا تقربوا مال الیتیم الا بالتیھی الحسن (الانعام :152) اور نیک طریقہ کے سوا یتیم کے مال کے قریب نہ جائو 

حضرت ابوبکر (رض) بیان کرتے ہیں کہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قربانی کے دن خطبہ دیتے ہوئے فرمایا : تمہاری جائیں اور تمہارے اموال ایک دوسرے پر اس طرح حرام ہیں جیسے آج کے دن، اس مہینہ میں اور اس شہر میں حرام ہیں۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :1741، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :233، مسند احمد رقم الحدیث :20678، عالم الکتب) 

حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منیٰ میں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا : بیشک اللہ نے تم پر ایک دوسرے کی جانوں کو اور ایک دوسرے کے اموال کو اور ایک دوسرے کی عزتوں کو اس طرح حرام کردیا ہے جیسے کہ آج کے دن، اس مہینہ میں اور اس شہر میں یہ چیزیں حرام ہیں۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث 1742، صحیح مسلم رقم الحدیث :66، سنن ابودائود رقم الحدیث :4668، سنن النسائی رقم الحدیث :4125، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :3943)

جب یہ واضح ہوگیا کہ نصوص قطعیہ سے کسی کو ناحق قتل کرنا اور کسی کا مال ضائع کرنا حرام ہے تو پھر یہ حرمت کسی نص قطعی سے ہی مرتفع ہوسکتی ہے اور حضرت خضر (علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ نے یقینا وحی نازل فرمای تھی جس کی بنا پر انہوں نے مسکینوں کی کشتی کو عیب دار کیا اور ایک لڑکے کو قتل کیا۔

حضرت موسیٰ اور حضرت خضر کے واقعہ میں حضرت یوشع بن نون کا کردار 

اس قصہ کے شروع میں ذکر کیا گیا تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنے ساتھ حضرت یوشع بن نون کو بھی لے گئے تھے اور وہ دونوں اپنے پیروں کے نشانات پر واپس گئے اور پھر اس چٹان پر حضرت موسیٰ کی حضرت خضر سے ملاقات ہوئی اس کے بعد حضرت یوشع کا ذکر نہیں آیا۔ جب عکرمہ نے حضرت ابن عباس (رض) سے یہ سوال کیا تو انہوں نے کہا حضرت یوشع بن نون نے آپ حیات پی لیا تھا وہ قیامت تک زندہ رہیں گے۔ حضرت خضر نے ان کو ایک کشتی میں بٹھا کر چھوڑ دیا تھا اور قیامت تک وہ کشتی سمندر میں چلتی رہے گی۔ علامہ قشیری نے کہا اگر یہ روایت ثابت ہو تو پھر یہ نوجوان حضرت یوشع بن نون نہیں تھے۔ کیونکہ حضرت یوشع بن نون تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد زندہ رہے تھے اور ان کے خلیفہ بنے تھے اور زیادہ ظاہر یہ ہے کہ جب حضرت موسیٰ کی حضرت خضر سے ملاقات ہوگئی تھی تو انہوں نے حضرت یوشع کو واپس بھیج دیا تھا اور علامہ ابو عبداللہ قرطبی کے استاذ علامہ ابوالعباس قرطبی نے یہ کہا ہے کہ ہوسکتا ہے حضرت یوشع حضرت موسیٰ کے ساتھ ہی رہے ہوں لیکن اللہ تعالیٰ نے متبوع کے ذکر پر اکتفا کی اور تابع کا ذکر نہیں کیا۔ (الجامع لاحکام القرآن جز 10 ص 411، مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1415 ھ)

حسن کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف اور عیب کی نسبت اپنی طرف کرنا 

حضرت خضر (علیہ السلام) نے جب کشتی کو توڑا تو کہا فاردت ان اعیھا میں نے اس میں عیب ڈالنے کا ارادہ کیا اور جب دو یتیم لڑکوں کی دیوار کو جوڑا تو کہا فارادربک ان یلغا اشدھما ویستخرجا کنزھما تو آپ کے رب نے یہ ارادہ کیا کہ وہ دونوں لڑکے اپنی جوانی کو پہنچ جائیں اور آپ کے رب کی رحمت سے اپنا خزانہ نکال لیں۔

اب یہاں سوال یہ ہے کہ کشتی توڑنے کے متعلق حضرت خضر نے کہا میں نے ارادہ کیا اور دیوار جوڑنے کے متعلق فرمایا آپ کے رب نے ارادہ کیا، ظاہر کے اعتبار سے دونوں کام حضرت خضر نے کئے تھے تو دونوں کے متعلق کہتے میں نے ارادہ کیا اور حقیقت کے اعتبار سے دونوں کام اللہ تعالیٰ نے کئے تھے تو دونوں کے متعلق کہتے کہ آپ کے رب نے ارادہ کیا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت خضر نے توڑنے کی نسبت اپنی طرف کی اور جوڑنے کی نسبت اللہ کی طرف کی اور یہی حسن ادب کا تقاضا ہے کہ عیب کی نسبت اپنی طرف کی جائے اور حس ن کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی جائے۔ اسی طرح اس لڑکے کو قتل کرنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا ہمیں یہ خطرہ ہوا کہ وہ اپنے ماں باپ کو سرکشی اور کفر میں مبتلا کر دے گا اور جب اس کے ماں باپ کے ہاں اس سے بہتر نیک لڑکے کے پیدا ہونے کا ذکر کیا تو کہا فاردنا ان یدلھما ربھما خیرامنہ ہم نے یہ ارادہ کیا کہ ان کا رب اس کے بدلہ میں ان کو اس سے بہتر اور نیک لڑکا عطا کر دے گا، اس میں قتل کی نسبت اپنی طرف کی ہے اور اس کے بدلہ میں نیک بیٹا دینے کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :

ما اصابک من حسنۃ فمن اللہ وما اصابک من سینۃ فمن تفیک (النساء :79) تمہیں جو بھلائی پہنچتی ہے وہ اللہ کی طرف سے ہوتی ہے اور تمہیں جو برائی پہنچتی ہے وہ تمہارے نفس کی وجہ سے ہوتی ہے۔

اسی اسلوب پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا :

واذا مرضت فھو یشفین (الشعراء :80) اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہ مجھے شفا دیتا ہے۔

اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس طرح دعا کرنے کی تعلیم دی ہے :

قل اللھم ملک الملک توتی الملک من تشآء و تنزع الملک ممن تشآء و تعز من تشآء و تذل من تشآء بیدک الخیر (آل عمران) آپ کہے اے اللہ تمام جہان کے مالک ! تو جس کو چاہے ملک عطا فرمائے اور جس سے چاہے ملک چھین لے اور تو جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت دے، تیرے ہی ہاتھ میں خیر ہے۔

خیر اور شر دونوں اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں اور اس کے قبضہ وقدرت میں ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے یہاں صرف خیر کا ذکر فرمایا ہے اور شر کا ذکر نہیں کیا اس کی بھی یہی وجہ ہے کہ اللہ کی طرف حسن اور خیر کی نسبت کی جاتی ہے عیب اور شر کی نسبت نہیں کی جاتی۔

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف بیماری اور بھوک اور پیاس کی بھی نسبت کی ہے۔ حدیث میں ہے :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : بیشک اللہ عزوجل قیامت کے دن ارشاد فرمائے گا اے ابن آدم ! میں بیمار ہوا تو تو نے میری عیادت نہیں کی۔ وہ بندہ کہے گا اے میرے رب ! میں تیری عبادت کیسے کرتا تو تو رب العالمین ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمائے گا کیا تجھ کو معلوم نہیں کہ میرا فلاں بندہ بیمار تھا تو نے اس کی عیادت نہیں کی اگر تو اس کی عیادت کرتا، تو تو مجھے اس کے پاس پاتا۔ اے ابن آدمچ میں نے تجھ سے کھانا مانگا تو نے مجھے کھانا نہیں کھلایا۔ وہ کہے گا اے میرے رب ! میں تجھ کو کیسے کھانا کھلاتا، تو تو رب العالمین ہیچ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا تجھ کو معلوم نہیں کہ میرے فلاں بندے نے تجھ سے کھانا مانگا تھا پس تو نے اس کو کھانا نہیں کھلایا، کیا تجھے معلوم نہیں کہ اگر تو اس کو کھانا کھلا دیتا تو تو اس کو میرے پاس پاتا، اے ابن آدم میں نے تجھ سے پانی طلب کیا تو نے مجھے پانی نہیں پلایا، وہ کہے گا اے میرے رب ! میں تجھ کو کیسے پانی پلاتا حالانکہ تو رب العالمین ہے۔ اللہ فرمائے گا میرے فلاں بندے نے تجھ سے پانی مانگا تھا تو اس کو اپنی نہیں پلایا اگر تو اس کو پانی پلا دیتا تو اس کو میرے پاس پاتا۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث :2569، الادب المفرد رقم الحدیث :517، المسند الجامع رقم الحدیث :14003) 

اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بیمار، بھوکے اور پیاسے بندے کی عزت افزائی کے لئے مرض، بھوک اور پیاس کی اپنی طرف نسبت کی اور اس میں ان لوگوں کی دل جوئی ہے اور ان کی زبوں حالی کی تلافی ہے اور یہ بتانا ہے کہ اگر تندرست اور امیر لوگ اپنے پیسے پر فخر کرتے ہیں تو تمہارے فخر کے لئے یہ کچھ کم تو نہیں ہے کہ تم بیمار ہو تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں بیمار ہوں اور تم بھوکے پیاسے ہو تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں بھوکا پیاسا ہوں، سو اس حدیث میں غریبوں کی تکریم ہے اور امیروں پر عتاب ہے، اور اس حدیث میں جو فرمایا ہے تم مجھے وہاں پاتے اس کا معنی ہے تم میرے ثواب کو وہاں پاتے یا میری رضا کو وہاں پاتے۔ 

صفاء باطن کا دعویٰ کر کے احکام شرعیہ سے استغناء ظاہر کرنا زندیقی ہے۔

علامہ ابو العباس مالکی قرطبی نے کہا ہے کہ بعض زندیق یہ کہتے ہیں کہ یہ احکام شرعیہ عامہ تو انبیاء (علیہم السلام) اور عام لوگوں کے لئے ہیں اور جو اولیاء اور خواص ہیں وہ نصوص ظاہرہ پر عمل کرنے کے محتاج نہیں ہیں بلکہ ان کے احکام وہ ہیں جو خود ان کے دلوں پر وارد ہوتے ہیں وہ کہتے ہیں ان کے دل میل کچیل اور زنگ سے صاف ہوتے ہیں اس لئے ان کے دلوں میں علوم الہیہ کی تجلیات ہوتی ہیں اور ان پر حقائق ربانیہ منکشف ہوتے ہیں وہ اسرار کائنات سے واقف ہوتے ہیں اور ان کو جزئیات کے احکام کا علم ہوتا ہے، اس وجہ سے وہ قواعد شرعیہ کے احکام سے مستغنی ہوتے ہیں جیسا کہ حضرت خضر کے ساتھ معاملہ پیش آیا۔ دل سے فتویٰ لو خواہ مفتی کچھ بھی کہتے رہیں۔

ہمارے شیخ (رض) نے کہا یہ قول کفر اور زندیقی ہے اور اس کے قائل کو فوراً قتل کردیا جائے گا اور اس سے توبہ طلب نہیں کی جائے گی، کیونکہ اس قو ول میں ان چیزوں کا انکار ہے جو ہم کو شریعت سے معلوم ہوئیں اور اللہ تعالیٰ کی سنت جاریہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام ہمیں ان رسولوں کے واسطے سے معلوم ہوتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کی مخلوق کے درمیان سفیر میں وہی اللہ تعالیٰ کا کلام اور اس کا پیغام ہم تک پہنچاتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

کان الناس امۃ واحدہ فبعث اللہ النبین مبشرین و منذرین (البقرہ 213) تمام لوگ ایک گروہ تھے پھر اللہ نے نبیوں کو بشارت دینے والا اور عذاب سے ڈرانے والا بنا کر بھیجا۔

پس اس آیت سے اور مسلمانوں کے اجماع سے یہ ثابت ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ کے احکام معلوم ہونے کا ذریعہ صرف انبیاء (علیہم السلام) کی تعلیمات ہیں۔ پس جس شخص نے یہ کہا رسولوں کی تعلیم کے علاوہ اللہ تعالیٰ کے احکام معلوم کرنے کا کوئی اور ذریعہ ہے یا جس شخص نے یہ کہا کہ وہ اپنے دل سے احکام حاصل کرتا ہے اور اس کے تقاضوں پر عمل کرتا ہے اور اس کو کتاب اور سنت کی کوئی ضرورت نہیں ہوے وہ شخص اپنے لئے نبوت کا مدعی ہے سو وہ شخص کافر ہے اور واجب القتل ہے۔ (الجامع لاحکام القرآن جز 10 ص 413، 412 مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1415 ھ)

تصوف کے جھوٹے مدعی 

بعض تصوف کے جھوٹے مدعی خلاف شرع کام کرتے ہیں اور اگر ان کو کوئی عالم ان کاموں سے منع کرے تو وہ کہتے ہیں کہ یہ علم ظاہر کی باتیں ہیں اور ہم کو علم باطن کا علم ہے یا کہتے ہیں کہ علماء شریعت کی بات کرتے ہیں اور ہم طریقت اور معرفت کی بات کرتے ہیں اور پھر حضرت موسیٰ اور خضر کی مثالیں پیش کرتے ہیں اور اپنے آپ کو حضرت خضر کے پائے گا شخص ثابت کرتے ہیں ان لوگوں کا زور اس پر ہوتا ہے کہ حضرت خضر ولی تھے اور وہ ولی کو نبی سے افضل بتاتے ہیں اور خلاف شرع کاموں پر حضرت خضر (علیہ السلام) کے کاموں سے سند لاتے ہیں۔

علماء باطن کی تعریف 

علماء باطن سے مراد وہ لوگ ہیں جو عارف باللہ ہیں اور جن کو اللہ تعالیٰ نے سب سے افضل کاموں کی توفیق دی ہے اور جو ہرحال میں اپنے آپ کو تمام ممنوع کاموں سے محفوظ رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان سے حجابات اٹھا دیتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی اس طرح عبادت کرتے ہیں کہ گویا اس کو دیکھ رہے ہیں اور وہ اللہ کے ماسوا کی محبت کو ترک کر کے صرف اس کی محبت میں مشغول رہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کو اپنے ملک کے عجائب اور اپنی حکمتوں کے غرائب پر مطلع فرماتا ہے اور ان کو اپنے حضرت قدس کے قریب کرتا ہے اور ان کے دلوں کو اپنے جمال اور جلال سے بھر دیتا ہے اور ان کے دلوں میں اپنے انوار اور اسرار اور معارف کے خزائن اور لطائف کے معاون رکھتا ہے اور ان کی وجہ سے دین کے متروک طریقوں اور شعائر کو زندہ کرتا ہے۔ ان مریدین کو نفع پہنچتا ہے اور حاجت مندوں کی فریاد رسی ہوتی ہے اور شہر کے لوگوں کی اصلاح ہوتی ہے۔

علماء ظاہر کی تعریف 

علماء ظاہر سے مراد وہ لوگ ہیں جو علوم کسبیہ کے ماہر ہوتے ہیں اور دلائل عقلیہ اور نقلیہ کے حافظ ہوتے ہیں تو علماء باطن علماء ظاہر سے افضل ہوتے ہیں۔ ہرچند کو علماء ظاہر بھی بہت بڑی فضیلت کے حامل ہوتے ہیں بلکہ بعض جزوی اعتبار سے یہ علماء باطن سے افضل ہوتے ہیں بشرطیکہ علماء ظاہر صالح اور پاکباز ہوں اور کبائر سے مجتنب ہوں، کیونکہ جو علماء نیکی سے خالی ہوں وہ اللہ کے غضب اور اس کے عذاب کے خطرہ میں ہیں اور احادیث میں ان کے لئے سخت وعیدیں ہیں۔ اس پر حضرت موسیٰ اور حضرت خضر کے واقعہ سے معارضہ نہ کیا جائے کیونکہ تحقیق یہ ہے کہ حضرت خضر (علیہ السلام) نبی تھے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان سے اجماعاً افضل ہیں اور وہ بہت خصوصیات کی بناء پر حضرت خضر سے ممتاز ہیں۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ حضرت خضر (علیہ السلام) عالم غیب کی چند ایسی جزئیات پر مطلع تھے جن کی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اطلاع نہیں تھی، اس وجہ سے انہوں نے حضرت خضر (علیہ السلام) کی شاگردی اختیار کی اور ان کے سامنے بہت ادب اور تواضع کو اختیار کیا۔

علماء ظاہر کی علماء باطن پر فضیلت 

علماء ظاہر کی علماء باطن پر فضیلت کی ایک وجہ یہ ہے کہ علم کا شرف معلوم کے شرف سے ہوتا ہے اور علم کا شرف اس کی غرض و غاغیت کے شرف کے اعتبار سے ہوتا ہے، سو جو علوم اللہ تعالیٰ کی ذات، اس کی صفات اور اس کے افعال سے متعلق ہوں وہ اشرف العلوم ہیں (جیسے علم کلام) اور ان علوم کے حاملین اشرف العلماء ہیں اور اس کے قریب علم فقہ ہے کیونکہ اس کی غرض وغایت اللہ تعالیٰ کے احکام کی معرفت ہے اور اس شرع کی معرفت ہے جس کے مطابق بندے اس کی عبادت کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی معرفت اور اس کی عبادت کی معرفت میں تمام علوم ان دو علموں (علم کلام اور علم فقہ) کے لئے وسیلہ ہیں، کیونکہ نص 

نے جنات اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا وہ وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون (الذاریات :56) سو جس نے ان علموں کو حاصل کیا اور ان کے تقاضوں پر عمل کیا وہ مقصود اعظم پر پہنچ گیا ورنہ وہ نقصان اٹھانے والا اور جاہل ہے خواہ وہ صورۃ عالم ہو۔

علماء باطن کی علماء ظاہر پر فضیلت 

علماء باطن کی علماء ظاہر پر فضیلت کی وجہ یہ ہے کہ علم لدنی کے حاملین اولیاء اور صدیقین ہوتے ہیں اور علم ظاہر کو ہر شخص حاص کرلیتا ہے حتیٰ کہ فساق، فجار اور بد مذہب اور زندیق بھی علم ظاہر کو حاصل کرلیتے ہیں۔ شیخ سہروردی نے عوارف المعارف میں کہا دنیا کی محبت کے ساتھ اور حقائق تقویٰ کو ترک کر کے ہر علم کو حاصل کیا جاسکتا ہے، بلکہ بعض اوقات دنیا کی محبت ان علوم کی تحصیل میں معاون ہوتی ہے کیونکہ دنیا کے بڑے مراتب اور بڑے منصاب کا حصول ان علوم پر موقف ہوتا ہے، اس لئے انسان راتوں کو جاگ کر اور مشقت اور تکلیف برداشت کر کے ان علوم کو حاصل کرتا ہے اور ان میں کمال کو پہنچ جاتا ہے اور علم لدنی اور علم باطن کو دنیا کی محبت کے ساتھ حاصل نہیں کیا جاسکتا اور یہ علم اس وقت تک حاصل نہیں ہوتا جب تک انسان اپنی خواہشات اور نفس امارہ کی مخالفت نہ کرے اور اس کے بغیر انسان مدارس تقویٰ میں داخل نہیں ہوسکتا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

واتقوا اللہ وبعلیمکم اللہ (البقرہ :282) تم اللہ سے ڈرو (متقی بنو) اور اللہ تم کو علم عطا فرما دے گا۔ 

علماء باطن کی علماء ظاہر پر فضیلت کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ اس علم سے اس کے عالم کو کتنا فائدہ پہنچتا ہے اور دوسروں کو کتنا فائدہ پہنچتا ہے اور عارفین ہی وہ لوگ ہیں جو اپنے علوم سے خود بھی فائدہ اٹھاتے ہیں اور دورسوں کو بھی نفع پہنچاتے ہیں۔ انہوں نے جو فائدہ اٹھایا وہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنے دلوں کو ماسوی اللہ سے پاک کرلیا اور ان کے قلوب اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کی معرفت سے معمور ہوگئے اور انہوں نے مخلوق کو جو فائدہ پہنچایا وہ یہ ہے کہ ان کی برکت بندوں کی فریاد درسی کرتی ہے اور ان کی برکت سے زمین سے فساد دور ہوتا ہے۔

علماء باطن کی فیض آفرینی پر قرآن مجید، احادیث اور آثار سے دلائل 

قرآن مجید میں :

ولولا دفع اللہ الناس بعضھم بعض لفسدت الارض (البقرہ :25) اور اگر اللہ بعض لوگوں کو بعض سے دور نہ کرتا تو زمین میں فساد ہوجاتا۔

حافظ ابن کثیر و مشقی متوفی 774 ء اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں۔

حضرت ثوبان (رض) کرتے ہیں کہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں ہمیشہ سات شخص ایسے رہیں گے جن کی برکت سے تمہاری مدد کی جائے گی اور جن کے وسیلہ سے تم پر بارشیں نازل ہوں گی اور جن کی وجہ سے تم کو رزق دیا جائے گا حتیٰ کہ قیامت آجائے گی۔

حضرت عبادۃ بن الصامت (رض) بیان کرتے ہیں کہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری امت میں تین ابدال ہیں، ان کی وجہ سے تم کو رزق دیا جاتا ہے اور ان کی وجہ سے تم پر بارشیں ہوتی ہیں۔ فتادہ نے کہا میرا گمان ہے کہ حسن بصری بھی انہیں میں سے ہیں۔ (تفسیر ابن کثیر ج ١ ص 346، مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1419 ھ)

امام ابن جریر اپنی سند کے ساتھ حضرت ابن عمر (رض) سے روایت کرتے ہیں :

(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک اللہ ایک مومن صالح کی برکت سے اس کے پڑوس کے سو گھروں سے مصائب کو دور کردیتا ہے۔ پھر حضرت ابن عمر نے یہ آیت پڑھی ولولا دفع اللہ الناس بعضھم بعض نفسدت الارض۔ (جامع البیان رقم الحدیث :4489، کتاب الضعفاء للعقیلی ج ٤ ص ٤٤، الکامل لا بن عدی ج ٣ ص 274، مجمع الزوائد ج ٨ ص 167، الجامع الصغیر رقم الحدیث :1794)

علامہ ابو عبد اللہ محمد بن احمد قرطبی مالکی متوفی 668 ھ لکھتے ہیں :

حکیم ترمذی متوفی 329 ھ نے نو اور الاصول میں حضرت ابوالدرداء (رض) سے روایت کیا ہے کہ انبیاء زمین کی میخیں ہیں اور جب نبوت منقطع ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی جگہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت سے ایک قوم کو پیدا کر دین جن کو ابدال کہا جاتا ہے، وہ زیادہ روزوں اور زیادہ نمازوں کی وجہ سے لوگوں پر فضیلت نہیں رکھتے لیکن وہ حسن اخلاق خدا خوفی، حسن نیت تمام مسلمانوں کے لئے دلوں میں خیر خواہی اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی، صبر، حلم، عقلمندی اور تواضح کی وجہ سے فضیلت رکھتے ہیں۔ وہی انبیاء (علیہم السلام) کے خلفاء ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے لئے پسند کرلیا اور ان کو اپنے لئے خاص کرلیا۔ وہ چالیس صدیق ہیں، ان میں سے تیس ایسے اشخاص ہیں جن کا یقین حضرت ابراہیم خلیل الرحمٰن کی مثل ہے۔ ان کی برکت سے اللہ تعالیٰ زمین والوں سے آفتوں اور مصائب کو دور فرماتا ہے، ان ہی کی وجہ سے ان پر بارشیں ہوتی ہیں اور ان کو رزق دیا جاتا ہے۔ ان میں سے جو شخص بھی فوت ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی جگہ اس کا بدل پیدا فرما دیتا ہے۔ (نو اور الاصول ج ١ ص 262، مطبوعہ دارالجیل بیروت، 1412 ھ)

اکثر مفسرین نے بیان کیا ہے کہ اگر اللہ نمایزوں کی وجہ سے بےنمازیوں سے عذاب دور نہ فرماتا اور متقین کی وجہ سے غیر متقین سے عذاب دور نہ فرماتا تو لوگ اپنے گناہوں کی وجہ سے ہلاک ہوجاتے اور اگر اللہ نیک مومنوں کی وجہ سے فساق اور کفار سے عذاب دور نہ فرماتا تو زمین میں فساد ہوجاتا۔

حدیث میں ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ میری امت کے نمازیوں کی وجہ سے بےنمازیوں سے عذاب دور کردیتا ہے اور زکوۃ دینے والوں کی وجہ سے زکوۃ نہ دینے والوں سے عذاب دور فرما دیتا ہے اور روزہ داروں کی برکت سے ان سے عذاب دور کردیتا ہے جو روزہ نہیں رکھتے اور حجاج کی وجہ سے ان لوگوں سے عذاب دور کردیتا ہے جو حج نہیں کرتے اور مجاہدوں کی وجہ سے ان لوگوں سے عذاب دور کردیتا ہے جو جہاد نہیں کرتے اور اگر سب لوگ ان احکام کے ترک کرنے پر جمع ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ ان کو پلک جھپکنے کی بھی مہلت نہ دے۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ٣ ص 235، مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1415 ھ) 

ان احادیث اور آثار کی تائید اس صحیح حدیث سے ہوتی ہے :

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب تک زمین میں اللہ اللہ کہا جاتا رہے گا قیامت قائم نہیں ہوگی۔ (صحیح مسلم الایمان :234 (148) الرقم المسلسل :368، سنن الترمذی رقم الحدیث :2207 مسند احمد ج ٣ ص 107 المستدرک ج ٤ ص 494، السمند الجامع رقم الحدیث :1617)

علماء باطن اور عارفین کی فیض آفرینی کے واقعات 

علامہ احمد بن محمد بن علی بن حجر ہیتمی مکی متوفی 974 ھ لکھتے ہیں :

ایک عارف کے شاگرد نے کسی عورت سے بدکاری کا ارادہ کیا اچانک اس نے دور دراز کے ایک شہر سے اپنے شیخ آواز سنی یہ تم کیا کر رہے ہو ! تو وہ شاگرد ڈر کر بھاگ گیا۔ 

اسی طرح کا ایک اور واقعہ ہوا ایک عارف کے کسی مرید نے بدکاری کا ارادہ کیا شیخ نے اس کو زور سے طمانچہ مارا جس سے اس کی آنکھ نکل گئی۔ وہ تائب ہو کر اپنے شیخ کے پاس حاضر ہوا اور کہا میں توبہ کرتا ہوں آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ میری آنکھ لوٹا دے شیخ نے کہا ٹھیک ہے لیکن تم مرتے وقت اندھے ہو جائو گے۔ شیخ نے دعا کی اس کی آنکھ لوٹ آئی لیکن موت سے تین دن پہلے وہ اندھا ہوگیا۔

اسی طرح شیخ ابوالغیث بن جمیل یمنی کے ساتھ ایسا واقعہ ہوا ان کا عجم میں ایک مرید تھا اس نے کسی عورت سے بدعفلی کا ارادہ کیا، انہوں نے غصہ میں آ کر وہیں سے اپنی کھڑائوں کھینچ کر ماری اور فقراء کے سامنے بہت غیظ و غضب کا اظہار کیا۔ ان کو سمجھ نہیں آیا کہ کیا ہوا ہے حتیٰ کہ ایک ماہ بعد وہ عجمی شاگرد اس کھڑائوں کو لے کر آیا اور اس نے اس گناہ سے توبہ کی۔

اسی طرح شیخ جیلانی نے وضو کرنے کے بعد اپنی دونوں کھڑائوں زور سے پھینکیں، وہاں جو حاضر فقراء تھے ان کو پتا نہیں چلا کہ اس کا کیا سبب ہے حتی کہ 23 دن بعد ایک قافلہ آیا، ڈاکوئوں نے ان کے اموال کو لوٹ کر آپس میں تقسیم کر لئے اور وہ قافلے والے سب ماجرا دیکھ رہے تھے۔ پھر انہوں نے یہ نذر مانی کہ اگر انہوں نے ان ڈاکوئوں سے نجات پا لی تو وہ حضرت شیخ کی خدمت میں کوئی ہدیہ پیش کریں گے پھر اچانک انہوں نے چیخنے کی آوازیں سنیں اور وہی ڈاکوئوں کے اموال لے کر آگئے اور بتایا کہ دو کھڑا ئوں آئیں اور انہوں نے آ کر ان کے سردار کو قتل کردیا جب انہوں نے ان کھڑائوں کو پکڑا تو وہ کیفی تھی وہ ان کو لے حضرت شیخ کے پاس آگئے۔ (فتاویٰ حدیثیہ ص 408-407 مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت 1419 ھ)

واضح رہے کہ نذر ماننا عبادت ہے۔ علامہ ابن حجر مکی بہت بڑے عالم ہیں ملا علی قاری کے استاذ ہیں اور ان کی بہت تصانیف ہیں۔ انہوں نے یہ نہیں لکھا کہ قافلہ والوں نے حضرت شیخ سے یہ عرض کیا کہ اگر آپ نے ہمیں ان ڈاکوئوں سے نجات دے دی تو ہم آپ کی خدمت میں کچھ ہدیہ پیش کریں گے اگر وہ ایسا کہتے تو یہ صریح شرکت ہوتا کیونکہ نذر ماننا عبادت ہے اور غیر اللہ کی نذر ماننی جائز نہیں ہے۔ اس عبارت کا صحیح محمل یہ ہے کہ انہوں نے اللہ سے نذر مانی کہ اگر اللہ نے ان کو ان ڈاکوئوں سے نجات دے دی تو وہ اللہ کی رضا کے لئے اللہ تعالیٰ کے ولی حضرت شیخ جیلانی کی خدمت میں ہدیہ پیش کریں گے، لیکن ان کی یہ نذر صحیح نہیں تھی کیونکہ اللہ کے ولی کو ہدیہ پیش کرنا ہرچند کہ مستحسن کام ہے لیکن یہ عبادت مقصودہ نہیں ہے تاہم اللہ تعالیٰ نے اپن محبوب بندہ کی وجاہت اور کرامت کو ظاہر کرنے کے لئے حضرت شیخ کو یہ تصرف عطا کیا کہ ان کی کھڑائوں سے ایک ڈاکو مارا گیا اور افلہ والوں کو اپنا مال واپس مل گیا ہمیں حضرت شیخ جیلانی کی عظمتوں کا احترام بھی محلوظ ہے اور حدود و شریعت کی رعایت بھی پیش نظر ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 18 الكهف آیت نمبر 82